سوچتی تھی کہ کبھی جیل سے نکلوں گی بھی کہ نہیں۔آسیہ بی بی

لندن(آگاہی نیوز)پاکستان میں توہینِ مذہب کے مقدمے میں موت کی سزا پانے اورپھر سپریم کورٹ میں دائر اپیل کے بعد بری ہونے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی نے کہا ہے کہ دنیا کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان میں توہینِ مذہب کے قوانین کی وجہ سے کئی لوگ اب بھی جیل میں ہیں۔توہین مذہب کے مقدمے میں آسیہ بی بی کو آٹھ سال قید میں رکھا گیا تھا لیکن اکتوبر 2018 خ س میں پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے ان الزامات کو غلط قرار دیتے ہوئے انھیں بری کر دیا تھا۔آسیہ بی بی کو رہائی کے بعد پاکستان میں ایک نامعلوم محفوظ مقام پرمنتقل کردیا گیا تھا کیونکہ ان کی رہائی کے فیصلے پر ملک میں شدت پسند مذہبی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا اورسپریم کورٹ سے باعزت بری ہونے کے بعد آسیہ تقریباً تین ماہ قبل پاکستان سے کینیڈا چلی گئی تھیں۔رطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کو دیے گئے انٹرویو میں آسیہ بی بی کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھیں پاکستان چھوڑنے کا بہت دکھ ہے۔اپنے انٹرویو میں آسیہ بی بی نے کہا کہ گو کہ وہ عالمی سطح پر اپنی رہائی کے لیے کی جانے والی کوششوں کے لیے شکر گزارہیں مگر دنیا کے سامنے یہ بات لانا ضروری ہے کہ پاکستان میں توہینِ مذہب کے قانون کی وجہ سے کئی لوگ اب بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔انھوں نے کہا کہ وہ اپنی بریت پرپاکستان کی عدالتِ عظمیٰ کی شکرگزارہیں تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ توہینِ مذہب کے دیگر ملزمان کے مقدمات کا فیصلہ بھی منصفانہ بنیادوں پرہوناچاہیے۔انھوں نے کہا کہ ایسے اور بہت سارے کیسز ہیں جن میں ملزمان کئی سالوں سے جیلوں میں ہیں اور اُن کے فیصلے بھی انصاف کی بنیاد پر ہونے چاہییں۔ دنیا کو اُن کی بات بھی سننی چاہیے۔برطانوی اخبار کے مطابق آسیہ بی بی کا یہ بھی کہنا تھا کہ پیغمبرِ اسلام کی توہین کے غلط الزام میں سزا پانے کی وجہ سے اُن کی زندگی برباد ہو گئی۔توہینِ مذہب کے قانون کے استعمال کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں پوری دنیا سے گزارش کرتی ہوں کہ وہ اس مسئلے پرغورکریں۔ جس طرح کسی شخص پر بھی بغیر باقاعدہ تحقیقات اورشواہد کے توہینِ مذہب کا الزام لگا دیا جاتا ہے اس کا نوٹس لینا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ توہین مذہب/رسالت کے قانون کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے اوراس قانون کے لاگو کیے جانے کے لیے تحقیقات کا باقاعدہ نظام ہونا چاہیے۔اپنی اسیری کے دنوں کا ذکر کرتے ہوئے آسیہ کا کہنا تھا کہ کبھی کبھی میں اتنی دلبرداشتہ ہو جاتی تھی کہ ہمت ہاردیتی تھی اورسوچتی تھی کہ کبھی جیل سے نکلوں گی بھی کہ نہیں۔آگے کیا ہو گا؟کیا میں ساری زندگی یہیں گزاروں گی؟جیل میں اپنی بچیوں سے ملاقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب میری بیٹیاں مجھ سے جیل میں ملنے آتی تھیں تو میں کبھی اُن کے سامنے نہیں روتی تھی مگر جب وہ چلی جاتی تھیں تو تنہائی میں غم اور تکلیف میں رویا کرتی تھی۔ مجھے ہروقت ان کا خیال آتا تھا کہ وہ کیسے جی رہی ہوں گی۔آسیہ بی بی نے بتایا کہ ایک طویل عرصہ جیل میں گزارنے اورپھر سپریم کورٹ سے بری کیے جانے کے بعد جب وہ وقت آیا کہ انھیں اپنی آزادی کے لیے بغیر اپنے عزیر و اقارب سے ملے اور اپنا آبائی علاقہ دیکھے بغیر ملک چھوڑنا پڑا تو ان کا دل ٹوٹ گیا۔ان کا کہنا تھا کہ اپنے خاندان والوں سے ملے بغیرملک چھوڑنے پر میرا دل ٹوٹ گیا۔پاکستان میرا وطن ہے۔مجھے اپنے ملک سے محبت ہے۔ مجھے اپنی مٹی سے محبت ہے۔

Agahi News

Read Previous

پاپائے اعظم فرانسس 25 منٹ لفٹ میں پھنسے رہے

Read Next

آرچ بشب جوزف ارشد کی قیادت میں کشمیریوں کی حمایت میں ریلی

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے