سیف الملوک ایڈووکیٹ سزائے موت کے مسیحی جوڑے کا کیس لڑیں گے

لاہور(آگاہی نیوز) آسیہ بی بی کے وکیل کی حیثیت سے شہرت پانے والے اور اس کو کامیابی سے کیس لڑ کر سپریم کورٹ سے بری کروانے والے وکیل سیف الملوک اب ملتان جیل میں مقید توہین مذہب کے کیس میں سزائے موت پانے والے مسیحی جوڑے کی لاہور ہائی کورٹ میں وکالت کریں گے۔اس سلسلہ میں سیف الملوک نے بتایا ہے کہ اس نے مسیحی جوڑے شگفتہ کوثراور شفقت مسیح سے وکالتنامے پر دستخط کروالئے ہیں۔اس جوڑے کو ماتحت عدالت سے قاتون توہین مذہب کے تحت سزائے موت اور بھاری جرمانہ سنایا جاچکا ہے اور اب ان کی اپیل ہائی کورٹ میں زیرالتواء پڑی ہے۔اس جوڑے کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت سیشن جج ٹوبہ ٹیک سنگھ نے اپریل 2014 میں سزاسنائی تھی۔

اس کیس کی تفصیلات کے مطابق ٹوبہ ٹیک سنگھ کے رہائشی محمد حسین نے الزام عائد کیا تھا کہ مسیحی جوڑے کی جانب سے اس کو موبائل پر قابل اعتراض ایس ایم ایس بھیجے گئے تھے۔جب اس نے یہ ایس ایم ایس اپنے دیگر ساتھیون کو دکھائے تو انہوں نے اس کو مقدمہ درج کروانے کی رائے دی۔جب اس نے یہ کیس مقامی وکیل کو سنایا تو اس کے موبائل پر بھی نامناسب میسج آئے۔پولیس کی تفتیش میں دونوں میاں بیوی کو قصور وار قراردیا گیا۔ پولیس نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ دونوں نے جرم تسلیم کرلیا۔ادھر مسیحی جوڑے کا مئوقف ہے کہ ان کو اس کیس میں ملوث کرنے کی وجہ چند ماہ قبل بچوں کے درمیاں ہونے والا جھگڑا ہے جس میں ہمارے پڑوسی سے تعلقات کشیدہ ہوئے۔ مسیحی خاتون شگفتہ کوثر کا کہنا ہے کہ اس کو شک ہے کہ اس کے شناختی کارڈ کی کاپی حاصل کرکے اس کے نام موبائل سم لی گئی جبکہ انہوں نے کبھی کسی فرنچائز سے سم نہیں خریدی۔اسی سم سے قابل اعتراض ایس ایم ایس بھیجے گئے جن سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔میرا شوہر ایک معذور آدمی ہے جو چلنے ہھرنے سے بھی قاصر ہے۔ہم دونوں ان پڑھ ہیں جبکہ موبائل میسج انگریزی الفاظ میں لکھے گئے ہیں۔دوران سماعت ہماری استدعا کو ٹھیک طور پر نہیں سنے اور ہمیں سزا سنادی۔یہ کیس لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس عالیہ نیلم کی عدالت میں زیرسماعت ہے۔آخری سماعت امسال فروری میں بغیر کسی کارروائی کے ملتوی کردی گئی تھی۔

Agahi News

Read Previous

لاہورہائی کورٹ نے شمع وشہزاد کیس کے 2 ملزمان بری کردئیے 3ملزمان کی سزائے موت کو برقرار رکھا گیا

Read Next

سوشل میڈیا کو تعصب پسندی کے پلیٹ فارم کے طور پراستعمال کیا جارہاہے۔سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے