لاڑکانہ میں ہندو میڈیکل طالبہ کی ہوسٹل سے نعش برآمد

لاڑکانہ(آگاہی نیوز)بے نظیربھٹو میڈیکل یونی ورسٹی کے ماتحت بی بی آصفہ ڈینٹل کالیج کی سال چہارم کی زیر تعلیم ہندو طالبہ نمرتاکماری کی نعش گرلزپاسٹل سے برآمد ہوئی ہے۔یونی ورسٹی انتظامیہ کی جانب سےنعش کو چانڈکا میڈیکل کالج اسپتال لایا گیا۔لاش کے ابتدائی معائنے کے بعد اس کے پوسٹ مارٹم کا فیصلہ کیا گیا۔طالبہ کا تعلق گھوٹکی سے بتایا جاتا ہے جس کے گھروالے کراچی میں مقیم ہیں۔ان سے رابطہ کیا جارہا ہے تاکہ قانونی کارروائی کی تکمیل پر نعش ان کے حوالے کی جائے۔چانڈکا میڈیکل کالیج کے پرنسپل ڈاکٹر کے داس اوروائس چانسلر ڈاکٹرانیلاعطاء الرحمان بھی اسپتال میں موجود تھے۔ وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ نمرتا کی موت پراسرارطور پر ہوئی ہے جس کی تحقیقات ہونگی۔انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پولیس کو اس بارے میں خط لکھ دیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ قتل ہے یا خودکشی اس بارے میں مکمل جانچ کے بعد ہی کوئی حتمی رائے دی جاسکتی ہے۔نمرتا ان دنوں چھٹیوں پر تھی اورامتحانات کی تیاری کررہی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نمرتا کے گلے پر رسی کا نشان موجود ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے خودکشی کی ہے۔پولیس نمرتا کے موبائل فون کی تلاش میں ہے جس سے تحقیقات میں مددملے گی۔اس واقعے کے بعد گرلز ہاسٹل نمبر 3 کو انتظامیہ کی جانب سے سیل کردیا گیا ہے۔

Agahi News

Read Previous

مقدسہ ماں مریم ہمدردی اور رحمت کا وسیلہ ہے (فادر بابر خوشی)

Read Next

گھوٹکی میں مندرکی بےحرمتی پرتوہینِ مذہب کا مقدمہ درج

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے