لاہورہائی کورٹ نے شمع وشہزاد کیس کے 2 ملزمان بری کردئیے 3ملزمان کی سزائے موت کو برقرار رکھا گیا

0
338

لاہور(آگاہی نیوز)لاہور ہائی کورٹ نے سانحہ کوٹ رادھاکشن میں مسیحی جوڑے شمع وشہزاد مسیح کو بھٹے میں زندہ جلانے کے واقعہ میں ملوث دو ملزمان کو بری کردیا جبکہ 3 ملزمان کی سزائے موت کو برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا ہے۔جسٹس محمد قاسم خان کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے سانحہ کوٹ رادھا کشن کیس میں مجرمان کی اپیلوں پر یہ فیصلہ سنایا۔عدالت نے سزائے موت کے جن 2 مجرمان کو بری کرنے کا حکم دیا، ان میں حنیف اور حافظ اشتیاق شامل ہیں۔عدالت نے 3 مجرموں کی سزائے موت کو برقرار رکھتے ہوئے اپیلیں خارج کردیں، ان مجرموں میں عرفان، ریاض اور مہدی خان شامل تھے جن کو 4، 4 مرتبہ سزائے موت دینے کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا

۔دوران سماعت مجرمان کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ انسداد دہشتگردی کی عدالت نے قانون کو مد نظر رکھے بغیر فیصلہ جاری کیا جبکہ تمام مجرمان کو مقدمے میں بعد میں نامزد کیا گیا تھا۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ تمام مجرمان کو بری کرنے کا حکم دیا جائے۔دوسری جانب سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ تمام مجرمان کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں اور ساتھ ہی استدعا کی تھی کہ مجرمان کی سزا کے خلاف اپیل خارج کی جائے۔خیال رہے کہ مجرمان نے کوٹ رادھا کشن میں مسیحی میاں بیوی کو قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے الزام میں زندہ جلا دیا تھا اور اس کیس میں 105 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا۔انسداد دہشت گردی عدالت نے 5 مجرمان کو 4، 4 مرتبہ سزائے موت سنائی تھی جبکہ دیگر مجرمان، حارث، ارسلان اور منیر کو 2، 2 سال قید کی سزا سنائی تھی۔یاد رہے کہ نومبر 2014 خ س میں لاہور سے 60 کلومیٹر دور قصور کےعلاقے کوٹ رادھا کشن میں ایک اینٹھوں کے بھٹہ پرمشتعل ہجوم نے قرآن کی مبینہ بے حرمتی پرایک مسیحی جوڑے کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاشوں کو جلا دیا تھا۔



جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں