نظم

فریفتہ عجیب دوست ہے میرے کاموں کا حِساب رکھتا ہے اُسے اگر پوچھوں تو و ہ انوکھا جواب رکھتا ہے لِکھ لِکھ کے اُس نے اوراق بھردیئےہیں ہر وقت اپنی بغل میں وہ کتاب رکھتا…