سال کے دوران تنتیسواں اتوار (سالِ اول)

0
89

تحریروتحقیق: فادر سجاد منظور

خدا ہم سے متنوع انداز مین ہمکلام ہوتا ہے اور ان میں لطوریا کی تلاوتیں بھی ایک ذریعہ ہیں۔ آج کی تلاوتوں میں پہلی تلاوت بیوی وفاداری اوردانائی کی بات کرتی ہے جو خدا کی طرف سے ایک تحفہ ہے۔ آج کا زبور خدا کی راہ پر چلنے کو مبارک ہونے کا ذریعہ قرار دیتا ہت دوسری تلاوت مین مقدس پولوس رسول تسالو نیکیوں کی تربیت کرتا نظر آتا ہے اور آج کی انجیلِ مقدس میں یسوع قنطاروں کی بات کرتا ہے۔ آج کے کلام کا حاصل ایمانداری، وفاداری اور سمجھ لینا ہے کہ مالک خدا کی ذات ہے ہمیں سونپا گیا ہے۔
پہلی تلاوت
امثال ۱۳:۰۱۔۳۱،۹۱۔۰۲،۰۳۔۱۳
آج کی پہلی تلاوت میں دانا عورت کی خوبیوں کو بیان کیا گیا ہے بلکہ تعریف کی گئی ہے۔کیونکہ وہ اپنی صلاحیت اور خوبیوں کی وجہ سے اپنے شوہر کے لئے خوشی کا باعث بنتی ہے۔ ایک وفادار اور عقلمند بیوی خدا کی طرف سے انمول تحفہ ہے جو شادی شدہ زندگی کو مزید خوبصورت بنادیتا ہے۔امثال کی کتاب میں مرقوم ہے، ”اس کی قدر موتیوں سے بھی زیادہ ہے۔“ مزید یہ کہ”وہ غریبوں کی ہتھیلی کھولتی ہے اور مسکین کیلئے ہاتھ بڑھاتی ہے“۔ آج کی پہلی تلاوت میں بیوی کا وفادار ہونا ہم سے بھی باثمر ہونے کا تقاضا کرتی ہے۔روزمرہ زندگی میں ہماراواسطہ بہت سے کاموں سے پڑتا ہے لیکن ہماری زندگی باثمر اُس وقت ہوتی ہے جب ہم یسوع مسیح سے جُڑے رہتے ہیں۔
دوسری تلاوت
۱۔تسالونیکیوں ۵:۱۔۶
مقدس پولوس رسول تسالونیکیوں کی کلیسیاکو بیدار رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ کیونکہ خداوند کے دن کے بارے کوئی نہیں جانتا اسلیے ہر لمحہ ہر لحظہ تیار رہنے کی ضرورت ہے۔
انجیلِ مقدس
متی ۵۲:۴۱۔۰۳
یسوع مسیح قنطاروں کی تمثیل سناتا ہے جس میں وہ ہمیں بتانا چاہتا ہے کہ خدا نے بہت کچھ عطا کیا ہے اور وہ سب کچھ خدا کی بادشاہت کو پھیلانے کی خاطر خدمت کرنے کے لئے دیا ہے۔
فادر ناصر جاوید ا س تمثیل کے بارے میں لکھتے ہیں،” یہ انجیل مقدس موثر طور پر ہماری توجہ اس زمینی زندگی میں مسیحی رویے کی طرف مبزول کرواتی ہے۔جب ہم خداوند یسوع مسیح کے آنے کا انتظار کرتے ہیں۔ مالک نے جو مال اپنے غلاموں کے سپرد کیا۔ وہ کوئی معمولی رقم نہیں تھی۔ ایک قنطار کا وزن چالیس یا پچاس کلو یا تقریباًایک من سونا ہوتا ہے۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہر ایک کو خزانہ مل گیا اس سے مالک کی اپنی غلاموں سے ہر ایک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس خزانے کوکام میں لائے اوربڑھائے اسے محض اپنے پاس سنبھالرکھنا کافی نہیں ہے۔مالک چاہتا ہے کہ خاص قنطار یا صلاحیتیں اور خوبیاں جودی گئی ہیں بڑھیں اور بھلائی کے پھل لائیں۔“
فادر موصوف کی اس بات کے آخر میں صلاحیتیوں اور خوبیوں کا ذکر ہے میں اس بات کے غور کرتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ انسان کو جو کچھ بھی رب کی طرف سے جوہر و صلاحیت ودیعت کی گئی ہے وہ خدا کی طرف سے تحفہ ہے انمول ہے اور ہر کسی کو دیا گیا ہے۔ آئے تھوڑا سا اس پہلو پر غور کرتے ہیں۔۔ایرک لیڈرل خدا دادا صلاحیت کا حامل شخص تھا۔ جو کمال کا دوڑنے والا تھا اُس کا خواب تھا کہ وہ اولمپکس میں حصّہ لے، لیکن اُس نے محسوس کیا کہ اُس کا بلاوا بطورِ مشتری ہے تاہ وہ چین میں خدمت کرے۔اُس کے الفاظ ہیں۔ جب میں بھاگتا ہوں، میں خدا میں خوشی محسوس کرتا ہے۔ آگے بڑھنے کی جدوجہد، اپنی منزل کا تعین اور خوب سے خوب تر بننے کی جستجو یعنی جو کچھ ہم بن سکتے ہیں درحقیقت خدا کو جلال دینے کا عمل ہے۔صرف ایک موسیٰ تھا جس کی زندگی کا زبردست کارنامہ یہ ہے کہ عہدِ عتیق کی چار کتابیں اُس سے منسوب ہیں۔ پولوس بھی تو ایک ہی تھا جس کو عہد جدید کا تقریباً نصف حصّہ تحریر کرنے کے لئے بلایا گیا۔ یہ خاص قسم کے بلاوے یا نعمتیں ہیں باقی سب عام زندگی گزارنے کے لئے بلائے گئے ہیں۔ انجیل میں مرقوم ہے: کیونکہ جس کے پاس ہے اُسے دیا جائے گا اور اُس کے پاس افراط ہو گئی، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے ٹیلنٹ کو مناسب طور پر بروئے کار لائے۔ مقدس پولوس رومیوں کے نام خط میں لکھتا ہے: پس ہم فضل کے مطابق جو ہمیں دیا گیا ہے الگ الگ نعمتیں رکھتے ہیں۔ یہ نعمتیں اس لئے ہیں کہ ہم بمطابق اپنی نعمت جو ہمیں عطا کی گئی اُسے استعمال میں لائیں۔ اچھے گائیک گاتے وقت بغیر کسی وقت بڑی خوبصورتی سے گاتے ہیں۔ کیونکہ خالق نے انہیں یہ نعمت اپنی مرضی کے مطابق عطا کی ہے۔ سوّر ایک ایسا جانور ہے جو موسیقی پسند نہیں کرتا اور موسیقی سے خوفزدہ ہو جاتا ہے یعنی وہ اِس ٹیلنٹ سے محروم ہے۔
کیا آپ نے کبھی اس حوالے کے مضمرات کے بارے میں سوچا ہے؟ اگر نہیں تو، اپنی زندگی میں ایک تبدیلی کے لمحے کے لئے تیار ہوجائیں۔
جب یسوع نے یہ تمثیل سنائی تو، اس نے یہ واضح کر دیا کہ یہ اس مالک(یسوع)کے بارے میں ہے اور اور ان کے بارے میں جنہیں سونپا گیا ہے۔اس سے بھی زیادہ، یہ ایک ایسے رشتے کے بارے میں ہے جو مالک، اس کے خادموں، اور رقم کے مابین موجود ہے۔ اور اس رشتے کے بہت بڑے مضمرات ہیں۔ اتنا زیادہ، کہ اس نے دنیا کے بارے میں سوچنے کا انداز بدل دیا۔ دیکھیں کہ آیا یہ آپ کے لئے بھی ایسا نہیں کرتا ہے۔
در حقیقت ہم کسی بھی چیز کے مالک نہیں ہے۔ در حقیقت: ہر مسیحی کو ایسی چیزوں سونپی گئی ہیں جو مسیح یسوع کی ہیں۔ کس قسم کی چیزیں؟ ساری مادی چیزیں، جیسے آپ کا مکان اور کار، سارے پیسے اور سونے چاندی، تمام جسمانی تحائف، وہ سارا دن جب وہ ہمیں زندہ رہنے کا وقت دیتا ہے (وقت)، وہ تمام بچے جو ہماری چھت تلے پیدا ہوئے ہیں، تمام روحانی تحائف، سب وہ مواقع جو وہ ہمارے سپرد کرتا ہے، اور انجیل کی سچائی کی وفادار تعلیم سب کچھ سونپا گیا ہے۔
اور کس مقصد کے لئے اس نے یہ سب کچھ سونپا ہے؟ کہ اس کے نام کا اعلان اور محبت کی جائے گی اور وہ ہر دن اور ہمیشہ کے لئے تسبیح پذیر ہوگا۔ اس سے میرے ذاتی مقاصد کے لئے بہت کم جگہ باقی رہ جائے گی کیونکہ وہ میری زندگی میں اول ہوگا – اصل میں، کوئی نہیں۔ اگرچہ یہ سچائیاں شروع سے ہی چونکانے والی تھیں،مجھے مسیح نے اپنے خون سے خریدا اور اب میرا کچھ بھی اپنا نہیں بلکہ اس کا ہے۔ لہٰذا میں مختار ہوں اور مالک یسوع ہے وہ چاہتا ہے میں اور آپ باثمر ہوں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں