کیتھولک کلیسیا کا جواب (دسویں قسط )

0
82

مترجم:براد ر عِرفان کرائسِٹ گِل او۔پی

ایک کتبہ پر یہ لِکھا ہوا ہے:”یہاں آرچِلیا /آرکِیلیا (Archillia)آرام فرماتی ہے،نوزائیدہ بپتسمہ یافتہ؛ وہ ایک سال اور پانچ ماہ کی تھی؛ 23فروری کو اُس کی وفات ہو گی“۔غیر بپتسمہ یافتہ بچوں کی قبروں پر یہ نہیں لِکھا گیا۔وہ نجات سے محرومی کی حالت میں ہیں، شیطان کی سلطنت کے زیرِ سایہ ہیں؛آدم کے گناہ کے ساتھ اُن کی رُوح داغدار ہے۔اِس لئے جتنی جلدی معقول طورپر ممکن ہو سکے بچوں کو بپتسمہ دینا چاہیے عموماً پیدائش کے دو یا تین ہفتوں کے بعد بچے کو بپتسمہ دِلوالینا چاہیے۔جب بچے اپنی رُوحوں میں ہمارے خداوند کے ساتھ پرورش پاتے ہیں تو اُن کے پاس گناہ کے خلاف طاقتور تحفظ ہوتا ہے۔مزید برآں،ہمارا خداوند بچوں کو کم سن عمر میں ہی اپنی گہری محبت کے ذریعے سے اپنی طرف کھینچ سکتا ہے۔جیسا کہ اُس نے مقدسہ ٹریضہ، مقدسہ ماریہ گوریٹی،مقدس دومنیک ساویو،مقدس فرانسسکو اور مقدسہ جاسنِتا کو چھوٹی عمر میں ہی اپنی طرف بلایا تھا۔رسولوں کے اَعمال میں بھی رقم ہے ”تب پطرس نے اُن سے کہا۔توبہ کرواور تُم میں سے ہر ایک اپنے گناہوں کی مُعافی کے لئے یسوع مسیح کے نام پر بپتسمہ لے تو رُوح اَلقدس اِنعام میں پاؤ گے۔ اِس لئے کہ یہ وعدہ تُم سے اور تُمہارے بچوں سے ہے اور اُن سب سے بھی جو دُور کے ہیں اور جنہیں خداوند خدا اپنے پا س بُلائے گا“(رسولوں کے اَعمال 39-38:2)۔
سوال نمبر 31:کیتھولک کلیسیا ضَبطِ تولید کے خلاف کیوں ہے؟خدا کی مرضی کے برعکس بائیبل مقدس میں کہاں پر ضَبطِ تولید کی مزمت کی گئی ہے؟
جواب: کیتھولک کلیسیا ضَبطِ تولید کے مخالف تب نہیں ہے جب یہ قدرتی ذرائع اور قوتِ اَرادی سے تکمیل شُدہ ہو۔کیتھولک کلیسیا صرف مصنوعی ذرائع کے ذریعے ضَبطِ تولید کے خلاف ہے،جس میں پِِل کی دوا کا استعمال،کنڈوم،آئی یو ڈیز،فومز،جیلیز،اَتلاف ِ جراثیم(Sterilization)،ہم بستری کے عمل کو نہ ختم کرنے والی اَدوِیات یا پھر دوسرے ذرائع جن سے ہم بستری کے دوران حمل کے عمل کو رُوکا جا سکے کیونکہ ایسے ذرائع اَذدواجی قبولیت کو مسخ کر کے نِکاح کے بندھن کی بے حرمتی کرتے ہیں۔خدا نے اونان کو اِمتناع ِحمل کی مشق کے لئے مارا تھا کیونکہ یہ کام خدا کی نگاہ میں برا تھا”لیکن اونان نے جانا کہ یہ میری نسل نہ کہلائے گی۔تو یُوں ہوا۔کہ جب وہ اپنے بھائی کی بیوی سے خلوت کرتا۔تو نُطفہ زمین پر ضائع کرتا۔تا نہ ہو۔کہ اُس کے بھائی کی اُس سے نسل ہو۔اور اُس کا یہ کام خداوند کی نِگاہ میں بُرا تھا۔اِس لئے اُس نے اُسے بھی مار دِیا“(تکوین10-9:38)۔لفظ ”Onanism“اونان کے فعل سے نکلا ہے۔درحقیقت جب سے ”چرچ آف اِنگلینڈ لامبیتھ کانفرس آف 1930“،جس نے اِمتناعِ حمل کو قبول کیا اور اِس طرح سے مسیحی روایت کو توڑ دیا،اِمتناعِ حمل کو تمام مسیحی کلیسیائیں دونوں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ گناہِ کبیرہ مانتی تھیں۔کیتھولک کلیسیا خد ا کے قانون کو توڑنے میں آزادی محسوس نہیں کرتی جیسا کہ پروٹسٹنٹ آزادی محسوس کرتے ہیں۔
نئے عہد نامہ میں،صرف ایک واقعہ درج ہے جہاں خدا نے گناہ کی فوری سزا موت کی صورت میں دی ہے؛ یہ حنن یاہ اور سفیرہ کی قسمت تھی،یہ دونوں میاں بیوی جو خدا کو تحفہ دینا چاہتے تھے لیکن اُس میں سے کچھ اُنہوں نے اپنے لئے رکھ لیا۔بائیبل مقدس کہتی ہے کہ اُنہوں نے رُوح القدس سے جھوٹ بولا تھا(رسولوں کے اعمال 11-1:5)۔اِمتناعِ حمل میں دو اَشخاص اپنا آپ ایک دوسرے کو دینے کے عمل میں سے گزرتے ہیں لیکن اپنے عمل کے قدرتی پھل میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں جو کہ بچے کا حمل میں ٹھہر نے کا عمل ہے جو کہ حتمی مقصد ہے جس کے لئے خدا نے جنسیت کو پیدا کیا تھا۔شادی شُدہ جوڑے کے لئے جِنسی اِتحاد خدا کی طرف سے ایک تحفہ ہے لیکن اِمتناعِ حمل کی مشق کے ذریعے شادی شُدہ جوڑے اُس خوشی کو قبول کرتے ہیں جوخدا نے اِس عمل میں تعمیر کی ہے اور اُس کے اُس مقصد کی تردید کرتے ہیں،جو کہ نئے لوگ(اِفرائش ِ نسل نہ بڑھانا) ہیں۔نتیجاًوہ خدا کا مزاق اُڑاتے ہیں۔لیکن”تُم دھوکا نہ کھاؤ۔خدا ٹھٹھوں میں نہیں اُڑایا جاتا“(غلاطیوں 7:6)۔مسیح نے اِنجیر کے درخت پر لعنت بھیجی،جس کی ظاہری شکل بہت اچھی تھی،لیکن کچھ پھل نہ دیتا تھا(مقدس متی 19:21،مقدس مرقس 14:11)۔شادی نسلِ اِنسانی کی بڑھوتری کے لئے خدا کا منصوبہ ہے۔اِس کے باوجود اِمتناعِ حمل کے جوڑے اپنی شادی کے مخصوص پھل کو حاصِل کرنے سے خدا کے مُنکر ہیں،جو کہ بچے ہیں،جب وہ اِس عمل میں مشغول ہوتے ہیں جو کہ بچے پیدا کرتا ہے تو وہ قدرت کے عمل کو روک دیتے ہیں خدا کے منصوبے کو ناکام بناتے ہیں۔
اِس کے علاوہ، ”sorceries“کا گناہ یا ”جادو گری“کا گناہ(یونانی میں pharmakeia،غلاطیوں 20:5، مکاشفہ 8:21;21:9)،جسے بائیبل مقد س بدکاری، قتل،بت پرستی اور دوسرے سنجیدہ گناہوں کے ساتھ رَد کرتی ہے۔ممکن ہے اِن میں حمل کو روکنے والی خُفیہ اَدویات یا اِسقاطِ حمل بھی شامِل ہوں۔یہ رقیق دوائیں بہت مشہور تھیں اور حتیٰ کہ پہلی صدی میں اِستعمال بھی کی جاتیں تھیں۔
شعور اور ضمیردونوں تجویز کرتے ہیں کہ مصنوئی ضَبطِ تولید صرف قدرتی قانون کی پامالی نہیں ہے بلکہ یہ اِنسان کی خود کی عظمت کی بھی مکاراور بے عزتی ہے؛کیونکہ یہ جسمانی خواہشات پرآزاد حُکمرانی کا مطلب ہے۔اِس کامطلب ہے کہ ہم اِنسانی نُطفہ کی توہین کرتے ہیں؛اِس کا مطلب ہے کہ ہم اپنے ساتھ اِنسانوں کی اعزازی پیدائش کی حقارت کرتے ہیں،وہ ساتھی اِنسان جو اِمتناع حمل کے نتیجے میں پیدا ہونے سے ناکام ہو چُکے ہیں اور جِن کے وجود کو خدا کا تحفہ سمجھنے کی بجائے ایک بدقسمت حادثہ سمجھا جاتا ہے؛اِس کا مطلب اِنتہائی خود غرضی ہے، کیونکہ مصنوئی ضبطِ تولید کا کوئی بھی وکیل یا پیشہ ور طبیب پیدا ہونے والے بچے یا بچی کے والدین کے لئے ایسا نہیں چاہتا ہے۔
اِس کے علاوہ، امتناع ِحمل میاں بیوی کی ایک دوسرے کے لئے عزت کو تباہ کرتا اور نِکاح کے پاک عقد کو توڑتا ہے۔اگر ضبطِ تولید کی دوا کام نہ کرے تو بہت سے اِمتناع ِ حمل میں سے سب سے زیادہ برا اِمتناع ِ حمل آئی یو ڈی ہے اور یہ حمل کے اِبتدائی مراحل میں اِسقاطِ حمل کے طورپر کام کرنے کی اَصل وجہ بنتا ہے۔تاہم اِسے اِمتناعِ حمل کہتے ہیں جو کہ حقیقت میں اِسقاطِ حمل ہے۔جو کہ حمل کو بچانے کی بجائے اِنسانی زِندگی کو قتل کرنا ہے۔
ہر دَور میں ایک پسندیدہ گناہ ہے جسے ”عز ت دار“دُنیاوی مسیحیوں نے قبول کیا ہے؛ہمارے وقت میں ”پسندیدہ قابل“گناہ اِمتناع حمل ہے۔وہ گناہ جو مکمل طور پراِس نظریے کے ساتھ ٹھیک ہے کہ اِنسانی زِندگی کا مقصد زمینی خوشی حاصِل کرنا ہے۔حقیق مسیحی جوڑا،دوسری طرف یہ سمجھ لے گاکہ خدا کی خواہش ہے کہ اُن کے بچے ہوں تاکہ وہ بچے خدا کو جانیں،خدا کے ساتھ محبت کریں اور آسمان میں اُس کے ساتھ ہمیشہ خوش رہیں۔آسمان کی معموری کو پُرکرنے کے لئے شادی خداکا منصوبہ ہے۔یہ کتنا دانشمندانہ ہے کہ ایک خاندان خدا کے منصوبے کو کام کرنے دے۔ خدا بچوں سے اُن کے زمینی والدین سے زیادہ پیار کرتا ہے۔اور خدا کے منصوبہ جات بچوں کے لئے یہ ہیں کہ وہ اپنے والدین کے منصوبہ جات سے کہیں آگے جائیں۔بہت سی کہانیوں میں خدا کی دیکھ بال کو مسیحی والدین کے بارے میں بتایا جاتاہے جو خدا پر اِیمان لاتے اور اُس کے قوانین کی تابعداری کرتے ہیں۔اُن کے لئے جو سچی اور سنجیدہ ضرورت کے لئے جگہ یا اپنے بچوں کی تعداد کی حد رکھتے ہیں،قدرتی خاندانی منصوبہ بندی کے نئے طریقہ کی بنیاد معیادی اعتدال پر اور یہ اِنتہائی پختہ طور پر تصدیق شُدہ ہے(پہلے سے غیر مشابہ”موزونی طریقہ“ ہے)۔
آخر میں، مسیحی سمجھیں گئے کہ خُود اِنکاری مسیحی بچے پیدا کرنے اور اُنہیں پروان چڑھانے میں شامِل ِ حال ہے، مسیح ایک سکول کی طرح ہے۔ہمارے خداوند نے کہا:”اَگر کوئی میرے پیچھے آنا چاہے تو وہ خُود اِنکاری کرے اورا پنی صلیب اُٹھائے اور میرے پیچھے ہو لے“(مقدس متی 24:16)۔لیکن اُس نے یہ بھی کہا ہے:”کیونکہ میرجوا نرم اور میر ابوجھ ہلکا ہے“(مقدس متی 30:11)۔خدا اُنہیں زیادہ فضل دینے کا وعدہ کرتا ہے جو اُس کی تابعداری کرتے ہیں۔اور سلامتی کی رُوح کے نتیجہ پر جو شادی شُدہ جوڑا بے قیمت سے بہت زیادہ مسرو ر ہوتا ہے۔
سوال نمبر 32:جب کوئی طلاق کے لئے آتا ہے توکیتھولک میں اَخراج کیوں نہیں ہے؟کیا بائیبل مقدس یہ نہیں کہتی کہ مسیح نے بدکاری کی صورت میں طلاق کی اِجازت دی ہے؟
جواب: جب کوئی طلاق کے لئے آتا ہے تو کیتھولک اِس بات کی اِجازت نہیں دیتے کیونکہ مسیح نے بھی طلاق کی اِجازت نہیں دی ہے۔جب مسیح سے پوچھا گیا ”اور فریسی اُسے آزمانے کے لئے اُس کے پاس آئے۔اور کہا کہ کیا روا ہے کہ مرد کسی بھی سبب سے اپنی بیوی کو چھوڑ دے؟اُس نے جواب میں کہا۔کیا تُم نے نہیں پڑھا کہ جس نے اِبتدا میں اِنسان کو بنایا۔اُنہیں نرو ناری بنایا۔ اور فرمایا کہ ”اِس واسطے مرد اپنے باپ اور اپنی ماں کو چھوڑے گا اور اپنی بیوی سے مِلا رہے گااور وہ دونوں ایک تن ہو ں گے“سو اَب وہ دو نہیں بلکہ ایک تن ہیں۔پس جِسے خدا نے جوڑا ہے اُسے اِنسان جُدا نہ کرے“(مقدس متی 6-3:19)۔اور مقدس پولوس رسول لِکھتا ہے: ”مگر اُنہیں جِن کا بیاہ ہوا ہے مَیں نہیں بلکہ خداوند حُکم کرتا ہے کہ بیوی اپنے شوہر کو نہ چھوڑے۔اور اگر چھوڑے تو بے بیاہی رہے یا اپنے شوہر سے پھِر میل کرے اور شوہر اپنی بیوی کو نہ چھوڑے“(1۔قرنتیوں 11-10:7)۔متی اُنیس باب کی نو آیت میں مسیح بدکاری کی حالت میں طلاق کی اِجازت نہیں دیتا۔وہ علیحدگی کی اِجازت دیتا ہے۔حقیقت سے یہ واضح ہے کہ وہ جو علیحدگی اِختیار کرتے تھے وہ دوبارہ شادی نہ کرنے سے اِحتیاط کرتے تھے۔پڑھیئے!مقدس مرقس 12-11:10اور مقدس لُوقا 18:16۔
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ طلاق اَلہٰی قانون کے مخالف ہے کیونکہ یہ صاف طور پر درست جواز کے خلاف ہے۔کیا یہ ہمارا اِنسانی بنایا ہوا قانون نہیں تھا جو کہ جائز تھا، قابلِ فہم تھااور طلاق کو رومانوی بناتا تھااور شادی شُدہ جوڑوں کے درمیان بے صبری اور بے چینی پیدا کرتا تھا کہ وہ اپنے درمیان تفرقات کم کرنے کی پوری کوشش کریں اور اَمن سے رہیں۔ اُنہیں پابند کیا جاتا تھا کہ وہ اپنی ضرورت کے ذریعے اپنے پُرفریب تکبر کو برداشت کریں اور ذمہ داریوں کو قبول کریں جو وہ اپنے ہمسفر کے لئے اُٹھانے کے ممنون ہیں،اپنے بچوں کی ذمہ داری،پورے معاشرے اور خدا کو جواب دہ بھی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں