صعود مسیحا

0
103

کرسٹوفر زاہد

اپنی قدرت نال یسوع چڑھ گیا آسمان تے
دکھاں وچ گزار کے تیتی سال جہا ن تے
چالی دِن دنیا تے رہ کے فیر گیا آسمان تے
اوہدا جی اُٹھنا آج ہوئیا ثابت ہر انسان تے

دکھی انسانیت کو نجات کی عظیم ترین خوشخبری دے کر ہمارا خُداوند یسوع مسیح اپنے جی اُٹھنے کے چالیسواں دن صعود فرماتے ہے اور آسمانی باپ کے دائیں ہاتھ براجمان ہوتا ہے۔ ’’مسیح کا صعود یسوع کی انسانیت کا خُدا کی آسمانی سلطنت میں داخل ہونے کا یقینی نشان ہے جہاں سے وہ دوبارہ آئے گا (ملاحظہ ہو ۔ اعمال 11: 1) کیٹی کیزم آف کاتھولک کلیسیاء ؔ پیرا نمبر 665)۔

آسمان پر چڑھ گیا : یہ دنیاوی انداز سے نہیں جیسے کوئی شخص ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتا بلکہ ایک شخص یعنی یسوع ناصری کا آسمان کی بادشاہت میں داخل ہونا ہے جہاں سے وہ دوبارہ آئے گا ۔’’مسیح اِس لئے مرا اور زندہ ہوا تاکہ وہ مردوں اور زندوں دونوں کا خُداہو۔ مسیح کا صعود اُس کی اپی انسانیت میں خُدا کی قدرت اور اختیار میں حصہ دار ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ یسوع مسیح خُداوند ہے ۔وہ آسمان اور زمین پر سارا اختیار رکھتا ہے۔ وہ ہرطرح کی ریاست اور حکومت اور قوت اور سیادت اور ہر ایک نام سے بہت ہی بلند کیا گیا کیونکہ باپ نے سب کچھ اُس کے قدموں کے نیچے کردیا۔مسیح کائنات اور تاریخ کا خُداوند ہے۔ اُس میں انسانی تاریخ اور درحقیت تمام مخلوق قائم ہے اور ماورائی طور پر تکمیل پاتی ہے (کیٹی کیزم آف کاتھولک کلیسیاء ؔ ، پیرا نمبر 668)۔

چالیس ایام : چالیس مقدس عدد ہے ۔ اسرائیل کے لوگوں نے چالیس سال بیابان میں مارے مارے پھرتے ہوئے سیکھا کہ کس طرح خُداوند پر بھروسہ کرنا چاہیے ۔ یوحنا سے بپتمسہ پانے کے بعد یسوع بیابان میں گیا اور چالیس دن کا روزہ رکھا ۔ کلیسیاء ؔاُسی طرح مقدس لوقا کی گواہی کی پیروی کرتے ہوئے ہمارے خُداوند کے آسمان پر جانے کی عید ، پاشکا ء کے چالیس دن بعد مناتی ہے ۔
صعود سے قبل ظہور ات : خُداوند یسوع مسیح کا تجسم ، مصلوب کیا جانا اور قیامت ایک اٹل حقیت ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ یسوع مسیح اپنے جی اُٹھنے کے بعد چالیس دن تک اپنے شاگردوں اور دیگر خواتین و حضرات پر جسمانی طور سے ظاہر ہوتا رہا ۔ زندہ خُداوند یسوع چالیس دن ہی کیوں زمین پر رہے ؟ انہوں نے آسمان پر جانے میں تاخیر کیوں کی ؟ان سوالوں کے الہیاتی پہلو یہاں اجاگر کررہاہوں ۔
1۔ اس بات میں شک نہ رہے کہ وہ درحقیت یسوع مسیح مردوں میں سے جی اُٹھا ہے ۔
2۔ رسولوں اور شاگردوں کو مزید تعلیم دے سکے تاکہ وہ موت اور قیامت کے بھید کو مکمل طور پر سمجھ سکیں ۔
3۔ یسوع مسیح نے بہت سی دلیلوں سے ثابت کیا کہ وہ دکھ سہنے کے بعد زندہ ہے اور چالیس دن تک دکھائی دیتا رہا ۔ وہ آسمانی بادشاہی کی باتیں کرتا رہا ۔
زندہ یسوع چالیس دنوں کے دوران کن اشخاص پر کتنی بار ظاہر ہوئے ؟
1۔ یسوع مسیح جی اُٹھنے کے بعد سب سے پہلے مریم مجدلی پر ظاہر ہوئے (انجیل مقدس بمطابق مقدس یوحنا 18-11: 20، انجیل مقدس بمطابق مقدس مرقس 11-9: 16)۔
2۔ دیگر خواتین پر ظاہر ہوئے (انجیل مقدس بمطابق مقدس متی 10-8: 28)۔
3۔ شمعون پطرس کو دکھائی دیں (انجیل مقدس بمطابق مقدس لوقا 34: 24، 1۔قرنتیوں 5: 15)ْ
4۔ عموآس کے راستے پر دو شاگرد پر ظاہر ہوئے (انجیل مقدس بمطابق مقدس لوقا 35-13: 24، انجیل مقدس بمطابق مقدس مرقس 13-12: 16)۔
5۔ دس شاگردوں پر ظاہر ہوئے ’’اور اُس روز ہفتہ کے پہلے دِن شام کے وقت جب اُس جگہ کے دروازے جہاں شاگرد جمع ہوئے تھے ۔۔۔ یسوع آکر بیچ میں کھڑا ہوگیا ‘‘(انجیل مقدس بمطابق مقدس یوحنا 24-19: 20، انجیل مقدس بمطابق مقدس لوقا 43-36: 24، انجیل مقدس بمطابق مقدس مرقس 14: 16)۔
6۔ مقدس توما سمیت تمام شاگردوں پر ظاہر ہوئے (انجیل مقدس بمطابق مقدس یوحنا 28-26: 20، 1۔ قرنیتوں 5: 15)۔
7۔ سات شاگردوں پر طباریہ کی جھیل پر (انجیل مقدس بمطابق مقدس یوحنا 14-1: 21)
8۔ گیارہ شاگردوں پر پہاڑ پر (انجیل مقدس بمطابق مقدس متی 20-16: 28)۔
9۔ پانچ سو سے زیادہ بھائیوں پر (1۔ قرنتیوں 6: 15)
10۔ یعقوب پر (1۔ قرنیتوں 7: 15)۔
11۔ صعود سے قبل شاگردوں پر اُن لوگوں پر جو اُسے آسمان پر جاتا ریکھ رہے تھے (انجیل مقدس بمطابق مقدس لوقا 49-44: 24، اعمال 8-3: 1)۔

مقام صعود : خُداوند یسوع مسیح کی زندگی میں چند پسندیدہ مقامات تھے ۔ کوہ ِ زیتون ان میں سے ایک ہے ۔ کوہِ زیتون چار چوٹیوں والا ایک پہاڑ تھا ۔ اس کو کوہِ زیتون اس لئے کہاجاتا ہے کیونکہ قدیم زمانہ میں یہ زیتون کے گھنے درختوں سے ڈھکا ہوا تھا ۔ یہ کھر یا مٹی اور چونے کے پتھر کا ہے اور ایک میل سے قدرے زیادہ طویل ہے ۔ یروشلیم کے مشرق میں سب سے بلند سلسلہ کوہ ہے (حزقیاں 23: 11، زکریاہ4: 14)۔ یہ ہیکل کے پہاڑ سے 250فٹ اورسطح سمندر سے 2600فٹ بلند ہے لہٰذا کوہِ زیتون کی جنگی اہمیت بہت زیادہ ہے ۔ یہی بات 70خ س میں یروشلیم کے رومی محاصرہ کے وقت بخوبی ظاہر ہوگئی تھی ۔ خیال غالب ہے کہ رومیوں نے اس کی ڈھلوان کی شمالی توسیع کو ماوئٹ سکوپس (نگرانی کرنے والا پہاڑ ) کہا۔ یہودی مورخ یوسفیس کے مطابق یہاں سے ہیکل کا منظر صاف نظر آتا ہے ۔ شہر کے مقابل اس کے مشرقی حصے کی طرف رومی فوجوں کا بہت بڑا کیمپ تھا اور ان کے درمیان بہت گہری وادی تھی ۔ یہ وادی یہوسفط کی وادی کہلاتی ہے جس میں سے قدرون کا نالہ بہتا ہے ۔ یہ نالہ مشرق کی طرف شہر کا احاطہ کرتے ہوئے جنوب مشرق کی طرف مڑ کر ایک طویل وادی سے گذرتا ہوا کیرہ مُر دار ؔ میں جاگرتا ہے ۔ کوہ ِ زیتون کے دامن میں مغربی ڈھلوان پر قدرون سے اوپر گتسمنی کا باغ ہے ۔ نئے عہد نامہ کے زمانے میں یہ تمام جگہ ہی اُن لوگوں کے لئے جو شہر کی گنجان گلیوں کی تپش سے پناہ چاہتے تھے ایک قسم کی آرام گاہ تھی ۔ چاروں چوٹیوں کے نام حسب ذیل ہیں ۔ مائونٹ سکوپس ( Scopus) ، مائونٹ واری گلائی ( Viri Galilaei) ، مائونٹ اسینشن ( Ascension) اور مائونٹ آف اوفنس (offence)۔
یسوع مسیح کی یروشلیم میں خدمت کے سات کوہ ِ زیتون کا بہت نزدیکی تعلق ہے ۔ کجھوروں کے اتوار مسیح خُداوند کے یروشلیم میں فتح مند داخلے کا راستہ بھی یہی شاہراہ تھی ۔ نعرے لگاتا ہوا مجمع انہیں اسی جگہ ملاتھا ۔ خُداوند یسوع مسیح نے شہر کو اپہلی مرتبہ کوہ ِ زیتون کی چوٹی ہی سے دیکھا تھا (انجیل مقدس بمطابق مقدس لوقا 41: 19)۔ اور جب وہ مارتھا اور مریم کے گھر جاتے تو اکثر اِسی راستے سے گزارتے (انجیل مقدس بمطابق مقدس لوقا 37: 21)۔ انجیر کے درخت کا سوکھنے کا واقعہ غالبا اسی کی ڈھلوان پر ظہور پذیر ہوا (انجیل مقدس بمطابق مقدس متی 19: 21)۔ اسی پہاڑ پر سے یسوع مسیح نے آخری زمانہ میں یروشلیم کی حالت کے متعلق پیشگوئی کی تھی (انجیل مقدس بمطابق مقدس متی 24اور 25ابواب ) ۔ صعود : ’’جب وہ انہیں برکت دے رہا تھا تو اُن سے جدا ہوگیا اور آسمان پر اُٹھایا گیا (انجیل مقدس بمطابق مقدس لوقا 51: 24)۔ اب یسوع مسیح باپ کے دہنے ہاتھ بیٹھا ہے (افسیوں 20: 1)۔ صعود خفیہ نہیں بلکہ دیدنی عمل تھا ۔ رسولوں نے اُسے اپنی آنکھوں سے اُٹھتے دیکھا اور اُس کی گواہی دی ۔ یسوع شخصی طور پر، دیدنی طور پر اور بدنی پر اُسے جدا ہوا ۔ آمد ثانی کے موقع پر اِسی طرح دیدنی اور بدنی طور پر دوبارہ زمین پر آئے گا ۔

حکم رسالت : ’’تم تمام دنیا میں جاکر ساری خلقت کو انجیل کی منادی کرو ۔ جوایمان لاتا اور بپتمسہ پاتا ہے ۔ وہ نجات حاصل کرے گا ‘‘ (انجیل مقدس بمطابق مقدس مرقس 16-15: 16)مزید حوالہ جات’’انجیل مقدس بمطابق مقدس متی 20-19: 28، انجیل مقدس بمطابق مقدس لوقا 57: 24۔
اگر یسوع آسمان پر نہ جاتا تو ؟ یہ بہت ہی عمدہ اور شاندار ہوتا کہ یسو ع مسیح جی اُٹھنے کے بعد اپنی تمام قدرت کے ساتھ دنیا میں ہی رہتا لیکن یہ کلیسیاء ؔ کے لئے خُدا کے منصوبے کے مطابق نہ تھا ۔ یسوع مسیح کے صعود سے یہ ممکن ہوا کہ اُس کے پیروکار وہ عظیم تر کام کرسکیں جن کا اُس نے وعدہ کیا تھا (انجیل مقدس بمطابق مقدس یوحنا 12: 14)۔

صعود مسیحاءؔ کا مقصد : یسوع مسیح باپ کو جلال دینے کی خاطر آسمان پر گیا (انجیل مقدس بمطابق مقدس یوحنا 1: 17)۔
2۔ یسوع آسمان پر گیا کہ مالک اور منجی ہو (اعمال 31:5)۔
3۔ یسوع پیشرو کے طور پر داخل ہوا (عبرانیوں 20:6)
4۔ یسوع آسمان پر ہمارے لئے مکان تیار کرنے گیا ہے (انجیل مقدس بمطابق مقدس یوحنا 2: 14)۔
5۔ ہمارا کاہن ااعظم بنے (عبرانیوں 24-20: 9)۔
کردا ساڈے لئی شفاعت آگے اپنے باپ دے
نہ چرلگے اوہدے آگے پاپی کوئی چھڈان تے



جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں