یسوع المسیح کا آسمان پر جانا میں

0
111

فادر اِفتخار مون او۔پی

(عیدِ صعود المسیح)
تعارف:
مسیح کا صعود یسوع کی اِنسانیت کا خدا کی آسمانی سلطنت میں داخل ہونے کا یقینی نشان ہے۔ جہاں سے وہ دُوبارہ آئے گا۔ اِس دُوران یہ اِنسانیت اُسے اِنسانوں کی نظروں سے چُھپائے ہوئے ہے۔ (سی۔ سی۔ سی 665،اعمال11:1،کلسیوں3:3)۔یسوع مسیح آسمان کے مقَدِس میں ایک بار ہمیشہ کے لئے داخل ہو کر درمیانی کے طور پر مسلسل ہمارے لئے شفاعت کرتا ہے اور ہمیں روح القدس کے اُنڈیلنے کا مستقل یقین دَلاتا ہے۔ (سی۔ سی۔ سی 667)۔المسیح کاصعود اُس کی اپنی اِنسانیت میں خدا کی قدرت اور اِختیار میں حصہ دار ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔یسوع مسیح خداوند ہے ۔وہ آسمان اور زمین پر سارا اِختیار رکھتا ہے۔ (سی ۔سی۔ سی 668)۔ آج کی پہلی تلاوت اور پاک اِنجیل کی بدولت آج کی عید کا بُنیادی پیغام کہ مسیح خداوند اپنے کہنے کے مُطابق آسمان پر اُٹھایا گیا ۔ جس کو ہم اصطلاحی زبان میں عید ِ صعود یا ’’Ascension Day‘‘ کہتے ہیں۔صعود کا ہر گز ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ خداوند یسوع المسیح ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جُدا ہو گئے ہیں بلکہ وہ اپنے کہنے کے مطابق ’’اور دیکھومیں دُنیا کے آخر تک ہر روز تمہارے ساتھ ہوں‘‘(متی 20:28)۔

پہلی تِلاوت: رسولوں کے اَعمال 11-1:1
پہلی تِلاوت میں مسیحی مومنین بُلائے گئے ہیں کہ اِس دُنیا میں وہ اپنی ذمہ داریوں کو نظر اَنداز نہ کریںبلکہ پوری کریں۔ لیکن دوسری تِلاوت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہمار ی زندگی کا مقصد اور مِشن اِس دُنیا کی بھلبھلیوں میں کھو جانا نہیں ہے بلکہ وہ یوں محسوس کریں کہ وہ اِ س دُنیا میں مسافر ہیں جنہوں نے ایک دِن لوٹ کر خداوند کے پاس جانا ہے۔

دوسری تِلاوت : اِفسیوں 23-17:1
دوسری تِلاوت کا اِقتباس آج کی عید کے پیغام کو مکمل کرتا ہے اور ہمیں آگاہی مِلتی ہے۔ پولوس رسول کہتا ہے ’’ہمارے خداوند یسوع مسیح کا خدا جو جلالی باپ ہے ،تمہیں حِکمت اور مُکاشفہ کی رُوح بخشے اور تمہارے دِل کی آنکھیں روشن ہو جائیںتاکہ تُم جان لو کہ اُس کے بُلاوے میں کیا ہی اُمید ہے اور اُس کے جلال کی وہ میراث جو مقدسوں کے لئے ہے کیا ہی دولت ہے اور ہم مومنین کے لئے اُس کی قدرت کیا ہی کمال ہے‘‘(اِفسیوں19-18:1)۔پولوس رسول جس حِکمت کی بات کرتا ہے وہ اِنسانی حِکمت نہیں ہے بلکہ و ہ مُکاشفائی حِکمت ہے ،جو کلیسیا کے بھیدوں میں سمجھی جا سکتی ہے اور پولوس رسول خدا سے درخواست کرتا ہے کہ وہ مومنین کے دِلوں کو کھول دے کہ وہ اُس بُلاوے کو پہچانے جس سے وہ بُلائے گے ہیں۔

اِنجیلِ مقدس: مقدس متی 20-16:28
خداوند یسوع المسیح کے جی اُٹھنے کے بعد کلیسیا نے خداوند کی ماںمقدسہ مریم کی کمپنی میں اپنے سفر کا آغاز کیا جو آج تک جاری اور ساری ہے ۔ اَگرچہ یسوع المسیح جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں، اِس کے باوجود خداوند یسوع المسیح کے جی اُٹھنے کے بعد کلیسیا پروان چڑھی،لیکن یہ ہمیشہ آسمان کی طرف دیکھنے سے نہیں بلکہ اُس کی جلالی موجودگی سے جس میں اُس نے وعدہ کیا کہ’’ دیکھومَیں دُنیا کے آخر تک ہر روزتمہارے ساتھ ہوں‘‘۔

پیغام:
آج کی عید کے حوالے سے بہت سارے سوالات میرے ذہن میں دست و گریباں ہیں کیا خداوند یسوع المسیح حقیقتاً آسمان پر اُٹھا لئے گے؟کیا جنت کا مقام بلَندی پر ہے؟خداوند نے اپنے جی اُٹھنے اور آسمان پر جانے کے درمیان جو وقت تھا وہ کہا ں گزارا؟اُس وعدے کا کیا بنا جو اُس نے صلیب پر ڈاکو سے کیا تھا ؟’’تُم آج ہی میرے ساتھ فردوس میں ہو گے‘‘۔مقدس لوقا اپنی اِنجیل کے آخری باب میں بتاتا ہے کہ’’جب وہ اُنہیں برکت دے رہا تھا تو وہ اُن سے جُدا ہو گیا اور آسمان پر اُٹھایا گیا‘‘۔رسولوں کے اعمال کی کتاب کا بیانیہ ہے کہ’’یسوع نے اُنہیں حُکم دِیا کہ یروشلیم سے باہر نہ جائو‘‘۔آج کی اِنجیل ہمیں بتاتی ہے وہ جلیل کو گئے ’’اور وہ گیارہ شاگرد جلیل کے اُس پہاڑ پر گئے،جو یسوع نے اُن کے لئے مقرر کیا ہے‘‘۔رسولوں کے اَعمال کی کتاب کا مصنف اپنی کتاب کا آغازیوں کرتا ہے وہ اپنے دوست جس کا نام تائوفیلُس تھا ۔جس کا مطلب ہے ’جو خدا سے پیار کرتا ہے‘۔حضرت لوقا شاید اُس حقیقی بندہ تائو فیلُس کے بارے نہیں سوچ رہا بلکہ لوقا اُن کے نام لِکھ رہا ہے جو خدا سے پیار کرتے ہیں۔

جی اُٹھنے اور آسمان پر جانے کے درمیان چالیس دِن کیوں؟
مقدس لوقا بتاتا ہے کہ خداوند چالیس دِن تک اپنے شاگردوں کو سِکھاتا رہا۔ (5-1)۔ہم پہلے ہی’’ چالیس‘‘ کے بارے میں آگاہی رکھتے ہیں کہ بائبل مقدس میں اِس کا مطلب کیا ہے ۔عام طور پر ہم جانتے ہیں کہ کسی اہم کام یا کسی خاص دِن یا کسی غیر معمولی واقعہ کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنے کا ایک عرصہ ہے۔ اِس تعلق سے خداوند نے اپنے شاگردوں کو چالیس دِن تک تیار کیا،ایک بڑے کام کے لئے،ایک پُرفضل مِشن کے لئے ،ایک مُشکل اور نہ ختم ہونے والے سفر کے لئے ۔ اِس مقام پر ہم دیکھتے ہیں کہ اَگر ایک شاگرد اپنے اُستاد کے ساتھ چالیس دِن ٹھہرتا ہے یا چالیس سال تک قیام کرتا ہے،رُوحانی دُنیا میں شاگرد کا اُستادکے ساتھ ٹھہرنا اَزحد ضروری ہے اور یہی ٹھہرائو شاگرد کو کاملیت کی طرف لے جاتا ہے۔اِن دونوں مثالوں میں اہمیت دِن یا سال کو نہیں ہے بلکہ اِن دونوں کے ساتھ وابسطہ ایک ہندسے کو ہے اور وہ ہندسہ ’’چالیس‘‘ ہے۔اِس لئے اَصل حقیقت اوربُنیادی اہمیت چالیس کے ہندسے کو حاصِل ہے۔ لہٰذا اِس عرصہ میں اُس کو اِختیار مِلا کہ وہ اپنے استاد کی تعلیم کو عام کریں ۔مقدس لوقا ہمیں بتاتا ہے یہ تمام رسول خداوند کے چُنے ہوئے شاگرد تھے اور اُن کے پاس یہ اِختیار تھا کہ وہ یسوع کے نام سے بولیں کیونکہ اُنہوں نے یسوع کا پیغام حاصل کیا تھا۔ یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ’’یروشلم سے باہر نہ جائو۔روح القدس تم پر نازِل ہوگا ،تُم قوت پائوگے۔۔۔بلکہ زمین کی اِنتہا تک میرے گواہ ہو گے‘‘۔اِس سین میں شاگردوں کو ایک خاص مرتبہ دِیا ، ایک اہم ذمے داری دی اورایک بھرپور مِشن دِیا گیا ہے کہ’’زِمین کی اِنتہا تک تُم میرے گواہ ہو گے‘‘۔

یسوع کا آسمان پر اُٹھایا جانا:
خداوند کے پیغام کی سچائی کا اِنحصار ادبی اُوصاف میں ہے اور نہ ہی غیر معمولی واقعات میں ،بلکہ خدا کے عظیم پیغام کا اِنحصار اُن شاگردوںپر ہے اور شاگردوں کی بدولت اُن لوگوں پر ،جو نئے نئے جی اُٹھے ہیں۔ سب سے پہلے ہم آسمان پر اُٹھائے جاتے ہیں۔لوقا نے یہ تصور کہاں سے لِیا ؟پرانے عہد نامے میں پہلے سے اِستعمال ہو چُکا ہے ۔اِلیاس کے بارے میں خدا کا کلام ہمیں بتاتا ہے کہ’’وہ خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا اور خدا نے اُسے اُٹھا لِیا‘‘(تکوین24:5)۔ملوک کی دوسری کتاب میں یہ سارا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ’’دیکھو ایک آتشی گاڑی اور ایک آتشی گھوڑوں نے اُن کے درمیان جُدائی کر دی اور اِلیاس بگولے میں آسمان کی طرف چڑھ گیا‘‘(2۔ملوک15:9)۔اِس کے بعد الشیع نے وہ کام کئے جو اُس کا اُستاد کرتا تھا۔
الشیع اور یسوع کی کہانی میں بہت سارے نکات مُشترک ہیں ۔حضرت لوقا پرانے عہد نامہ کے بہت سارے اَلفاظ وتراکیب اور اِظہار و تاثرات اِستعمال کرتا ہے جس کو ہمارے حواس تصدیق و ثبوت کی سند نہیں دے سکتے:۔جیسے یسوع کا باپ کے جلال میں داخِل ہونا۔ جس کو ہمار ی نِگاہ دیکھ نہیں سکتی،جس کو ہم چھو نہیں سکتے کیونکہ اُس کا تعلق اَب جلالی دُنیا سے ہے۔ وہ باپ کے جلال میں ہے ،ہم خاک کے باسی ہیں ،وہ فلک کا بادشاہ ہے۔وہ باپ کے جلال میں اپنے باپ کے دہنے ہاتھ بیٹھا ہے۔ ہم زمین پر بیٹھ کر اُس کی آمدِ ثانی کے منتظر ہیں۔ ہمارے بدن کی آنکھ اُسے دیکھ نہیں سکتی ، ہمارے بدن کا ہاتھ اُسے چھو نہیں سکتا، ہمارے بدنی حواس اُسے محسوس نہیں کر سکتے۔تو پھر ہم اُسے کیسے اپنے قریب پاتے ہیں؟ایک قوت ہے وہ اِیمان کی قوت ہے ،وہ اِیمان کی آنکھ ہے جس کی پرواز بہت بَلندہے ۔اِسی اِیمانی قوت سے ہم اُسے دیکھ سکتے ہیں، ہم اُسے چھو سکتے ہیں، ہم اُسے پہچان سکتے ہیں اور ہم اُسے محسوس کر سکتے ہیں۔ پرانے عہد نامہ میں بادل خدا کی موجودگی کی علامت ہے۔ آج کی تلاوت سے آگاہی مِلتی ہے کہ یسوع اپنے باپ کے جلال میں داخل ہو چُکا ہے۔ دو آدمی سفید لباس میں ظاہر ہوتے ہیں ۔جیسے قبر پر عیدِ پاشکا کی صبح ظاہر ہوئے۔ سفید رنگ خدا کی دُنیا کا ظہور ہے اور جو اِن سفید لباس پہنے آدمیوں نے بولا وہ خدا کا کلام ہے اور وہ کلام سچ او ر برحق ہے ۔’’اور بولے اَے جلیلی مردو تُم کیوں کھڑے آسمان کی طرف دیکھتے ہو ؟یہی یسوع تمہارے پاس سے آسمان پر اُٹھا لیا گیا ہے ،جس طرح تُم نے اُسے آسمان پر جاتے دیکھا ہے،اِسی طرح پھر آئے گا‘‘۔کلیسیا نے دوہزار بیس سال پہلے اِس سفر کا آغاز کیا اور اِس سفر کے دُوران بنی نوع اِنسان کے بُنیادی مسائل پر نظر رکھے ہوئے ہیں،جن کا حل صرف خداوند یسوع پر اِیمان لانے پرہے۔

؎جاتے ہوئے جی بھر کے اُسے دیکھ تو لوں مَیں
اَے آنکھ !ذر اٹھہر ۔۔۔تُجھے رونے کی پڑی ہے

یسوع کے آسمان پر جانے کی عید کیوں مناتے ہیں؟
ہجر و فراق، مِلنے اور جُدا ہونے کا سلسلہ زمانہ ٔ اَزل سے جار ی و سار ی ہے ۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب کوئی ہم سے جُدا ہوتا ہے تو کیا ہم اُس کے جُدا ہونے پر خوشی مناتے ہیں؟جواب ہوگا نہیں۔ کیا جب کو ئی ہمارا پیاراہم سے رُخصت ہوتا ہے تو کیا ہم عید مناتے ہیں؟جواب ہوگا نہیں۔ لیکن خدوند یسوع المسیح کے ہم سے جُدا ہونے سے متعلق ہمارے ذہنوں میں اُبھرنے والے سوالات کے جوابات آج کی اِنجیل دیتی ہے ۔ مقدس متی یسوع المسیح اور اُس کے شاگردوں کی مُلاقات کا اِنعقاد جلیل میں کرتاہے تاکہ اِنجیل ِ مقدس کا اِعلان اُس مقام سے کیا جائے جہاں سے یسوع نے اپنی عوامی زندگی کا آغاز کیا۔ جلیل وہ علاقہ ہے جو اِسرائیل کی نسبت نظر اَنداز کیا گیا کیونکہ وہاں پر یہودی اور غیر اَقوام اَکٹھے رہتے ہیں۔ مقدس متی ہمیں یہ بتانا چاہتا ہے کہ خوشخبری غیر اَقوام کو دی گئی ہے اور اَب اِسرائیل کے لئے یروشلم رُوحانی مُقام نہیں ہے بلکہ اَب یہ شہر جانا جائے گاکہ اِس نے المسیح کو مصلوب کیا۔یہ شہر قاتل کے نام سے جانا جائے گا۔
شاگرد جی اُٹھے خداوند کو پہاڑ پرمِلے ۔ جیسے خداوند موسیٰ اور اِلیاس سے پہاڑ پر مِلتا ہے ۔پہاڑ خدا کے ظہور کی علامت ہے ۔لہٰذامتی وہی تصورات اور جگہوں کا اِستعمال کرتاہے اور یسوع کو وہاں پر دِکھاتا ہے ۔جب اُس نے کچھ اہم بات کرنی ہو یااہم کام کرنا ہو۔ کچھ شاگرد اَب بھی شک و شبہ میں مبتلا ہیں۔ یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ وہ اَب تک شک میں کیوں مبتلا ہیں؟ مقدس متی بتاتا ہے کلیسیا اِس زمین پر آسمانی باپ کی طرح کامِل نہیں ہے بلکہ یہ زمین پر اچھے اور بُرے ،زوان اور گیہوں اور اچھی اور بُری مچھلیوں کامرکب ہے ۔ شاگردوں کی طرح ہم خداوند کے جی اُٹھنے کی حقیقت کو جان سکتے ہیں لیکن ہم اِس کی تصدیق نہیں کر سکتے اورنہ ہی اِس کا ثبوت دے سکتے ہیں۔ لیکن شاگردوں کے شک و شبہ ہمیں تسلی ضرور دیتے ہیں۔ہمارا اِیمان یسوع پر ہے ۔اِیمان کیاہے ؟پولوس رسول کہتا ہے کہ ’’اِیمان اُمید کی ہوئی چیزوں کی ماہیت اور اَند یکھی چیزوں کا ثبوت ہے ‘‘(عبرانیوں1:11)۔لیکن ہم شک و شبہ اور غیر یقینی صورتِ حال سے بھی گزرتے ہیں۔ لیکن ہمیں اپنے حوصلوں کو پست نہیں کرناچاہیے، ہمیں اپنے اِیمان سے اِنحراف نہیں کرنا چاہیے:کیونکہ ہمارا یقین کامِل اور اِیمان پختہ ہے کہ ہمارا خداوند ہمیں تبدیل کرتا ہے اور ہماری اِیمان کوپختگی بخشتا ہے ۔

عظیم مِشن:
اِنجیل ِ مقدس کے دوسرے حِصے میں مسیح خداوند اپنے شاگردوں کو ایک عظیم مشن سونپتے ہیں جوتین حصوں پر مشتمل ہے۔سب سے پہلے خداوند یسوع مسیح اُس اِختیار کی بات کرتے ہیں،جس کی بدولت باپ نے اُسے بھیجا تاکہ وہ دُنیا کو نجات کا پیغام دے۔ اور اَب یہی مِشن اُسی اِختیار کے ساتھ ،وہ اِختیار جو باپ نے بیٹے کو سونپ دِیا ہے ،شاگردوں کو دیتا ہے تاکہ شاگرد یہ خوشخبری بنی نوع اِنسان تک لے کر جائیں اور بیشک خداوند یسوع المسیح کے صعود کے بعد رسولوں نے یروشلم سے لے کر دُنیا کی اِنتہا یعنی روم تک پاک اِنجیل کی تبلیغ کی ،جو اِس بات کا ثبوت ہے کہ خداوند یسوع کُل دُنیا کی نجات کے لئے آیا۔اَب کلیسیاکا کام یہ ہے کہ وہ مسیح خداوند کواِس دُنیا کے سامنے پیش کرے۔

مشن کے تین بُنیادی نکات :
1۔پس تُم سب قوموں کو جا کر شاگرد بنائو۔
مراد یہ نہیں ہے ایک دِن میں ساری دُنیا مسیح کو قُبول کرے گی۔ مقصد یہ ہے کہ اِنجیل کی مُنادی سے شاگرد ہر زمانے میں،ہر قوم، ہر قبیلے او ر ہر اُمت تک پہنچے اور مسیح کے قدموں میں آنے کی دعوت دیں۔
2۔اور باپ اور بیٹے اور رُوح القدس کے نام سے بپتسمہ دو۔
مُراد یہ ہے کہ اِیمانداروں کے بپتسمہ میں مسیحی برملا خدائے ثالوث کا اِقرار کرتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ خدا ہمارا باپ ہے، یسوع ہمارا نجات دِہندہ ہے اور رُوح القدس ہمارے اَندر سکونت کرتا، ہمیں قوت دیتا اور ہمیں تحریک دیتا ہے۔
3۔اور اُنہیں یہ تعلیم دو کہ اُن سب باتوں پر عمل کریں جن کا مَیں نے تمہیں حُکم دِیا ہے۔
یہ تبلیغ اور مُنادی سے بہت آگے کی بات ہے ۔صرف اِتنا کافی نہیں کہ دوسروں کو مسیح کے پاس لا کر چھوڑ دِیا جائے کہ اپنے آپ کو سنبھالتے پھریں، بلکہ اُن کو یہ تعلیم دینا بھی ضروری ہے کہ مسیح کے حُکموں پر جو نئے عہد نامے میں پائے جاتے ہیں ،اُن پر عمل کریں۔

ہر روز تمہارے ساتھ ہوں:
اِن کاموں کو جاری و ساری رکھنے کے لئے، اُن کے اَندر تحریک پیدا کرنے کے لئے، جرأت مندی سے مشن کو آگے لے جانے کے لئے،یہ کہہ کر اپنے شاگردوں کو تسلی دِی’’اور دیکھومَیں دُنیا کے آخر تک ہر روز تمہارے ساتھ ہوں‘‘۔کیا کہنے ! خداوند اپنے رسولوں اور اُن کے قائم مقاموں کو کیا اِختیاراور اَرشادِ عظیم دیتا ہے۔ جو اُس نے اپنے باپ سے پایا۔ یعنی زِمین و آسمان کا اِختیار ۔جس اِختیار کے ساتھ وہ خود بھیجا گیا،وہی اِختیار اُس نے رسولوں کو بھیجنے سے پہلے دِیا اور بھیجا۔ تاکہ اِس خدمت کے وسیلے نجات کا کام جو یسوع نے شروع کیا اور یسوع کے وسیلے شاگردوں کی بدولت ،شاگردوں کے قائم مقاموں کی بدولت ہر روز لوگوں تک پہنچے۔’’مَیں تمہارے ساتھ ہوں‘‘یہ ساتھ چار دِن کی چاندنی اور پھر اَندھیر ی رات والی بات نہیں ہے ۔یہ ساتھ پانچویں روز کو مِلنے والی بات بھی نہیں ہے بلکہ ہر روز دُنیا کے آخر تک ساتھ رہنے اور ساتھ نِبھانے والی آفاقی سچائی ہے ۔کیونکہ مسیح کے رسول اپنے قائم مقاموں میں ہمیشہ زِندہ ہیں،تو اِس لئے یہ کبھی بھی نہیں ہو گا کہ کلیسیا مسیح سے جُدا ہو جائے یا مسیح کلیسیا کو چھوڑ دے۔

اختتامیہ:
متی اپنی اِنجیل کااِختتام بڑے خوبصورت ،جرأت مندانہ اور تسلی بخش اَلفاظ سے کرتاہے کہ’’مَیں ہر روز تمہارے ساتھ ہوں‘‘۔
لوقا اپنی اِنجیل کا اِختتام یہ کہہ کر کرتا ہے کہ’’اور وہ آسمان پر اُٹھایا گیا‘‘یعنی صعود فرما گیا۔ متی کہتا ہے دراصل خدا وند کا صعود شاگردوں کی کمپنی میں لوگوں کے لئے نزول ہے کہ ’’مَیں ہر روز تمہارے ساتھ ہوں‘‘اور یہی موجودگی ہمارے خوش ہونے اور خوشی منانے ،جھومنے ، ناچنے اور حمد و ثنا ء کے گیت گانے کی حقیقی اور بنیادی وجہ ہے۔ غور فرمائیے ! یسوع نے ہم سے خروج نہیں کیا اور نہ ہی اُس نے کسی اور جگہ قیام کیا ہے ۔باپ کے جلال میں باپ کے دہنے ہاتھ بیٹھے ہوئے اپنے وعدے کے مطابق دُنیا کے آخر تک ہر روز ہمارے ساتھ ہے۔پس وہ آنکھ درکار ہے جو اُسے دیکھ اور پہچان سکے ۔(متی 46-31:25،متی 16:16،یوحنا29-28:4)۔آسمان پر جانے سے پہلے اور جی اُٹھنے کے بعد ،جی اُٹھا خداوندایک وقت میں ایک جگہ پر آموجود ہوتا تھا۔ایک وقت اور ایک جگہ پر موجود محدود و قیود لوگوں سے گفتگو کرتا اور مِلتا تھا۔لیکن آسمان پر جانے کے بعدوہ اپنی جلالی حالت میں زمان و مکان سے آزاد, حدود و قیود سے ماورا اَب ہر جگہ ،ہرساعت ،ہر لمحہ اور ہر آن موجود ہے۔وہ اپنے باپ کے جلال میں ہے ۔لیکن وہ پھر بھی اپنے وعدے کے مطابق ہر روز دُنیا کے آخر تک ہمارے ساتھ موجو د ہے۔ عید ِ صعود مُبارک ہو!



جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں