خداوند یسوع المسیح کا صعود

0
109

برادر عِرفان کرائسِٹ گِل او۔پی

’’جب وہ اُنہیں برکت دے رہا تھا تو اُن سے جُدا ہو گیا اور آسمان پر اُٹھا یا گیا‘‘

آج ہم عالمگیر کلیسیاء کے ساتھ مِل کر عیدِ قیامت المسیح کے چالیس دِن بعد عیدِ صعود المسیح مناتے ہیں۔ خدا وند یسوع المسیح مُردوں میں سے جی اُٹھ کر اور موت پر فتح پا کر چالیس روز تک اپنے شاگردوں کواور مریم مجدلی کو دکھائی دیتا رہا۔ اُن کے ساتھ باتیں کرتا او ر کھانا کھاتا رہا۔اور اَب جب کہ المسیح کا اپنے شاگردوں سے اِلوداع ہونے کا وقت آن پہنچا ہے۔ اپنے شاگردوں سے جُدا ہونے سے پہلے پھر ہمارا خداوند اُن سے محوِ گفتگو ہوتا ہے۔ مقدس لوقا پہلی تلاوت میں بیان کرتا ہے جو کہ ہم نے رسولوں کے اعمال میں سے سنی ہے، کہ خداوند یسوع المسیح چالیس دِن تک اپنے شاگردوں پر نازِل ہوتا رہا اور اُن کے ساتھ خدا کی بادشاہی کی باتیں کرتا رہا۔ اور یسوع المسیح نے اُنہیں یہ بھی نصیحت کرتا ہے کہ وہ یروشلیم سے باہر نہ جائیں۔جب تک وہ روح القدس کا بپتسمہ نہ پا لیں۔ اور شاگرد روح القدس حاصِل کرنے کے بعد قوت پائیں گے اور ساری زمین کی اِنتہا تک یسوع المسیح یعنی اپنے اُستاد کے گواہ ہوں گے۔ مقدس لوقا مزید لِکھتا ہے کہ جیسے ہی یسوع شاگردوں کے ساتھ باتیں کر رہا تھا ویسے ہی وہ اُوپر اُٹھا لیا گیا اورایک بدلی نے اُسے چُھپا لیا۔ شاگرد کھڑے اپنے مسیحا کو آسمان پر جاتا دیکھتے رہے۔ اور دو مرد سفید پوشاک پہنے یعنی فرشتے شاگردوں سے کہتے تھے کہ جیسے تم یسوع المسیح کو آسمان پر جاتا دیکھتے ہو ،اِسی طرح وہ پھر آئے گا۔
مقدس پولوس رسول دوسری تلاوت میں جوکہ ہم نے اِفسیوں نے نام خط میں سے سُنی ہے،فرماتے ہیں کہ خدا نے اپنے بیٹے یسوع المسیح کو مُردوں میں سے زِندہ کر کے اپنی دہنی طرف بٹھایا ہے ۔اور اُسی خدا نے اُسے ہر طرح کی ریاست، حکومت ، قوت، سِیادت اور ہر ایک نام سے بہت بُلند کیا ہے۔ اور باپ نے سب کچھ اپنے بیٹے کے قدموں کے نیچے کر دِیا ہے۔ اور مسیح ہی کلیسیاء کا سر ہے۔
مقدس متی اَٹھائیسویں باب میں یسوع المسیح کے حُکم ِ رسالت کے بارے میں یوں فرماتے ہیں۔ تو اُس کے شاگرد بھی جلیل کے پہاڑ پر گے اور خداوند یسوع المسیح کو سجدہ کیا۔ یسوع المسیح نے اپنے شاگردوں کے پا س آ کر اُن سے باتیں کیں۔ یسوع المسیح نے اُنہیں بتایا کہ وہ آسمان و زمین پر کُل اِختیارات کا مالک ہے۔ اور اِسی کے ساتھ اُنہیں رسالت کا حُکم بھی دِیا کہ ’’پس تُم جا کر سب قوموں کو شاگردوں بنائو۔ اور باپ اور بیٹے اور رُوح القدس کے نام سے اُنہیں بپتسمہ دواور اُنہیں یہ تعلیم دو کہ اُن سب باتوں پر عمل کریں جِن کا مَیں نے تمہیں حُکم دِیا ہے‘‘۔ہمارے خداوند یسوع المسیح کا حُکم ِ رسالت نہ صرف شاگردوں کے لئے تھا بلکہ ہر مسیحی مومن کے لئے تھا ۔اور شاگرد بنانے کا حُکم نہ صرف یہودی قوم کے لئے دِیا گیا بلکہ دُنیا کی تمام قوموں کے لئے تھا۔ اور نہ ہی پہلے سے بپتسمہ یافتہ مسیح کو دوبارہ سے بپتسمہ دینے کے بارے یسوع المسیح نے حُکم دِیا تھا۔جیسا کہ آج کل ہمارے پادری صاحبان کرتے ہیں ۔پہلے سے بتپسمہ یافتہ کیتھولک مسیحی کو پھر سے پانی کا غوطہ دیتے ہیں اور ہمارے مسیح بھائی اور بہنیں بھی لکیر کی فقیر ہیںجو بہت جلد اِن کی باتوں میں آ جاتے ہیں ۔نام نہاد پادری غیر قوموں کو مسیحیت میں شامِل کرنے اور اُنہیں بپتسمہ دینے کی بجائے پہلے سے مسیحیت میں شامِل مسیحیوں کو بپتسمہ دینے کے چکروں میں گشت کرتے رہتے ہیں۔ اور ہر وقت اِسی تاڑ میں رہتے ہیں کہ کب مسیحیوں کو بپتسمہ دیں اور اُنہیں راہ ِراست سے ہٹا کر اپنے جالوں میں پھنسا کر اُن سے دہ ِ یکیاں لیتے رہیں۔
حُکم ِرسالت کے بعد یسوع المسیح بہت خوبصورت اَلفاظ میں بتاتے ہیں ’’اور دیکھو مَیں دُنیا کے آخر تک ہر روز تمہارے ساتھ ہوں‘‘۔ خداوند یسوع المسیح آسمان پر جا رہے ہیں لیکن وہ دُنیا کے آخر تک ہر روز ہمارے ساتھ ہیں۔ہمارا نجات دہندہ کسی پل بھی ہمیں اکیلا اور تنہا نہیں چھوڑتا بلکہ وہ ہر لمحہ ،ہرگھڑی اپنے لوگوں کے ساتھ ساتھ رہتا ہے ۔ کیونکہ اُس کا وعدہ ہے کہ وہ دُنیا کے آخر تک ہر روز ہمارے ساتھ ہے۔
عید ِ صعود المسیح ہر مسیحی مومن کو باور کرواتی ہے کہ ہم سب اِس زمین پرمسافر ہیں ۔ ہمارا حقیقی وطن یہ زمینی زندگی نہیںبلکہ آسمانی مسکن ہمارا حقیقی گھر ہے۔ یسوع المسیح کا صعود ایک تاریخی حقیقت ہے۔ آج ہم یسوع المسیح کی زمینی زندگی کا آخری دِن مناتے ہیں۔ آ ج ہم اپنے مسیحی عقیدے کی ایک اہم سچائی ’’اور وہ آسمان پر چڑھ کر اور خدا باپ کے دہنے ہاتھ جابیٹھا‘‘ مناتے ہیں۔صعود کا مطلب یسوع ہم سے پہلے آسمان پر جاتا اور ہمارے لیے آسمان کے دروازے کھولتا اور جگہ تیار کرتا ہے۔ تاکہ ہم گناہ اور موت پر فتح پا سکیں۔صعود کا مطلب ہم ہر روز اِس اُمید سے زندہ رہیں کہ ہم بھی مرنے کے بعد حیات اِبدی حاصِل کریں اور مسیح یسوع کے ساتھ آسمان پر ہوں گے۔ یہ جانتے ہوئے کہ مسیح یسوع آسمان پر اُٹھا یا گیا ہے ہم بھی اُسی کی پیروی کرتے ہوئے آسمان کی بُلندیوں کی طرف قدم بڑھاتے جائیں۔ یہ ایک بہت خوبصورت سچائی ہے جس کو آج ہم مناتے ہیں۔ مسیح یسوع کا صعود اُس کے اُس مِشن کا آغاز بھی ہے جو اُس نے کلیسیاء کو سونپا ہے۔ جیسے باپ نے بیٹے کو بھیجا ۔اِسی طرح بیٹا آج ہم میں سے بھی ہر ایک کو رسالت کے مِشن کو جاری و ساری رکھنے کے لیے ساری دُنیا میں بھیجتا ہے۔
ایک اُستاد اپنے شاگرد سے پوچھتا ہے ۔ بیٹا تم اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کیا کرنا چاہتے ہو؟ شاگرد جواب دیتا ہے کہ مَیں اچھے نمبروں سے اپنا امتحان پاس کرنا چاہتا ہوں۔ اِس کے بعد کیا کرنا چاہتے ہو۔ شاگر د پھر جواب دیتا ہے کہ میں کالج میں داخلہ لینا چاہتا ہوں۔ اُستاد: کالج کے بعد کیا کرنا چاہتے ہو۔شاگرد جواب دیتا ہے کہ میں اچھی سی نوکری تلاش کرنا چاہتا ہے۔ اُستاد پھر پوچھتا ہے۔ نوکری مِل جانے کے بعد کیا کرنا چاہو گے؟شاگرد جواب دیتا ہے کہ مَیں بہت سے پیسے کمانا چاہتا ہوں۔ اُستاد ۔پیسے حاصِل کرکے کیا کرو گے؟شاگرد جواب دیتا ہے کہ مَیں ایک بڑا اور خوبصورت سا گھر بنائوں گا؟گھر بنانے کے بعد کیا کرنا چاہتے ہو؟ شاگرد جواب دیتا ہے کہ مَیں اِس کے بعد شادی کروانا چاہتاہوں۔اُستاد :شادی کے بعد کیا کرنا چاہتے ہو؟ شاگر د شادی کے بعد مَیں چاہتا ہوں کہ میرے بچے ہوں اورمیرا ایک اپنا خاندان ہو۔اُستاد: خاندان کے بعد جب آپ بزرگ ہو جائو گئے ،توپھر کیا چاہو گے؟ شاگرد جواب دیتا ہے کہ پھر میں آرام کرنا چاہوں گا۔اُستاد شاگر د سے پھر پوچھتا ہے کہ آرام کرنے کے بعد کیا کرنا چاہتے ہوں؟ شاگرد جواب دیتا ہے کہ آرام کرنے کے بعد مَیں نہیں جانتا کہ مَیں کیا چاہتا ہوں۔اُستاد شاگرد سے پوچھتا ہے کہ کیا آپ مرو گے بھی یا نہیں؟شاگرد جواب دیتا ہے۔جی ہاں مَیں مروں گا بھی۔
بالکل اِسی شاگرد کی طرح ہم بھی دُنیاوی کاموں اور کامیابیوںو کامرانیوں ، شہرت، عزت ، اِنسانی رِشتے نِبھانے اورایک دوسرے سے آگے نِکل جانے کے چکروں میں اِتنے مصروف ہیں کہ ہم اپنی زندگی کا اَصل مقصد ہی بھول جاتے ہیں۔ ہم یہ بھول ہی جاتے ہیں کہ ایک دِن ہم نے مرنا بھی ہے اور آسمان پر یسوع المسیح سے جا کر مِلنا اوراپنے اعمالوں کا حساب کتاب بھی دینا ہے۔ اِسی لیے یسوع المسیح کا صعود ہمیں یاد دِلاتا ہے کہ ہماری یہ زندگی عارضی زندگی ہے۔ اور ایک دِن ہم نے بھی اِس زندگی کو چھوڑنا ہے اور آسمانی دُنیا میں شامِل ہو نا ہے۔ یسوع کا صعود ہمیں باور کرواتا ہے کہ دُنیاوی مصروفیات کے باوجود ہمیں کبھی بھی اپنی زندگیوں کے اَصل مقصد کو نہیں بھولنا چاہیے۔ شاگرد کی تبدیلی کو یاد رکھیں۔آگے کیا ہوگا؟شاگر د کے پاس اپنے اُستاد کے ہر سوال کا جواب موجود تھالیکن اُس نے کبھی مرنے کا نہیں سوچا تھا اور یہ بھی کہ مرنے کے بعد اُس کے ساتھ کیا ہوگا؟افسیوں کے خط میں بہت شاندار اور خوبصورت دُعا ہے۔’’کہ ہمارے خداوند یسوع مسیح کا خدا جو جلالی باپ ہے ۔تمہیں حِکمت او ر مکاشفہ کی رُوح بخشے تاکہ تم اُسے پہچان لو۔او رتمہارے دِل کی آنکھیںروشن ہو جائیں۔تاکہ تُم سمجھ لوکہ اُس کے بُلاوے میں کیا ہی اُمید ہے اور اُس کے جلال کی وہ مِیراث جو مقدسوں کے لئے کیا ہی دولت ہے۔اور ہم مومنین کے لئے اُس کی بڑی قدرت کیا ہی کمال ہے‘‘(اَفسِیوں19-17:1)۔یہ بہت ہی موثر دُعا ہے او راِس دُعا میں ہمیشہ کی زندگی کی تیاری کے لئے ہدایات شامِل ہیں۔یسوع المسیح کا صعود ہمیں یاد دِلاتا ہے کہ خدا کا ہمارے لئے ایک بڑا منصوبہ ہے جوکہ اِس دُنیا سے بالا تر ہے اور اِسی طرح دوسری تلاوت میں درج دُعا بھی ہمیں یاد دِلاتی ہے کہ خدا ہمارے لئے ایک خاص منصوبہ رکھتا ہے جو کہ اِس دُنیادی دُنیا سے کہیں بڑھ کر ہے۔
عزیز مومنین! آپ اپنے آپ کو تین طریقوں سے دیکھ سکتے ہیں۔کہ آپ اپنے بارے میں کیاسوچتے ہیں؟لوگ آپ کے بارے میں سوچتے ہیں؟ اور تیسرا خدا آپ کے بارے میں کیا سوچتا ہے؟سب سے اہم یہ ہے کہ خدا آپ کے بارے میں کیا سوچ رکھتا ہے؟دوسری تلاوت اِس سوال کا جواب دیتی ہے کہ خدا آپ کے بپتسمہ کے وقت سے ہی آپ کو اپنے بیٹے اور بیٹی کے طور پر دیکھتا ہے۔
آئیں میرے عزیزوں! ہم اپنے کیتھولک مسیحی اِیمان میں پختہ رہیں۔ ہم نے اپنے پیدائش کے دِن سے ہی بپتسمہ لے کر یسوع المسیح کے بیٹے اور بیٹیاں ہونے کا شرف حاصِل کیا ہے۔ ہم شروع دِن سے ہی یسوع المسیح کے شاگرداوراُس کے پیرو کار ہیں۔ ہمیں مسیح کی محبت سے کوئی بھی جُدا نہیں کر سکتا۔ اپنے مسیح اِیمان او ر عقیدے میں قائم و دائم رہتے ہوئے کبھی بھی بھیڑیوں یعنی پادریوں کے پیچھے چلنے کا غلط قدم نہ اُٹھائیں جو آپ کو دوہرے بپتسمہ کی غلط تعلیم دیتے ہیں۔ جو آپ کے اَیمان کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ آپ کی پیدائش کے وقت سے ہی بپتسمہ کی ذریعے آپ پر یسوع المسیح کی مُہر ثبت ہو چُکی ہے اور اَب اُس مُہر کو کوئی بھی طاقت ختم نہیں کر سکتی اور نہ ہی اُس مہر کو کوئی مِٹا سکتا ہے۔نہ تو کوئی پادری اور نہ ہی اُن بنائے ہوئے کسی بھی جوہڑ ، تلاب ، نہر اور ٹب کا پانی۔ آپ نے اپنے بچپن ہی سے مسیح کو پہن لیا اور اَب آپ مسیح سے کبھی جُدا نہیں ہو سکتے ۔چونکہ یسوع المسیح خود فرماتے ہیں کہ ’’ اور دیکھو مَیں دُنیا کے آخر تک ہر روز تمہارے ساتھ ہوں‘‘۔کہ مسیح خداوند ہم سب کو اچھے مسیحی اور اچھے شاگرد بننے کا فضل عطا کرے۔آمین۔
آپ سب کو خداوند یسوع المسیح کے صعود کی عید بہت بہت مُبارک ہو!



جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں