عید صعود

0
98

کرسٹوفر زاہد

آسمان پر فرشتے تیزی سے ادھر اُدھر آجارہے تھے ۔ ہر ایک تیاری میں مصروف تھا ۔ آج آسمان کو نہایت خوب صورتی سے سجایا گیا تھا ۔ ستاروں کی چمک بھی کچھ زیادہ تھی ۔ تمام انبیاء اکرام ، مقرب فرشتے اور دیگر مقدس ہستیاں سب کے سب خُدا باپ کے دربار میں موجود تھے ۔ شاہی ضیافت کا اہتمام تھا۔ خُدا باپ کی خوشی دیدنی اور بے چینی عروج پر تھی اور بار بار تمام انتظامات کا جائزہ لیتے اور اپنی نشست پر براجمان ہوجاتے ۔ اپنے دائیں ہاتھ پر موجود نشست کو غور سے دیکھتے اور مسکراد یتے ۔ روح القدس بھی اُن کے ساتھ موجود تھا ۔ دور ایک کونے میں ابلیس بھی کھڑا تھا ۔ مقرب میکائیل غصہ سے اُس کی طرف بڑھتے ہیں اور سخت لہجہ میں اُس سے مخاطب ہوتے ہوئے کہتے ہیں کہ تو یہاں کیا کررہا ہے؟ ابلیس پوچھتا ہے کہ یہ اس قدر تیاری کیوں ہورہی ہے۔آجسے قبل تو کبھی بھی آسمان پر ایسا نظارہ نہیں دیکھا ۔ میکائیل جواب دیتا ہے کہ ’خُدا کا بیٹا آرہا ہے !‘
زمین پر یسوع مقدسہ مریم اور رسولوں کے ساتھ کوہِ زیتوں پر موجود تھا ۔ وہ اُن سے کہتا ہے کہ باپ کے وعدہ کا انتظار کرو۔ میں جارہا ہوں مگر تم اکیلے نہیں ہوگے میں ایک مددگار بھیجوں گا (مقدس یوحنا 14: 16) ۔ وہ اُن سے جدا ہورہا تھا مگر وہ خوش تھے (مقدس لوقا 52: 24) ۔یسوع مسیح برکت دیتے ہوئے اُن سے جدا ہوجاتا ہے ۔
آج ہم عید صعود منارہے ہیں ۔ یہ عید انوکھی اور نرالی ہے ۔ یہ خوشی کی عید ہے ۔ یسوع مسیح اپنے انسانی دور سے جلالی دور میں داخل ہورہے ہیں ۔ یہ عید صرف خوشی کی نہیں بلکہ اُمید، حوصلہ افزائی اور باہمت ہونے کی عید ہے ۔ وہ باپ کے جلال میں داخل ہوکر ہمیں جلالی بنانا چاہتا ہے ۔
امرِنا ممکن کیا ہے ناصری نے
سر باپ کا فخر سے بلند کیا ہے ناصری نے
آج کی عید ہمارے ایمان کے عملی مظاہرہ کی عید ہے جو ہر اتوار ہم رسولوں کے عقیدہ میں پڑھتے ہیں کہ’آسمان پر چڑھ گیا اور خُدا قادرِ مطلق باپ کے دہنے ہاتھ بیٹھا ہے ‘ لیکن درحقیت ان الفاظ مطلب کیا ہے ؟
صعود سے مراد :اوپر کی جانب جانا یعنی آسمان پر جانا ۔ لاطینی لفظ Ascenio یونانی لفظ Analepsisیعنی اوپر اُٹھایا Episozomeneالہٰی نجات ۔ عید پاشکا کے چالیسواں روز یہ عید منائی جاتی ہے ۔
بقول دمشق کے مقدس جان ’باپ کے دائیں ہاتھ سے ہماری مراد جلال اور الوہیت کی عظمت ہے جہاں وہ خُداوند کے ساتھ ہوتا ہے ۔ متجسد ہونے اور جسمانی طور پر بیٹھا ہے جو سب زمانوں سے پیشتر درحقیت خُدا کا بیٹا ہے ۔درحقیت وہ خُدا ہے جو باپ کا ہم ماہیت ہے اور ابن خُدا کا وجود رکھتا ہے ۔‘
کیٹی کیزم آف کاتھولک کلیسیاء کے پیرا نمبر 664’خُدا کے دائیں ہاتھ بیٹھے ہونا المسیح کی بادشاہی کا آغاز ہے جو ابن انسان کے متعلق دانیاں نبی کی رویا کی تکمیل کی نشاندہی کرتا ہے ۔ حکومت ، عظمت اور مملکت اُس کے سپرد کی گئی تاکہ تمام قومیں اور اُمتیں اور زبائیں اُس کی خدمت گزار ہوں ۔ اُس کی حکومت ابدی اور ل ازوال حکومت ہے ۔ اُس کی مملکت غیر فانی ہوگی ۔ اس واقعہ کے رسول اُس بادشاہی کے گواہ بن گئے جس کا آخر نہ ہوگا ۔ ‘
نکتہ آغاز : بقول معلم کلیسیاء مقدس آگسٹین آف ہیپواس عید کا آغاز 68خ س میں ہوا ۔ مگر اس کی کوئی دستاویزات موجود نہیں ۔ پہلی تین صدیوں میں یہ عید ، عید نزول کے ساتھ ہی منائی جاتی تھی ۔ سب سے پہلے اِس عید کو علیحدہ منانے کا آغاز 341خ س میں Eusebiusکرتے ہیں اور چوتھی صدی کے اختتام پر یہ عید سلطنت روما میں رائج ہوگئی تھی ۔بقول مقدس آگسٹین یہ عید رسولوں کے دور میں شروع ہوئی ۔ یونانی کلیسیاء میں مقدس گریگوری نازیانسین اور مقدس جان کرزاسٹم کے وعظ بھی موجود ہیں ۔ شب بیداری کی عبادت کا پاپائے اعظم گریگوری اول کے دور میں آغاز ملتا ہے۔ عید صعود جمعرات کے روز لطوریائی طور پر آتی ہے مگر کاتھولک کلیسیاء ایک عالم گیر کلیسیاء ہے اوراس بڑی عید میں تمام مومنین کی شرکت کو یقنی بنانے کی کوشش میں ویٹی کن نے جمعرات کی بجائے عید پینتکوست سے قبل آنے والے اتوار کو منانے کا اعلان کیا ہے ۔
آسمان پر چڑھ گیا ہے : ابتدائی مسیحی جب یہ کہتے تھے کہ ’وہ آسمان پر چڑھ گیا ہے ‘ تو وہ پرانے عہد نامے کا یاد کرتے تھے کیونکہ حنوک جو اُ ن کے آبائو اجداد میں سے ایک تھا اس کے متعلق کہا گیا ہے کہ ’وہ خُدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا اور آخر میں خُدا نے اُسے اُٹھا لیا ‘(تکوین 24: 5) ۔ عظیم نبی الیاس کے لئے کہا گیا ہے کہ اس کے سامنے الیاس آگ کے بگولے میں آسمان کی طرف چڑھ گیا (2۔ ملوک 11: 2)۔ الیشع اُس کا شاگرد پیچھے رہ گیا اور اُس نے محسوس کیا کہ خُدا نے اُسے چنا ہے تاکہ الیاس کے کام کو جاری رکھے ۔
یسوع مسیح اپنے شاگردوں کو برکت دے رہا تھا کہ تو وہ اُن سے جدا ہوگیا اور آسمان پر اُٹھایا گیا ۔ چالیس دن کے مقدس عرصہ میں زندہ خُداوند اپنے شاگردوں پر ظاہر ہوا اور ان سے خُدا کی بادشاہی کی باتیں کرتا رہا اور جب وہ آسمان پر چلا گیا تو شاگرد سمجھے کہ ان کے لئے اب وقت ہے کہ دنیا میں جائیں اور انجیل کی بشارت دیں اور بیماروں کا شفا اور گنہگارون کو معاف کریں ۔ بدروحوں کا نکالیں اور لوگوں کو نئی امید دلائیں ۔ بقول اویلا کی مقدسہ ٹریضہ ’دنیا میں ہمارے جسم کے سوا تیرا کوئی جسم نہیں ۔ ہمارے پائوں کے سوا تیرے کوئی پائوں نہیں ۔ ہمارے ہاتھوں کے سوا تیرے کوئی ہاتھ نہیں ۔ ہماری آنکھیں جو دنیا کو تیرا پیار دکھاسکیں ، ہمارے پائوں جو تجھے دوسروں تک بھلائی کرنے کے لئے لے جاسکیں اب تو ہمارے ہاتھوں سے دوسروں کو برکت دے گا ۔‘
پاک نوشتوں کی تکمیل : مسیح کا صعود درحقیت پاک نوشتوں کا پایہ تکمیل ہونا ہے ۔
دائود نبی نے لکھتا ہے کہ ’تو بلند ی پر چڑھ کر اسیروں کو ساتھ لے گیا (مزامیر 19: 68)۔ خُداوند نے میرے خُدا وند سے کہا کہ میری دہنی طرف بیٹھ (مزامیر 1: 110) اور جب اُس نے صعود کے دن قریب تھے (مقدس لوقا 51: 9)مسیح کا آسمان پر اُٹھایا جانا خُدا کے منصوبے میں تھا ۔ اگر تم ابن انسان کو اوپر جاتے دیکھو گے جہاں وہ پہلے تھا (مقدس یوحنا 63: 6) ۔ تم سن چکے ہوکہ میں باپ کے پاس جاتا ہوں (مقدس یوحنا 28: 14) ، یسوع مریم مجدلی سے ’مجھ سے نہ چمٹنا کیونکہ میں ہنوز اپنے باپ کے پاس اوپر نہیں گیا (مقدس یوحنا 17: 20)۔
چالیس روز کیوں؟: مندرجہ ذیل نکات چالیس روز کی اہمیت بیان کرتے ہیں ۔
1۔ اس بات میں شک نہ رہے کہ وہ درحقیت یسوع مسیح مردوں میں سے جی اُٹھا ہے ۔
2۔ شاگردوں کو مزید تعلیم دے سکے یعنی اپنے موت اور جی اُٹھنے کے بھید کو واضح کرلئے ۔
3۔ اُس نے بہت سے دلیلوں سے انہیں ثبوت دیے تھے کہ دکھ سہنے کے بعد وہ زندہ تھا چنانچہ وہ چالیس دن تک انہیں دکھائی دیتا اور اُن سے خُدا کی بادشاہی کی باتیں کرتا رہا (رسولوں کے اعمال 3: 1) ۔
عید صعود کی اہمیت کیا ہے ؟ :
1۔ بیت لحم سے شروع ہونے والا کام اب کوہِ زیتون پر ختم ہوچکا ہے (مقدس یوحنا 28: 14) ۔
2۔ زمینی امور کے اختتام پر اب وہ جلالی زندگی میں داخل ہوگا ۔
3۔ تمہارے لئے میرا جانا ہی فائدہ مند ہے کیونکہ اگر نہ جائوں تو وہ وکیل تمہارے پاس نہ آئے گا لیکن اگر میں جائوں تو میں اُسے تمہارے پاس بھیج دوں گا ( مقدس یوحنا 7: 16)۔
4۔ کیونکہ میں تمہارے لئے جگہ تیار کرنے جاتا ہوں ۔ اور جب میں جاکر تمہارے لئے جگہ تیار کروں گا تو پھر آئوں گا اور تمہیں اپنے ساتھ لے لوں گا تاکہ جہاں میں ہوں تم بھہ ہو (مقدس یوحنا 3-2: 14) ۔
5۔ تاکہ کاہن اعظم کا کردار ادا کرے (عبرانیوں 16-14: 4) ۔
6۔ تمام افلاک سے بھی اوپر چڑھ گیا تاکہ سب چیزوں کو معمور کردے (افسیوں 10: 4) ۔
7۔ صعود دینداری کے چھ راز عظیم میں سے ایک ہے (1۔ تیموتائوس 16: 3) ۔
ہوم ورک: یسوع مسیح عید صعود پر آسمان پر گیا اور اب ہم اُس کی دوسری آمد کے منتظر ہیں ۔ اس دوران وہ ہمیں ہوم ورک دے کر گئے ہیں ۔آخر وہ ہوم ورک کیا ہے؟
انجیل مقدس بمطابق مقدس متی میں ہم پڑھتے ہیں کہ ’پس تم جاکر سب قوموں کو شاگرد بنائو اور باپ اور بیٹے اور روح القدس کے نام سے انہیں بپتمسہ دو اور انہیں یہ تعلیم دو کہ ان سب باتوں پر عمل کریں جن کا میں نے تمہیں حکم دیا (مقدس متی 20-19: 28) ۔
انجیل مقدس بمطابق مقدس مرقس’تم تمام دنیا میں جاکر ساری خلقت کو انجیل کی منادی کرو (مقدس مرقس 15: 16)۔
انجیل مقدس بمطابق مقدس لوقا ’ یروشلیم سے شروع کرکے سب قوموں میں اُس کے نام سے گناہوں کی معافی کے لئے توبہ کی منادی کی جائے گی ‘(مقدس لوقا 47: 24)۔
مندرجہ بالا ہوم ہورک کے لئے کیا آپ تیار ہیں ؟
اپنے کالم کو آویلا کی مقدسہ ٹریضہ سے بند کرنا چاہوں گا۔ بقول مقدسہ ’کوئی شے بھی تمہیں افسردہ نہ کرنے پائے ،۔ کوئی بھی شے تمہیں نہ ڈرائے ۔ ہر شے بدل جاتی ہے ۔ صرف خُدا تبدیل نہیں ہوتا ۔ صبر سے ہر شے حاصل ہوجاتی ہے ۔ جوکوئی خُدا سے لپٹا رہتا ہے اُسے کوئی کمی نہیں ہوتی ۔ اکیلا خُدا ہی کافی ہے۔‘



جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں