بچوں کا بپتسمہ

0
120

رابرٹ اورئیلی

روزبرروز بدلتی ہوئی دُنیا کے ساتھ نت نئی کلیسیا ئیں جنم لیتی جارہی ہیں جو کلام مقدس کی تعلیمات کو نئے نظر یات اور نئی سوچ کے ساتھ اپنے پیروں کرنے والوں میں منتقل کرتی جارہی ہیں جہاں وہ تقریباً 2000 سال سے بھی زیادہ قدیم کلیسیا ئی قوانین رسولی روایات کوجن کی بنیاد در حقیقت کلام مقدس میں موجود ہے بائبل مقدس کے منافی قرار دیتی ہے جس کو کم پڑھے لکھے اور بائبل کی تعلیم سے نا آشنا لوگ خوشی سے قبول کر لیتے ہیں خود ساختہ کلیسیاؤں کے یہ نئے نظریات اور قوانین کو کلام ِ مقدس کے عین مطابق قرار دیتے ہیں نیز ایسی روایات اور قوانین کو اپنی کلیسیا ؤں کا حصہّ بناتے جا رہے جو مستقبل میں مسیحی مذہب کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں ۔عالمگیر کلیسیا ء کے ایسے قوانین و ضوابط جنہیں ان کلیسیا ء کی طرف سے کلام مقدس کے منافی کہا جاتا ہے اُن میں سے ایک شیر خوار بچوں کا بپتسمہ ہے ۔عالمگیر کلیسیا ء سمیت دُنیا کی اور بہت سی بڑی بڑی کلیسیائوں میں بچوں کو بپتسمہ دینا بنیادی مذہبی رسم کہلاتا ہے ،چھوٹے بچوں کو بپتسمہ دینے کایہ سلسلہ کوئی نیا نہیں، عالمگیر کلیسیا ء جس کی بنیاد اعمال کی کتاب سے رکھ دی گئی تھی یہ رواج عام تھا جو تقربیا ً 17 صدیوں سے چلتا آرہا ہے اور کسی کو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا ۔آج اچانک چند مذہبی گروہ بچوں کے بپتسمہ کی مخالفت میں کھڑے ہوگئے ہیں جو عام طور پر اپنی تعلیمات میں اس بات پر زور دینے لگے ہیں کے بچہ نا سمجھ اور بائبل کی تعلیم سے نہ آشنا ہوتا ہے تو بچے کو کیسے بپتسمہ دیا جاسکتا ہے جبکہ بپتسمہ لینے کیلئے مکمل شعور اور یسوع مسیح پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ عمر تقریباً18 سال ہونا ضروری ہے ۔اس طرح کے اور بہت سے اعتراضات ہیں جو بچوں کے بپتسمہ پر کئے جاتے ہیں ۔میں اپنے کالم کے اختتام پر ایسی کلیسیا ؤں کے تمام ترا یسے سوالات کا دونگا فی الحال کالم کے شروع میں ہمیں سمجھنا ضروری ہے کہ بپتسمہ ہے کیا ؟اور کیوں ضروری ہے ؟یا بپتسمہ کو مسیحی مذہب میں کیا حیثیت حاصل ہے ؟۔بنیادی طور پربپتسمہ کے معنی دوبارہ زندہ ہونے کے ہیں جبکہ دُنیاوی طور پر بپتسمہ مسیحی قوم میں شامل ہونے کی اولین رسم ہے جس کے بغیر کوئی بھی شخص کسی طور بھی یعنی دُنیاوی یا روحانی طور پر مسیحیت میں شامل نہیں ہوسکتا نیز اپنی پرانی انسانیت کو اُتار کر مسیح یسوع کو پہن لینا یا رُوح میں ازسرنو پیدا ہونا بپتسمہ کہلاتا ہے مختصربلکہ بپتسمہ ہی کی رسم کے ذریعے ہم مسیح کے عہد میں شامل ہوکر ہمیشہ کی زندگی کیلئے خود کوتیا ر کر سکتے ہیں ۔بپتسمہ مسیحی مذہب میں داخل ہونے کا واحد راستہ جس کے بغیر کوئی شخص نجات کے منصوبے میں خود کو شامل نہیں کر سکتا ،بپتسمہ نہ صرف مسیحیت میں شامل ہونے کے لازمی ہے بلکہ یسوع مسیح کے اُس عہد میں شامل ہونے کیلئے بھی ہے جس کو خُداوند یسوع لمسیح نے آخری کھانے کے وقت باندھا تھا ۔بائبل مقدس دو حصوں پر مشتمل ہے جو عام طور پر پرانے عہد نامہ اور نیا عہد نامہ کے ناموں سے جانا جاتا ہے ۔پرانا عہد نامہ میں جب خُدا نے ابراہیم سے عہد باندھا تو اُس عہد میں شامل ہونے کیلئے خُدا نے ختنے کا حکم دیا یعنی ختنہ کے ذریعے ہی اسرا ئیلی خُدا کے عہدمیں شامل ہوسکتے تھے اور جو جو ختنہ کرواتا تھا خُدا کے عہد میں شامل ہوتا جاتا تھا جب ابراہیم کو ختنے کا حکم ملاتب اُس کی عمر 99 برس تھی یعنی جب ابراہیم کا ختنہ ہوا تب اُسکی عمر 99 برس تھی جبکہ اُسکے بیٹوں کا ختنہ کیا گیا تو اسمائیل کی عمر 13 برس جبکہ اسحاق کا ختنہ آٹھویں دن کروایا گیا ،خُدا کاحکم تھا اور جب بنی اسرائیل کے سارے مردختنہ کرواکر ایک بڑی قوم بن گئے تو جو بچے بعد میں اسرائیل میں پیدا ہوئے اُنکا ختنہ آٹھویں دن بغیر کسی اقرار نامے کردیا جاتا تھا کیونکہ یہ خُدا کا حکم تھا ۔یاد رہے کہ خُدا کے عہد میں بنی اسرائیل کے پورے پورے خاندان شامل ہوتے تھے جس کا فیصلہ گھر کا سربراہ کرتا تھا تبھی وہ ایک قوم کہلاتے تھے ۔بچہ کے بپتسمہ کی مخالفت کرنے والے علماء کا خیال ہی کہ پرانے عہد نامہ الگ تھا اور نیا ء عہد نامہ الگ ہے یعنی کہ یہ دوالگ الگ عہد نامے ہیں کلام مقدس میں بہت سی ایسی آیات ِ کریمہ موجود ہیں جو پرانے عہد سے جوڑتی ہیں بائبل میں ایسے بہت سے شواہد جو عہد نامہ کو پرانے عہد نامہ کا تسلسل ثبت کرتے ہیں۔ مقدس پولوس رسول افسیوں 11-13:2 آیات میں غیر اقوام کو یہ تفصیل سے بیا ن کر تے ہیں کہ کس طرح مسیح کے خون کے سبب اُ س عہد میں شامل ہوجاتے ہیں جو بنی اسرائیل سے باندھا گیا تھا نیز یہ بات بھی باور کرتا ہی کہ مسیح کی بدولت ہم اسرائیل کے استحقاق میں شامل ہیں جو بپتسمہ کے ذریعے ہمیں ملتا ہے جبکہ پطرس رسول پہلے خط کے 9-10:2 آیات میں چُنی ہوئی قوم ،شاہی کہانت مقدس قوم اور میراث کی امت قرار دتیا ہے نیز نئے عہد نامہ میں کلیسیا کو نیا اسرائیلی بھی ٹھہرا یا گیا ہے نیا عہد نامہ در حقیقت پرانے عہد نامہ کی تکمیل ہے عہد وہی پرانا ہے لیکن قوم بدل چکی ہے اسی لئے یسوع مسیح مقدس متی کی انجیل میں 21 باب میں بے ایمان اجارہ داروں کی تمثل بیان کرتے ہیں کہ آسمان کی بادشاہی تم (اسرائیل )سے لے کر ایک دوسری قوم کو دے دی جائے گی جو وقت پر اُسکا پھل اداکر ئے میرے نزدیک نیا عہد نامہ پرانا عہد نامے کا CLIMAX (عروج )ہے ناقدین کو اب یہ سمجھ جانا چائیے کہ یہ دو الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی عہد ہے جسکی تکمیل خُداوند یسوع مسیح نے اپنی جان دے کر کی تھی کچھ خادمین کی یہ سوچ بھی ہے ہیکہ پرانا عہد جسمانی جبکہ نیا عہد روحانی ہے میں یہا ں یہ گذارش کرتا چلو کہ خُدا نے تقریبا ً2 ہزار سال تاریخ میںکئی بار اُن سے کلام کیا ہے وہ عہد بھی روحانی تھا ختنہ اُسکا ظاہری نشان تھا اور یہ عہد بھی روحانی ہے بپتسمہ جسکا ظاہری نشان ہے اس کے علاوہ دُنیا کے بڑے بڑے مفکرین اور مذہبی اسکالرز بھی اس بات پر متفق ہیں ہی کہ بپتسمہ ،ختنہ کا نعم البدل ہے اسی لئے بپتسمہ اُسی عمر میں ہونا چائیے جس عمر میں قوم کے بچوں کا ختنہ کیا جاتا تھا کیونکہ مسیحی اب ایک مکمل قوم بن چکے ہیں ۔عام طورپر یہ سوال بھی اُ ٹھایا جاتا ہے نہ تو یسوع مسیح نے بچوں کو بپتسمہ دیا اور نہ ہی نیا عہد نامہ میں بچوں کے بپتسمہ کی کوئی مثال ملتی ہے میں یہاں یہ عرض کر تا چلوں کہ خُداوند یسوع مسیح نے بچوں کو ہی نہیں بلکہ بڑوں کو بھی بپتسمہ نہیں دیا خُداوند یسوع مسیح کی ساری زندگی میں ہمیں کسی کو بھی بپتسمہ دینے کی مثال نہیں ملتی یہا ں تک کہ یسوع مسیح کی زندگی شاگرد وں نے بھی کبھی کسی کو بپتسمہ نہیں دیا کیونکہ بپتسمہ کا حکم مسیح کے جی اُٹھنے کے بعد آیا ہے یہاں تک کے اعمال کی کتاب میں بھی جن لوگوں نے بپتسمہ کیا وہ سب غیر اقوام سے تھے نیز نیز عہد نامہ میں جن 6 خاندانوں کے بپتسمہ کا ذکر ملتا ہے وہ تمام خاندان بھی غیر اقوام میں سے مسیحی ہونے کیلئے آئے تھے اعمال کی کتاب میں ایک بھی بپتسمہ ایسے شخص کا نہیں ہے جو پہلے سے مسیحی تھا کیونکہ اُس وقت مسیحی قوم کا وجود نہیں تھابلکہ لوگ مسیح پر ایمان لاکر بپتسمہ لے کر ایک قوم بننے کے مراحل سے گزر رہے تھے اور جب 3 اور 5 ہرار کا گروہ بن گیا تو وہ ایک قوم بن گئے او ر اعمال ہی کی کتاب میں وہ ایک قوم بن کر مسیحی قوم کہلانے لگے اب جبکہ وہ ایک قوم بن چکے تھے تو اُن میں بھی بنی اسرائیل کی طرح قوم کے بچوں کا بپتسمہ کیا جانے لگا اور جو غیرا قوام سے مسیحی قوم میں شامل ہوتے تھے اُنکو بپتسمہ اُنکی اُسی عمر میں دیا جاتا تھا آپ کسطرح دعوئے سے یہ بات کہے سکتے ہیں ہیکہ اُن 6 خاندانوں میں کوئی بچہ نہیں تھا کیا سب کے شناختی کارڈ چیک کرکے بپتسمہ دئیے گئے تھے؟ اور اگر ہم یہ بات مان بھی لے کر اُن میں کوئی چھوٹا بچہ موجود نہیں تھا تو بھی صرف خاندان کے سربراہ کہ ایما ن لانے سے پورے پورے خاندان نے بپتسمہ لیا تھا نہ کہ ہر ایک کا الگ الگ ایمان لانے سے وہ مسیحی بنے تھے جس میں ہر عمر کے افراد شامل تھے جیسا کہ ایک عام خاندان میں ہوتا ہے قوم کے بچے کا بپتسمہ بچپن میں ہی ہوتا ہے کیونکہ وہ مسیحی قوم کا بچہ ہے لیکن اگر کوئی غیرقوم سے مسیحی قوم میں شامل ہونا چائیے تو اُسکا بپتسمہ اُسی اصل عمر میں ہونا چائیے بالکل اُ سی طرح جس طرح بنی اسرائیل میں ختنہ کا رواج تھا اگر آپکے بچے کا بپتسمہ نہیں ہوا ہے تو وہ مسیحی قوم کہلانے کا بھی حقدار نہیںہے کیونکہ اعمال کی کتاب کے مطابق صرف وہ مسیحی قوم کہلاتے تھے جن کابپتسمہ ہوتا تھا مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کے ایسے لوگ کسطرح جھوٹ اور فریب کے ساتھ نادراکے فارم میں اپنے بچوں کے مذہب کے خانہ میں مسیح لکھواتے ہیں حالانکہ وہ مسیحی ہیں نہیں کیونکہ اُ نکا بپتسمہ نہیں اس لئے وہ مسیحی کہلانے کے حقدار بھی نہیں میری نظر میں یہ جھوٹ اور فریب ہے جوگورنمنٹ کے ساتھ بولا جاتا ہے نیز جھوٹ اور فریب کا یہ عالم ہیکہ ایسی کلیسیاؤں کے چند خاندانوں کو میں نے صرف اس بناء پر اپنے بچوں کو بپتسمہ دلواتے دیکھا ہیکہ بپتسمہ کے سر ٹفکیٹ کی وجہ سے اُن کے بچوں کو مشنری اسکول میں داخلہ مل جائے گا میری سمجھ میں نہیں آتا آخریہ لوگ اپنی آنے والی نسلوں کے ساتھ کر کیا رہے ہیں میں ایسے بہت سے خاندانوں کو جانتا ہوں جنہوں نے اپنے بچوں کو بپتسمہ نہیں دلوائے ہیں میں نے وجہ جاننے کی کوشش کی تو پتہ چلا کے ہمارے چرچ میں بچوں کو بپتسمہ نہیں دیتے بلکہ اُنکو مخصوص کیا جاتا ہے میری نا قص سوچ کے مطابق مخصوص کسی خاص مقصد یا خاص کام کیلئے کیا جاتا ہے پرانے عہد نامہ بھی صرف بیلوں کو مخصوص کیا جاتا تھا ۔بنی اسرائیل کے ہر فرد کو نہیں وہ بھی ایک خاص موقع پر خاص مقصدکے تحت نیز نیا عہد نامہ میں مسیحوں کو مخصوص کرنے کی ایک بھی مثال نہیں ملتی بپتسمہ کی جگہ کسی طور پر بھی مخصوصیت نہیں لے سکتی مزید یہ کہ جب والدین سے مخصوص کروانے کا مقصد پوچھا جائے تواُنکے پاس جھانکنے کے سوا ء کچھ نہیں ہوتا ۔کالم کے اختتام میں بپتسمہ کی مخالفت میں اُٹھنے والے اعتراضات کا جواب دنیا چاہتا ہوں جو بچے کے بپتسمہ کولے کر اُٹھا ئے جاتے ہیں سب سے پہلا اعتراض یہ کہ بچے کو تو کچھ معلوم نہیں ہوتا وہ تو نہ سمجھ ہے میں یہا ں یہ گذارش کر تا چلوں کہ آ پکا یہ اعتراض ہم سے نہیں بلکہ خُدا کی ذات سے ہے کیونکہ آٹھویں دن ختنہ کا حکم خُدا نے دیا تھا آخر کس حکمت کے تحت خُدا نے آٹھویں دن کے بچے کو عہد میں شامل کیا تھا دوسرا اعتراض یہ ہیکہ بپتسمہ کیلئے ایمان لانا ضروری ہے میں یہاں یہ عرض کرتا چلوں کے نئے اور پرانے عہد نامہ دونوں میں صرف گھرکا سربراہ ایمان لاتا تھا اور سارا خاندان ختنہ اور بپتسمہ میں شامل ہوجاتا تھا بغیر کسی کے پوچھے بچے کے بپتسمہ میں والدین بچہ کی جگہ ایمان کا اقرارکرکے ایمان ہی میں اُس کی پرورش کا وعدہ کرتے ہیں جس کو بچہ بڑا ہوکر ایسٹر کی رات کو دہراتا بھی ہے نیز کلامِ مقدس جہاں کئی بھی قوم کا لفظ آیا ہے وہاں بچے بھی برابر کے حصے دارتھے چائیں بنی اسرائیل کا بحیرہ قلزم سے گذر ہویا نینوا کے لوگوں کا توبہ کیلئے روزہ ہوں سب جگہ بچے برابرکے حصے دارتھے بچے کے بپتسمہ کی مخالفت کرنے والوں سے جب میں یہ پوچھتا ہوں کس حکمت کے تحت ایک مسیحی کے بچے کو بناء بپتسمہ کے 18 سال تک چھوڑ دیا جاتا ہے نیز اگر 18 سال سے پہلے بچے کی موت واقع ہوجائے تو کیا وہ بچہ نجات پاسکے گا مجھے آج تک اپنے اس سوال کا کوئی جواب نہیں مِلا۔ مسیحیت کی دو ہزار سے بھی زیادہ تاریخ میں بچوں کو بپتسمہ دیا جاتا ہے جس کی ابتدا ء ابتدائی کلیسیا ء میں ہی کردی گی تھی آج اچانک چند لوگ اُٹھ کر اس کو بائبل کے منافی قرار دے رہے ہیں میں ایسے خادمین سے سوال کرناچاہتا ہوں کہ جن لوگوں نے پوری دُنیا کو مسیحی بنایا انسانوں کو ایمان کلیسیا اور بائبل مقدس دی کیا وہ سب بے وقوف تھے کیا آپ کے پاس اُن سے زیادہ حکمت ہے بچہ کے بپتسمہ کی مخالفت بھی وہ کلیسیا ئیں کرتی ہیں جن میں سنڈے اسکول یا بچپن میں بچوں کو مذہبی تعلیم دینے کا کو منظم ادارہ ہی موجود نہیں آپ بچوں کو نہ بپتسمہ دے رہے ہیں نہ مذہبی تعلیم دے رہے ہیں خُدا را مسیحی بچوں کے ساتھ یہ زیادتی بند کرے نیز آپ غیر قوموں کے بجائے اُن نوجوانوں کو بپتسمہ دے رہے ہیں جنہوں نے پہلے ہی کئی بار بپتسمہ لئے ہوئے ہیں ۔میری تمام والدین سے گذارش ہے جس چرچ میں بھی جائیں کسی بھی پاسٹر کوبھی فالو کریں مگر برائے مہربانی اپنے بچوں کوبپتسمہ ضرور دلوائیں تاکہ وہ عہد میں شامل ہوکر ایک قوم بن کر نجات کیلئے خود کو تیار کر سکے ۔مقدس پولو س رسول 1تسانو نیکیوں 21:5 میں کہتے ہیں ہیکہ جو باتیں اچھی ہوں اُ نہیں تھامے رہو، بپتسمہ دینے کی یہ روایت اچھی روایت تھی اسے قائم رکھیں ،ایسی تعلیم کا حصہ نہ بنے جس سے مستقبل میں کلیسیا ء اور مسیحی قوم کو نقصان پہنچے ،بچوں کے بغیر کوئی قوم مکمل نہیں ہوتی اپنے بچوں کو بپتسمہ دلوائیں اورساتھ ہی ساتھ مسیحی تعلیم کے ذریعے ایمان میں اُنکی پرورش کریں تاکہ بڑے ہوکر وہ استحکام کا ساکرامنٹ کے ذریعے پاک رُوح کا مسح لے کر ایک مکمل مسیحی ایمان کے ساتھ نجات کیلئے خود کو تیار رکھیں ۔(آمین )



جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں