مسیحی شخصی اور عائلی قوانین

0
99

مسیحی شخصی اور عائلی قوانین

شخصی قوانین کسی ایک خاص جماعت پر مذہب ،عقید ے اور ثقافت کے اعتبار سے لا گو ہونے والے قوانین کا نام ہے ۔کسی ایک خاص جماعت کے لیے بنائے جانے والے قوانین بھی شخصی قوانین کہلاتے ہیں ۔ان قوانین کے تحت ایک جماعت یا طبقہ کے آپس میں معاملات اور لین دین طے پاتے ہیں جبکہ عائلی قوانین خاندانی زندگی اور اس سے متعلق معاملات اور مسائل کے لیے ہوتے ہیں ۔عائلی قوانین ،شخصی قوانین کاحصہ ہوتے ہیں۔مسیحیوں سے متعلق شخصی اور عائلی قوانین کرسچن میرج ایکٹ 1872، سیکشن ایکٹ 1925، طلاق ایکٹ 1869 کی شکل میں موجودہے ۔مسیحیوں کو اپنی روز مرہ زندگی میں بہت سے مسائل کے حل کی تلاش کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ان مسائل میں شخصی ،خاندانی اور شادی شدہ زندگی کے متعلق مسائل بھی ہے بحیثیت مسیحی ہمیں یہ پتہ ہونا چاہیے کہ مسیحیوں سے متعلق قوانین کون کونسے ہیں ۔یہ قانون کب،کیسے اور کہاں نافذالعمل ہیں اور ضرورت پڑنے پر ان سے کیسے فائدہ اُٹھا یا جاسکتا ہے ۔اسکے متعلق یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ یہ قوانین کس حدتک قابل اطلاق ہیں اسکے ساتھ ساتھ اس بات کا علم بھی ضروری ہے کہ کون کونسے قوانین اکثر یت اور اقلیت پر یکسا ں طور پر لاگو ہیں ۔
Succession Act,1925 مسیحیوں کی واراثت ،بچوں کو گود لینے ،وصیت ،تملیک اور دیگر ایسے امور کے لیے قانون فراہم کرتا ہے ۔یہاں ایک قابل ذکر بات یہ ہے ۔کہ یہ قانون لے پالک بچے کو کسی قسم کے کوئی حقوق نہیں دینا ۔دوسرے الفاظ میں اس قانون میں لے پالک کا کوئی تصور نہیں ۔مسیحیوں کی حد تک قانون کی اس شق میں تبدیلی کی ضرورت ہے ۔مسیحیوں کو بچے گودلینے کا حق اور گود لیے گئے بچے کو وراثت میں حصہ سمیت دوسرے حقوق حاصل ہونے چاہیے ۔
جیسا کہ نام سے ظاہر ہے ۔ Christian Marriages Act مسیحیوں کی شادی بیاہ کے متعلق قانون فراہم کرتا ہے ۔یہ قانون تقریباًڈیڑھ سو سال پرانا ہے انگریزوں کے دورحکومت میں بنایا گیا یہ قانون اسی دور کے تقاضے پورے کرتا تھا ۔موجودہ دور میں اس قانون کی بہت سے شقیں قابل عمل نہیں رہیں ۔اسکے علاوہ اس قانون میں بہت سی ایسی خامیاں ہیں جن سے بہت سے مسائل پیدا ہورہے ہیں ۔وقت کے ساتھ ساتھ حالات بھی بدلتے ہیں اوربدلتے ہیں اور بدلتے حالات کیساتھ مسائل میں بھی فرق آنا شروع ہوجاتا ہے ،ڈیڑھ سوسال پہلے بنایہ قانون آجکے حالات اور مسائل کے حل کے لیے موزوں نہیں ہے ۔وقت کی ضرورت ہے کہ شادی بیاہ سے متعلق اور خان کی زندگی کے موجودہ مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے اخلاقی ،مذہبی اور سماجی دائر کار کے اندررہتے ہوئے نئی قانون سازی کی جائے یا پھر موجودہ قانون کے لیے کافی ہو بلکہ مستقبل کے لیے بھی کارمد ثابت ہو۔اسی ضمن میں متعددبار قانون سازی کی کوشش کی گئی لیکن کچھ وجوہات کی بناء پر کوشش ہر بار ناکام ہوئی ۔جسکی مسیحی برداری کے مسائل جوں کے توں رہے ۔عدالتیں بھی مسیحی برادری کے مقدمات کا فیصلہ کرتے وقت مشکل اور ابہام کا شکار ہوتی ہیں اور اسکی وجہ سے اسی قانون میں موجود خامیاں ہیں ہر گلی اور محلے میں بنی ہوئی کلیسیا ئیوں کے اپنے قانون ہیں اور بعض اوقات تو ضرورت پڑنے پر کسی کو فائدہ دینے کے لیے فتوے بھی جاری کر دیئے جاتے ہیں وقت اوران مسائل کے حل کے لیے ایک اہم ضرورت یہ بھی ہے کہ اس بارے میں آگاہی سے متعلق کام کیاجائے اور یہ کام مختلف سطح اور مختلف پلیٹ فارمزپر کیا جاسکتا ہے ۔
مسیحیوں سے متعلق شادی بیاہ کے قانون میں شادی شدہ جوڑے کے حقوق وفرائض کا تعین بھی نہیں کیا گیا ۔وقت کی ایک اہم ضرورت یہ بھی ہے ۔کہ ملکی سطح پر قانون سازی کے علاوہ مختلف طریقوں سے انفرادی اور اجتماعی طورپر بھی اس سلسلے میں کام کیا جائے ۔کلیسیا ان سب میں اپنی جگہ ایک اہم کردار ادا کرسکتی ہے ۔مختلف طریقوں سے اور مختلف مسائل اور معاملات پر آگاہی کے ساتھ کلیسیا قانون ساز اداروں کو مسیحی تعلیم کے مطابق قانون سازی کے لیے رہنمااصول اور تجاویز بھی دے سکتی ہے ۔بے شک بہت بار اس سلسلے میں کوشش اور کام کیا جاچکا ہے لیکن ہر بار کچھ نئی صورت حال کو دیکھ کر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے ۔قانون سازی کے لیے کی گئی کوشیش بدقسمتی سے ہر بار کسی نہ کسی وجہ سے ناکام ہوئی ۔ضروری ہے کہ نئے شادی شدہ جوڑوں اور جنکی شادی ہونے والی ہو ا نہیں شادی اور شادی شدہ زندگی اور اس سے جڑے مسائل ،رشتہ ازدواج میں بندھنے کے بعد زندگی پر اس نئے رشتے کے اثرات اور نئی ذمہ داریوں کے بارے میں بتایا جائے اور انہیں یہ بھی بتا یا جائے کہ شادی شدہ کے لیے خدا کے خوف میں ،پاک کلام اور مسیحی تعلیمات کے مطابق گذارنی ہے ۔تھوڑی سی کو کلیسیا میں یہ کاہن ،سسٹر صاحبات اور مبشران انجیل کی مدد سے کیا جاسکتا ہے ۔اسکے علاوہ کلیسیا کے ممبران میں سے کوئی رضا کار بھی انکے ساتھ مل کر یہ کام سرانجام دے سکتے ہیں ۔
اس قانون میں ایک اور بڑی خامی یہ ہے کہ مسیحی تعلیمات کے مطابق ممنوعہ رشتے جنکے ساتھ شادی نہیں ہوسکتی کا ذکر اس قانون میں کہیں نہیں ہے ۔اس نقص وخامی کیوجہ سے کئی غیر قانونی اور غیر شادیوں کو چیلنچ کرنا مشکل ہوتا ہے ۔اور اگر چیلنچ کر بھی دیا جائے تو قانون کے مطابق اسکا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا اور پھر بات پاک کلام کی طرف چلی جاتی ہے ۔عدالتیں فریقین سے پاک کلام کے مطابق کوئی دستاویزی ثبوت مانگتی ہیں اور پھر وہی ہوتا ہے جو اپنے فائدے کے لیے کسی سے کچھ بھی کروا سکتا ہے ۔فریقین بعض اوقات اپنے چرچ کو چھوڑ کر کسی گلی محلے میں کھلی کلیسیا سے خطوط اور نقوے جاری کرواکرلے آتے ہیں جس میں پاک کلام کی تعلیمات (آیات )کو غلط طریقے سے پیش کر کے اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔مزید یہ کہ قانون بیوی کے نان نفقہ کے حق کے بارے خاموش ہے ۔شادی ختم ہونے کی صورت میں بیویوں کو ایک یکشت ادائیگی کا ذکر Act Divorceمیں ملتا ہے ۔یہاں ایک قابل غور اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ انگریزوں کے دور حکومت میں ملنے والے مسیحی عائلی قوانین میں پہلے اطلاق کے متعلق قانون بنانے کی نوبت آئی ،اور شادی شدہ زندگی کے مسائل کو محسوس ہی نہیں کیاگیا اور بالکل نظر انداز کر دیا گیا ۔ان مسائل کو طلاق کا قانون بننے کے بعد محسوس کیا گیا اور Marriages Actتقریباً3سال کے بعد بنا یا گیا ۔چاہیے یہ تھا کہ عائلی مسائل جنکے لیے طلاق کا قانون بناان پر غور کیا جاتا اسکے حل کے لیے کوشیش کی جاتیں پھر شاید Divorce Actبنانے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی ۔ضروری تھا کہ مسائل کی جڑ اور وجہ جاننے کی کوشش کی جاتی اور انکے حل کے لیے کچھ کیا جاتا پر طلاق جیسی آخری حدکے بارے میں قانون سازی کی جاتی ۔اب دور حاضر میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ماضی میں کی گئی غلطیوں سے سیکھاجائے اور جس حد تک ممکن ہو مسائل کے سد باب کے لیے کوشیش اس طرح سے کی جائے کہ طلاق جیسی آخری حد کے لیے علالت کا دروازہ نہ کٹکھٹانا پڑے ۔انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں ،تنظیموں اور کلیسیا کے رہنماؤں کو مل کر مسیحیوں کے لیے وقت اور حالات کے مطابق قانون سازی کے لیے ایک ایسا مشتر کہ لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا جو رسمی تعلیم کے متصادم ہو اور نہ انسانی حقوق کے اور جو سب کے لیے وسیع تر مفاد میں قابل قبول ہو۔
ہماڈینیل
پبلک پر اسیکیوٹر
سینٹ جانز میری ویانی پیرش پیشاور سٹی



جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں