ماسٹرچارلس دیوان کی بھینس کالونی میں خدمات

0
60

ڈاکٹر الفریڈ چارلس

وقت تیزی سے گذرتا رہتا ہے اور ہرگذرتا لمحہ ماضی میں تبدیل ہوتا چلا جاتا ہے۔ چار سال بیت گئے جب والد محترم ماسٹرچارلس دیوان نے اس دنیا میں ہمیشہ کے لئے آنکھیں موند لیں اور اپنے خالق رب کے حضور سرجھکائے حاضر ہوگئے۔یہ بات حقیقت ہے کہ جانے والے خود تو چلے جاتے ہیں لیکن اپنے پیچھے یادیں چھوڑجاتے ہیں۔والد محترم نے ایک بڑی اچھی اورخاصی متحرک زندگی بسر کی تو ان سے جڑی باتیں اور یادیں آج بھی یاد آتی ہیں۔اکثرجب لوگ ہمیں ملتے ہیں تو ان کا اچھے الفاظ میں تذکرہ کرتے ہوئے پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہیں تو سرفخر سے بلند ہوتا ہے۔ان کی مذہبی و سماجی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے لوگ کہتے ہیں کہ ان کی زندگی مثالی تھی اور ان جیسا دوسرا کوئی نہیں دیکھا۔ان کی عمومی تعلیمی اور مذہبی تعلیم کی باتیں ہوتی ہیں تو ان کا جداگانہ و منفرد انداز بیان کیا جاتا ہے۔جہاں جہاں انہوں نے خدمات سرانجام دیں تو وہاں کے لوگ گواہی دیتے ہیں کہ ماسٹرچارلس نے ان کے درمیاں کام کرکے ان کی اور ان کی اولاد کی قسمت بدل کررکھ دی۔ان کے کئی ایک شاگردہ فخریہ انداز سے بیان کرتے ہیں کہ وہ آج جس بھی مقام پر ہیں وہ ان کی وجہ سے ہی ہیں۔
اپنی مذہبی خدمات کے آغاز سے ہی ان کے ذمہ مرکزی علاقوں کے ہمراہ نواحی علاقوں میں جانے کی ذمہ داری سونپی گئی جسے انہوں نے بڑے احسن طریقے سے نبھایا۔سینٹ جانز ڈرگ روڈ پیرش سے خدمات کاآغاز کیا تو موجودہ الفلاح کے علاقے رفاع عام سوسائٹی میں واقع گرانڈ ہوٹل میں کام کرنے والے چند ایک مسیحیوں کے پاس ہفتہ میں ایک بارضرورجاتے اور ان کو ہفتہ واری پاک ماس میں شرکت کی تلقین کرتے۔اس کے ساتھ ہی واقع اس وقت کی بڑی اور اہم درس گاہ جامعہ ملیہ بھی تھی جس کے ٹیکنیکل اسکول کی اسٹاف کالونی میں مقیم چند مسیحیوں تک پہنچنا بھی ان کا معمول تھا۔اسی طرح جب لانڈھی میں خدمات کی سرانجام دہی کا سلسلہ شروع ہوا توبھی ان کی دلچسپی نواحی علاقوں میں تھی۔وہ قائد آباد سے آگے ریڈیوپاکستان کے ٹرانسمیشن مرکز کے ملازمین کی رہائش گاہوں میں مقیم مسیحیوں کے پاس جاتے اور ان کی روحانی تعلیم و تربیت کیا کرتے۔اس کے ساتھ ہی جوگی بستی تھی جہاں باگڑی ،پارکری لوگ بستے تھے تو ان کے درمیاں بھی چلے جاتے تھے۔اسی طرح نیشنل ہائی وے پر واقع مہر سینیمامیں کام کرنے والوں کے پاس بھی ان کا جانا ہوا کرتا تھا۔اس سے آگے پی آئی اے شیورپولٹری فارمز ہوا کرتے تھے ۔یہاں کافی تعداد میں مسیحی ملازمین کام کرتے تھے تو آپ کا وہاں بھی جانا ہوا کرتا تھا۔ اسی طرح وہ پاکستان مشین ٹول فیکٹری کی اسٹاف کالونی میں بھی مقیم مسیحیوں کی روحانی آبیاری کی درخواست پر وہاں جایا کرتے تھے۔اس کے بعد جب یہاں بھینس کالونی کا قیام عمل میں لایا گیا تو وہاں کے لوگوں کے اصرار پر نہ صرف خود وہاں جانا شروع کیا بلکہ اپنے ساتھ علاقہ دار فادر کو بھی لے گئے۔یہاں سے ان کی بھینس کالونی میں طویل خدمات کاآغاز ہوا جس کا تذکرہ یہاں رقم کیا جارہا ہے۔
بھینس کالونی کے قیام کا قصہ کچھ یوں ہے کہ 1979خ س کے بلدیاتی انتخابات میں عبدالستارافغانی میئر منتخب ہوئے تو انہوں نے اس بات کا فیصلہ کیا کہ شہر مٰیں واقع بھینسوں کے باڑوں کو اور سلاٹرہائوس یعنی مذبحہ خانے کو شہر سے دور منتقل کیا جائے۔یوں نیشنل ہائی وے سے متصل 31ایکٹر زمین حاصل کی گئی اوریہاں نیا مذبحہ خانہ تعمیر کیا گیا۔اس سے قبل مذبحہ خانہ انگریز دورحکومت سے لیاری کے علاقے میں قائم تھا جسے سلاٹر ہائوس کہا جاتا تھا۔یہ بلدیہ کے زیرانتظام تھا جس میں مسیحی اور ہندو ملازمین کام کرتے تھے۔جب یہ نیا مذبحہ خانہ قائم ہوا تو ملازمین کی بڑی تعداد کو بھی یہاں منتقل ہونا پڑا جس میں بڑی تعداد مسیحیوں کی تھی۔چند ایک مسیحی اور ہندو ملازمین اولڈ سلاٹر ہائوس میں رھ گئے تھے جو آج بھی قدیم و بوسیدہ سرکاری کوارٹرز میں مقیم ہیں۔یہاں منتقل ہونے والے سادہ لوح افراد نے ماسٹرچارلس کا پوچھ گچھ کرتے ہوئے ان سے رابطہ کیا اور خواہش ظاہر کی کہ ان کے یہاں عبادت کا سلسلہ شروع کیا جائے۔اس پر والد صاحب نے علاقہ دار فادر صاحب سے بات کی تو انہوں نے شہر سے دور ہونے کی وجہ سے اس جانب پہلے پہل کوئی توجہ نہ دی لیکن جب والد صاحب نے بتایا کہ ان میں سے چند ایک افراد پرانے سلاٹر ہائوس سے یہاں منتقل ہوئے ہیں اور وہ کاتھولک ہیں ان کی خواہش ہے کہ فادر یہاں آئے۔اس پر طے ہوا کہ ماسٹر جی آپ وہاں جائیں اور ان کاسابقہ ریکارڈ منگوائیں پھر دیکھیں گے۔یوں ماہ میں ایک بار وہاں جانے کا سلسلہ شروع ہوا جس نے وہاں کلیسیاء کی مضبوط داغ بیل ڈال دی اور ماسٹرچارلس کو یہ اعزازحاصل ہوا کہ وہ یہاں کی کلیسیاء کے بانیاں میں شمار ہوئے۔
انہوں نے یہاں بڑی جانفشانی و تندہی سے کام کیا اور اس میں مزید تیزی و مضبوطی یہاں فادر جیمس ڈیسوزا کی آمد کے بعد سے شروع ہوئی۔ماسٹر چارلس اور فادر جیمس ڈیسوزا کی جوڑی نے یہاں جم کر دل لگاکر کلیسیائی خدمات سرانجام دیں جو آج بھی یاد کی جاتی ہیں۔اس دوران یہاں کی اہمیت اور بھی دو چند ہوگئی جب پاسبانی سربراہ کارڈینل جوزف کورڈیرو کو علم ہوا کہ اس نواحی بستی میں بہترین کلیسیائی کام ہورہا ہے تو انہوں نے یہاں وقتاً فوقتاً خود یہاں آنا شروع کیا۔ان کے استقبال کے لئے والد صاحب یہاں خصوصی سجاوٹ کروایا کرتے تھے۔کبھی کھجوروں کی ڈالیوں سے مزین محرابیں بنائی جاتی تھیں تو کبھی کیلے کے پتوں سے سجے استقبالی گیٹ بنائے جاتے تھے۔ایک بار انہوں نے روایتی تکون رنگ برنگی جھنڈیوں کے ہمراہ چینی ڈیکوریشن سے پوری گلی سجادی جسے کارڈینل جوزف کورڈیرو نے بہت پسند کیا تھا۔والد صاحب کو اور بھینس کالونی کو یہ اعزاز حاصل رہا ہے کہ انہوں نے یہاں خدمات سرانجام دیتے ہوئے کئی ایک ایسے کاہنوں کے ساتھ کام کیا جو آگے چل کر بشپ کے عہدہ پر سرفراز ہوئے۔تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ہے کہ کرائسٹ دی کنگ سیمنری میں مقیم اکثر معلمین یہاں عبادت کروانے آتے تھے۔ان میں فادر جان جوزف(بعدازیں فیصل آباد کے بشپ)فادر پطرس یوسف(بعدازیں ملتان کے بشپ)فادراینڈریو فرانسس(بعدازیں ملتان کے بشپ)فادر انتھونی لوبو(بعدازیں کراچی کے معاون اوراسلام آباد ؍راولپنڈی کے بشپ)فادر جوزف کوٹس(بعدازیں حیدرآباد،فیصل آباد اور حال آرچ بشپ کراچی)فادرلارنس سلڈانہ(بعد ازیں آرچ بشپ لاہور)شامل تھے۔تاہم انہوں نے قابل ذکر کام فادر جیمس ڈیسوزا کے ہمراہ ہی سرانجام دیا جسے آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔
علاقے میں موجود افراد اکثر ناخواندہ تھے لیکن ان کی خواہش تھی کہ ان کے بچے تعلیم حاصل کریں۔ماسٹرچارلس اور فادر جیمس کی جانب سے کوشش کی گئی کہ بچوں کے لئے اسکول قائم کیا جائے لیکن کامیابی نہ ہوئی کہ بچوں کے تھوڑا ہی بڑا ہوتے ہی ان کے والدین ان کو قریبی باڑوں میں کام کے لئے بھیج دیتے جہاں ان کو مزدوری تو نہ دی جاتی تھی بلکہ دودھ وغیرہ مفت میں مل جاتا تھا۔وہاں کے لوگ اکثر کہا کرتے تھے کہ ہم مال مویشی والے لوگ ہیں اور ڈھورڈنگروں کے ساتھ ہی ہماراگذارا ہے تو ہم نے پڑھ کرکیا کرنا۔والدصاحب نے اس پر ان کو کافی سمجھایا اور ان کی کاوشیں رنگ لائیں اور چند ایک نوجوان مڈل اور میٹرک تک پڑھ گئے۔علاقے میں روحانی آبیاری کا سلسلہ بھی جاری رہا اور سٹرک نمبر 6سے موسوم مسیحی علاقے میں باقاعدہ گرجا گھرکا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ماسٹر چارلس کے ذمہ تعلیم بالغان کے علاوہ مسیحی تعلیم دینا بھی شامل تھا جسے انہوں نے خوب نبھایا اور یوں علاقے میں پہلی پاک شراکت دی گئی اور وہاں اس کا خوب جشن منایا گیا۔فادر جیمس ڈیسوزا اور ماسٹر چارلس ہردو یہاں کے سادہ لوح افراد کے لئے نرم گوشہ اور رحم سے بھرادل رکھتے تھے۔یہاں کے لوگ بھی ان پر جان چھڑکتے تھے اور روایات کے مطابق ان کو نذرانے کے طور پر اپنے پالتو جانور پیش کیا کرتے تھے۔ان کو فادر جیمس کی رہائش گاہ سینٹ پائس دہم مائنر سیمنری خدادادکالونی پہنچانا آسان نہ ہوتا تھا۔لیکن جب ماسٹر چارلس کی ذمہ داری ہوتو وہ اس کو ہرحال میں پورا کرتے تھے۔آسان حل یہ نکالا گیا کہ جانور ذبح کرکے اس کو محفوظ طریقے سے فادر کے پاس پہنچادیا جاتا تھا۔
فادر جیمس ڈیسوزانے ایک بار یہاں کی خواتین کو گوبر دیوارپر تھاپتے دیکھا تو کہا کہ ماسٹرچارلس میں چاہتا ہوں کہ ان کے لئے کوئی مشین بنوادوں۔اگلے ہفتے وہ ایک نوجوان مسیحی انجینئر رولینڈ ڈی سوزا کو یہاں لے آئے اوراس سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔وہ یہاں علاقے کی بہتری کے لئے ایسے منصوبے اکثر سوچاکرتے تھے اور ماسٹرچارلس سے مشورت کو اہمیت دیتے تھے۔اسی سوچ کے تحت فادر جیمس ڈیسوزا نے علاقے میں فرانسسکین سسٹرز آف دی ہارٹ آف جیز جن کو مالٹیز سسٹرز کے نام سے جاناجاتا ہے کویہاں خدمت کے لئے بلایا۔جب وہ اپنی مدر سپیئریرریکارڈینا کے ہمراہ یہاں آئیں تو ان کو گوبر،الائشوں،کھالوں کے تعفن اور ہرسو پھیلی ہوئی بھوسے کی بو ناگوار گذری لیکن یہاں کام کرنے پر فادر جیمس اور ماسٹرچارلس نے ان کو آمادہ کیا۔سسٹرز نے علاقے کی بچیوں کو سلائی کڑاھی کے علاوہ تعلیم دینا شروع کی اوریہاںسینٹ برنادت ماڈل اسکول قائم کیا گیاجس سے یہاں کے لوگوں نے بھرپوراستفادہ کیا۔
جب علاقے کے قیام کے 25؍سال مکمل ہوگئے تو یہاں سلور جوبلی جشن منایا گیا۔اب یہاں دو گرجا گھر ہیں اور علاقے میں مذہبی پختگی ہے اور یہاں سے چند ایک نوجوان سیمنری میں زیر تعلیم ہیں۔علاقے کے معززین جن کی قیادت ماسٹر جلال جاتی والے کررہے تھے انہوں نے پیرش پریسٹ فادر بینی ٹریوس سے درخواست کی کہ اس موقعہ پر یہاں ابتدائی دنوں میں پاسبانی کام کرنے والے ماسٹر چارلس دیوان کو ضرور بلایا جائے۔شکرگزاری کی عبادت کے بعد جب والدصاحب کو اظہار خیال کی دعوت دی گئی تو انہوں نے وہاں اپنی گفتگو کے دوران پیش گوئی کردی تھی کہ بھینس کالونی کو اعزاز حاصل ہے کہ جو یہاں کام کرتا ہے تو وہ بشپ بن جاتا ہے تو انہوں نے تالیوں کی گونج میں کہا تھا کہ فادر بینی نے بشپ بن جاتا ہے۔ماسٹر چارلس کی یہ بات ان کی زندگی میں ہی سچ ثابت ہوگئی تھی اور آج وہ ملتان کے بشپ ہیں۔ان سطورکو پڑھنے والے افراد سے التماس ہے کہ وہ ماسٹرچارلس دیوان کے لئے دعاکریں۔



جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں