ایڈیٹوریل

0
99

کوروناوباء کے خاتمے کے لئے یوم دعااورروزہ

انسانی برادری کی اعلیٰ کمیٹی نے دنیا بھر کے ادیان سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ کوروناوباء کے خاتمے کے لئے 14؍مئی 2020خ س کوخصوصی طور پر اپنے اپنے عقائد کے مطابق دعامانگیں اورروزہ رکھیں۔اپیل کے منظر عام پر آتے ہی تمام بڑے مذاہب سے تعلق رکھنے والے رہ نمائوں نے اس کی بھرپور تائید کی۔پاپائے اعظم فرانسس،جامعۃ الازہر مصر کے امام احمد الطیب ان میں شامل تھے۔اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کے حکمران شیخ اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی اس کی حمایت کی۔اس کمیٹی کی داغ بیل پاپائے اعظم فرانسس کے دورہ متحدہ عرب امارات کے دوران اس وقت ڈالی گئی تھی جب انہوں نے جامعۃ الازہر کے امام کے ہمراہ ملکر ایک دستاویز پریاگار دستخط ثبت کئے تھے۔اس کو عالمی سطح پر بڑاسراہا گیا تھا اور اس کی خوب پذیرائی کی گئی تھی۔پاپائے اعظم نے یہ دورہ اس وقت کیا تھا جب متحدہ عرب امارات برداشت و رواداری کا سال منارہا تھا۔یوں یہ اس کمیٹی کی جانب سے پہلا بڑا قدم تھا کہ عالمی سطح پر ایسی سرگرمی کا اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب دنیا کوروناوباء سے نبردآزما ہے۔
پاپائے اعظم فرانسس کی جانب سے یوم دعااورروزہ کی حمایت اس بات کا مظہر اور تسلسل ہے کہ وہ عالمگیر وباء کے خاتمے کے لئے فکرمند ہیں۔پاپائے اعظم اس مہلک بیماری کی ہولناک جانی تباہ کاریوں اور اس کے اثرات کے پیش نظر بارہا اس کے خاتمے کے لئے عمومی و خصوصی دعائیں کرچکے ہیں۔انہوں نے معمول سے ہٹ کر ماہ مارچ کے اختتام پر جب اس وباء کی یورپ میں ہلاکت خیزی اپنے بام عروج پر تھی تو شہرروم اور دنیا کو خصوصی برکت بھی دی تھی۔انہوں نے اس دوران بارہا لوگوں کو پرامید رہنے اور مسلسل دعا کرنے کی ہدایات کیں۔انسانی برادری کی کمیٹی کے اس اعلان سے قبل پاکستان کاتھولک بشپس کانفرنس کے صدر نشین آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد نے بھی 8؍مئی کو دعااورروزہ کااعلان کیا۔اس پر پاکستانی کلیسیاء نے اس دن کو بھرپور طورپر منایا۔ملک بھر میں خصوصی طور پر دعائیں مانگی گئیں۔اپنے مذہبی رہ نمائوں اور حکومتی احکامات کے تحت لوگوں نے گھروں میں رھ کر آن لائن عبادات میں شرکت کی اور روزہ رکھا۔لوگوں نے اس آس وامید کے ہمراہ دعامانگی کہ خدااس مصیبت اور مشکل وقت کو ٹال دے۔
دنیا یہ دیکھ چکی اور جان چکی کہ یہ عالمگیر وباء اب ایک جنگ ہے جس کے محاذ پر جہاں ایک طرف ڈاکٹرز اور طبی عملہ برسرپیکار ہے۔دوسری جانب حکومتیں اور عالمی ادارے بھی اس جنگ کے خلاف ڈٹ کر اس کا مقابلہ کررہے ہیں۔یہ واقعی ایک ہولناک جنگ ہے جس میں اب تک لاکھوں افراد جان سے گئے ہیں اور لاکھوں اب بھی اس سے متاثرہ ہیں۔ملکوں کی اقتصادی و معیشت کی چولیں ہل کررھ گئی ہیںاور کئی ایک بحرانی کیفیت سے دوچار ہوگئے ہیں۔طبی محاذ پر لڑنے والے بھی ششدر ہیں کہ کریں تو کریں کیا کیونکہ یہ وائرس نیا ہے۔ان کو معلوم ہی نہیں کہ اس پیچیدگیوں سے کیسے نمٹیںاور لوگوں کو کیسے بچائیں۔ایسے میں دنیا جن حالات سے دوچار ہے تو ان کو خدا کی یاد آنا فطری عمل ہے۔اس لئے دعا ہی اس جنگ کے لئے بقاء کا ہتھیار ہے جس کو بوقت ضرورت استعمال کیا جارہا ہے۔اگر یہ ایک جنگ ہے تو یاد رہے کہ جنگ کی تباہ کاریاں ہواکرتی ہیں جو اپنے پیچھے ایک منظر چھوڑجایاکرتی ہیں۔یقینا اب بھی ایسا ہی ہوگا کہ اس جنگ کے خاتمے پر ایسے زخم رھ جائیں گے جو وقت کے ساتھ ساتھ مندمل تو ہوجائیںگے مگر نشان رھ جائے گا۔
دعا کو اگر ایسی صورتحال میں موثر ہتھیار مان لیا جائے تو اس لڑائی میں مذہبی رہ نمائوں نے ہمیں بروقت اس جانب راغب کیا ہے۔کلام مقدس گواہ ہے کہ ایسے میں جب جب گڑگڑاکے خدا کے حضور دعائیں مانگی گئیںتواس کا مثبت جواب ہی آیا۔جب مومن سچے دل سے توبہ کرتا ہے اور روزہ رکھتا ہے تو خداوند ضرور اس کامدعا جان کر اسکو اس کا صلہ دیتا ہے۔ایک ایسے وقت میں جب ساراعالم اس بیماری سے پریشان ہے تو دعا ہی وہ چیز ہے جس میں یہ طاقت ہے کہ وہ ہمیں اس موذی مرض سے چھٹکارادلوادے۔اس وباء نے سارے جہان کو متحد کردیا ہے کہ وہ اس سے بچائو کے لئے ایک ہی دن ملکر دعامانگیں روزہ رکھیں اور خیرات کریں۔یہ سب اس لئے کیا جارہا ہے کہ خدا ہم پر ترس کھائے اور رحم کرئے۔خدا کے کرنے کے کام اوراس کا طریقہ ہمیشہ سے بڑا عجیب رہا ہے۔اسی لئے جو بھی خدا کو کسی بھی طرح مانتا ہے وہ اس کے سامنے سربسجود جھک کر التجاء کررہا ہے کہ بنی نوع انسان کی بقاء کے لئے ہمیں بخش دے۔ایسے میں کیا معلوم کہ خدا کو کس کی دعا اور کس کے روزے کا انداز بھا جائے اور دنیا اس مرض کے پھیلائو سے بچ جائے۔
اس دعا کی اپیل نے سب کو اتحادویگانگت اوریکجہتی کی لڑی میں پرودیا ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔مشکل وقت میں انسانیت اور اس کا درد ہی ہے جس نے یہ درس دیا کہ ایک ہوکر دعامانگو۔سارے مذاہب اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خاندان میں دعا کو فروغ دیا جائے۔ایسے وقت میں جب خانہ خدا اس وباء کہ وجہ سے بند ہیں تو موقع ہے کہ سب ملکر اس یوم دعااورروزہ سے بھرپو رفائدہ اٹھائیں۔ہم سب کا ایمان ہے کہ زندگی موت منجانب خدا ہے تو وہ جو زندگی دینے پر قادر ہے تو اس سے زندگی مانگیں۔تمام آفاقی مذاہب اس بات پر متفق ہیں کہ زندگی دینے والا خدا کسی کی ہلاکت نہیں چاہتا بلکہ چاہتا ہے کہ انسان اس زمین پر پھولے پھلے اور نسل انسانی بڑھے۔یہ ہم اور ہمارے اعمال ہیں جو اس جنت نظیر دنیا کو تباہی کی جانب لیجارہے ہیں۔ہمیں اپنے ان رویوں پر ازسرنو غورکرناہوگا کہ ہم زمین اور فطرت کی تباہ کاریوں کا حصہ نہ بنیں۔موجودہ حالات نے ہم سب کو یہ بھی باآور کروادیا ہے کہ ہم سب کی زندگی ایک دوسرے پر منحصر ہے۔اس لئے ہم ایک دوسرے کو مشکل وقت میں دیکھ کر خاموش تماشائی کا کردارادا نہیں کرتے۔دعا کے ثمرات دیرسویر سے مل جاتے ہیں بشرطیکہ کہ وہ دل سوزی اور پُراثر انداز سے مانگی جائے۔پاپائے اعظم بیان کرچکے کہ دعامانگیں آس و امید کے ہمراہ تو دعامانگنا جاری رکھیں۔



جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں