قانون توہین رسالت کی آگ اب اپنے گھرکوجلانے لگی

0
87

قانون توہین رسالت کی آگ اب اپنے گھرکوجلانے لگی

ملکی منظر نامے میں اب یہ بات واضح طورپر دیکھی جارہی ہے کہ قانون توہین رسالت کی بھڑکائی جانے والی آگ اب اس کے لگانے والوں کے اپنے گھروں میں آن پہنچی ہے۔اس کی سلگتی ہوئی چنگاریاں اب شعلے بن کر اپنے ہی گھر کی جانب لپک رہے ہیں۔دوسروں کی جھونپڑیوں کو آگ لگا کر خود کو قدرے محفوظ سمجھنے والوں کو اب یہ دن بھی دیکھنے پڑرہے ہیں کہ یہ آگ اب ان کے گھروں میں گھس کر شیطانی رقص کررہی ہے۔ایک ایسے وقت میں جب مظلوم اقلیتیں اس بات کارونا روتی تھیں کہ اس آگ کو مزید ہوا مت دو اور اس جلتی پر تیل نہ ڈالو تو کوئی سننے کو تیار نہ تھا۔آج یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ملکی تاریخ میں جہاں اعدادوشمار کی روشنی میں دیکھا جائے تو قانون توہین رسالت کے تحت درج ہونے والے مقدمات اب مسلم اکثریتی آبادی کے خلاف سب سے زیادہ درج ہورہے ہیں۔ان میں جھوٹے کیسز کی تعدادزیادہ ہے جن کے پیچھے ذاتی رنجشیں اور عناد شامل ہوتا ہے۔اس جانب اقلیتیں توجہ دلواتی رہی ہیں کہ اس قانون کو اپنے مقاصد کے لئے اورذاتی و نجی نوعیت کے جھگڑوں میں غیرقانونی طورپراستعمال کیا جارہا ہے لیکن ان کی کہیں شنوائی نہیں ہوتی تھی۔
حال ہی میں ضلع خوشاب کے علاقے قائد آباد میں واقع نیشنل بینک کی مقامی برانچ کے مینیجر کو یہاں تعینات سیکورٹی گارڈ نے ذاتی رنجش و عناد کی وجہ سے گولیاں مارکرقتل کردیا۔اس گارڈ نے کمال چالاکی سے یہ مؤقف اختیار کیا کہ میں نے مینیجرکو توہین رسالت کا مرتکب ہونے پر قتل کیا ہے۔پہلے مینیجر کو احمدی قراردیا گیا اور کہا گیا کہ اس نے انبیاء اکرام کی شان میں گستاخی کی۔اس پر سیکورٹی گارڈ کو حسب معمول ہیرو بناکر پیش کیا گیا۔لوگوں نے اظہار عقیدت میں اس کو بوسے دینا شروع کئے۔ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔قبل ازیں ماضی میں سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کے کیس میں بھی ایسا دیکھا جاچکا ہے۔ حال ہی میں ایک احمدی کو بھری عدالت میں گولیاں مارنے والے فیصل کو بھی لوگوں نے پھولوں کے ہار پہنائے اور اس کو استقبال کیا۔یہ اس سوچ کی عکاسی ہے کہ جس میں قاتل کو خوب سراہا جاتا ہے اور اس کے فعل کی مذمت کرنے کے بجائے اس کوہیرو بناکر پیش کیا جاتا ہے۔یہ رویہ انتہائی افسوس ناک ہے۔
اقلیتوں خصوصاً مسیحیوں کی جانب سے بارہا اس بارے میں کھل کر اظہار کیا جاتا ہے رہا ہے کہ اس رویے کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے ہے۔متعدد کیسوں میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ جب جب ایسے خدشات کا اظہار کیا گیا کہ ایسے مقدمات کسی کو پھنسانے کی غرض سے جھوٹے الزامات کا سہارالیکر درج کروائے جاتے ہیں تو کوئی اس جانب توجہ دینے کو تیار نہ تھا۔لیکن اب جب یہ آگ اپنے گھر تک پہنچی ہے تو اس کی تپش کو بحرحال محسوس کیا جارہا ہے۔اب یہ بھی کھل کر واضح ہوچکا کہ ایسے من گھڑت اور جھوٹے الزامات کے تحت مقدمات کیسے درج کروائے جاتے ہیں۔یوں یہ شدت پسندوں کے ہاتھوں بڑا ہتھیار بن کرسامنے آیا ہے۔کسی کو بھی ایسے جھوٹے مقدمے میں ملوث کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے افراد جن کے خلاف مقدمہ درج ہوجاتا ہے تو ایک طرح سے ان کی موت کے پروانے پر دستخط کردیے جاتے ہیں۔جہاں ماضی میں یہ ہتھیار اقلیتوں کے خلاف مختلف حیلے بہانوں سے استعمال کیا جاتا تھا تو اب فرق مٹ گیا ہے۔
خوشاب میں قتل ہونے والے بینک مینیجرکا مقدمہ ہو یا اس نوعیت کے دیگر مقدمات یہ بات سامنے آچکی کہ ان کو بڑی فنکاری سے ایسے مقدمات میں ملوث کردیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ انہی دنوں ضلع سانگھڑ کے علاقے شہدادپور کے نواحی علاقے میں ایک ہندو پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے قران کے اوراق کو جلایا ہے جبکہ اس شخص کی ذہنی صحت خاصی کمزور معلوم ہوتی ہے۔یہ کوئی پہلا مؤقعہ نہیں کہ کسی مجذوب یا فاتر العقل شخص کو ایسے مقدمات میں ماخوذ کیا جائے۔اسلام آباد کے نواح میں مقیم نوجوان مسیحی بچی رمشاء کا کیس سب کو یاد ہے جو کہ ایک ان پڑھ ناسمجھ لڑکی تھی جس نے نورانی قاعدے کے چند صفحات کو نذرآتش کیا تھا تو اس پر قانون توہین رسالت کا کیس بنادیا گیا تھا۔ممتاز مسیحی ادیب،شاعر و معلم نعمت احمر کو اس کے ایک طالب علم نے جھوٹاالزام لگاکراس کو کلاس میں چھریاں مارکرقتل کردیا تھا۔حال ہی میں سانحہ جوزف کالونی لاہور بادامی باغ کی تباہی وبربادی کا باعث بننے والا ساون مسیح عدالت سے بری ہوا ہے جسے عدالت نے بے گناہ قراردیا ہے۔
گزشتہ دنوں سندھ کے شہر خیرپور میرس میں واقع شاہ عبداللطیف یونی ورسٹی کے پروفیسر ساجدسومرو کو بھی قانون توہین رسالت کے تحت درج جھوٹے مقدمے میں عدالت نے بری کیا ہے۔اس پروفیسر سے متعلق معلوم ہوا ہے کہ وہ ریاست مخالف بیانیے کا حامی وپرچارک رہا ہے۔اس کو اس کی سزا دینے کی غرض سے اس کو جھوٹے مقدمے میں ملوث کردیا گیا۔اسی طرح اس قانون کو سیاہ قانون کہہ کر اس کی مخالفت کرنے والی سندھ یونی ورسٹی کی شعبہ کیمیا کی پروفیسر عرفانہ ملاح کو دھمکیوں کاسامنا رہا اور ان کے خلاف درخواستیں دائر کی گئیں۔ان سب باتوں کو ایک طرف رکھ چھوڑیں اب تک کاسب سے بڑاکیس جس میں یہ دلیل دی جاسکتی ہے کہ ایسے کیسز جھوٹے الزامات پر مبنیٰ ہوتے ہیں وہ آسیہ بی بی کا ہے۔اس کیس میں دونوں باتیں سامنے آئیں کہ کس طرح ذاتی نوعیت کے جھگڑے کی وجہ سے اس قانون کا غلط استعمال کیا گیا۔اسی طرح ملتان کی بہاؤالدین ذکریا یونی ورسٹی کے سابق وزیٹنگ لیکچرارجنید حفیظ کے کیس کو بھی اسی زمرے میں شمار کیا جاسکتا ہے جس میں جنید کو فرضی مقدمے میں جان بوجھ کر پھنسایا گیا ہے۔
اب یہ وقت آن پہنچا ہے کہ حکومت اس بارے میں ہوش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آنکھیں کھولے۔اقلیتوں کا مطالبہ رہا ہے کہ اس قانون کو ختم کیا جائے کیونکہ یہ ذاتی نوعیت کے معاملات اور جھگڑوں اور رنجشوں کیبدلے لینے کے لئے استعمال ہورہا ہے۔لیکن حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی اور وہ اس جانب آنکھے بند کئے بیٹھی ہے۔ایسے کئی ایک کیسز ثابت ہوجانے پر اس قانون میں جھوٹوں کی سزاکا تعین ہونا چاہیے ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں