مولاناطاہراشرفی کاپیغام پاکستان اور تلخ حقائق

مولاناطاہراشرفی کاپیغام پاکستان اور تلخ حقائق

وزیراعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی و امورمشرق وسطیٰ مولاناطاہرمحموداشرفی نے حال ہی میں اپنی ایک پریس کانفرنس میں بیان کیا ہے کہ وہ دنیا کو پیغام پاکستان سے متعارف کروانا چاہتے ہیں اور پاکستان کا اصل چہرہ وشناخت دکھانا چاہتے ہیں۔اپنی اس پریس کانفرنس میں انہوں نے اپنا تواتر سے دہرایا جانا والا ایک پھر سے دہرادیا کہ ان دنوں میں پاکستان میں کوئی ایک بھی کیس توہین رسالت کا جھوٹے الزام کے تحت درج نہیں ہوا جب کہ وہ ایسے کیسوں کی حقیقت سے خوب واقف ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں مذہب کے نام پرکوئی قتل نہیں ہوا۔انہوں نے اس بات کو محض پروپیگنڈا قراردیکر عوام الناس کو صریحاً اندھیر میں رکھنے کی کوشش کی ہے۔حالیہ دنوں میں توہین مذہب/رسالت کے جتنے کیس درج ہوئے ہیں ان کے پس پردہ حقائق و محرکات وہی ہیں جو ماضی میں تھے۔مذہب کے نام پر قتل کا جہاں تک تعلق ہے تو حالات اس ضمن میں بھی مختلف نہیں ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مولانا کیا اس قدر بے خبر ہیں؟ہرگز نہیں سب کو ایسی خبروں کا بخوبی علم ہوجاتا ہے توان کو ایسی خبروں کا پتہ کیوں نہیں چلتا؟حال ہی میں پنجاب میں ایک مسلم نوجوان کو جو توہین مذہب کے الزام سے بری ہوکر جیل سے رہا ہوا تھا ایک شخص نے ٹوکوں کے پے درپے وار کرکے بہیمانہ انداز سے قتل کردیا ہے۔
اس واقعے کے علاوہ خوشاب قائدآباد میں سرکاری بینک کے مینیجر کو قتل کرنے والے اس سیکورٹی گارڈ کو عدالت نے سزائے موت سنادی ہے جس نے اس کو اپنی رائفل سے گولیوں کا نشانہ بنایا تھا۔اس نے ذاتی معاملات،پرانی رنجش وعناد کی بناء پر بینک مینیجر کو توہین رسالت کاالزام عائد کرکے قتل کردیا تھا۔اس قاتل کو لوگوں نے کندھوں پر اٹھالیا اور اس کو ہیرو کا درجہ دیا۔اس کی رہائی کے لئے تھانے کا گھیراؤ کیا اوراس کی چھت بلکہ پوری عمارت پر قبضہ کرکے عملے کومحصور بنالیا تھا۔ایسے واقعات اب پل بھر میں دنیا کے کونے کونے میں پھیل جاتے ہیں۔لوگ حقائق سے واقفیت کے لئے کئی ایک ذرائع سے استفادہ کرتے ہیں۔ایسے میں یہ واویلا کرنا کہ یہ ہمارے ملک کے خلاف جان بوجھ کرپروپیگنڈاکیا جارہا ہے نامناسب بات ہے۔کیا کیاجائے کیوں کہ ہر ایک کسی ناخوشگوار واقعے کے تانے بانے یہاں آکر مل جاتے ہیں یا ان کا سراغ یہاں سے ملتا ہے تو اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔مغربی ممالک میں ہونے والی دہشت گردی کی کئی ایک کارروائیوں میں پاکستانی ملوث پائے گئے ہیں تو اس حقیقت سے منہ تو نہیں موڑا جاسکتا۔
اگر طاہراشرفی واقعی اس بات کے خواہش مند ہیں کہ پاکستان کی اچھی تصویر دنیا کو دکھائی جائے تو اس کے لئے ان کو بڑی محنت کا کام کرنا ہوگا۔اس کٹھن راہ میں بکھرے پڑے کانٹے ان کو چننا ہونگے۔یہ بگاڑ ایک دن کا نہیں کہ دنوں میں سنورجائے گا۔اس کے لئے بہت محنت درکار ہے کہ جو گانٹھیں ہاتھ سے لگائی گئی تھیں وہ اب منہ سے کھولنے والی ہیں۔کب تک ایسا ہوتا رہے گا کہ ہمارے ہاں سے ایسے کیسز ہوتے رہیں گے اور دنیا ہمیں ملامت کرتی رہے گی۔کب تک ایسا ہوگا کہ مغربی ممالک،ان کی حکومتیں اور ادارے ہماری تنبیہ و تصحیح کرتی رہیں گی؟اب یہ بات معمول بنتی جارہی ہے کہ ایسے کیسز پر یورپی یونین آوازاٹھارہی ہے۔حال ہی میں یورپی پارلیمنٹ کے کچھ اراکین نے شہزاد مسیح کیس کو بھی اٹھایا ہے۔قبل ازیں یورپی پارلیمنٹ کے ایک رکن کی قرارداد کی منظوری کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے توہین مذہب کے مقدمے میں مسیحی جوڑے شگفتہ اور شفقت عمانوایل کی رہائی کا حکم دیا ہے۔ان کی بے گناہی بذریعہ عدلیہ ثابت ہوچکی لیکن وہ بدستور قید میں ہیں۔یہ کہاں کا انصاف ہے؟کیا اب اس بارے میں یورپی یونین یا اس کی پارلیمنٹ ایک بار پھر سے آوازاٹھائیں؟
یہی وقت ہے کہ اگر طاہر اشرفی صدق دل سے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو نچلی سطح سے کام شروع کریں کہ بین المذاہب ہم آہنگی،رواداری،برداشت وتحمل کو فروغ دیں۔اخلاقیات پر عمل کروائیں اور اختلافی امور کو اچھے و درست انداز سے حل کرنے کی کوشش کی داغ بیل ڈالیں۔گدورتوں و نفرتوں کو زمین بوس بلکہ دفن کرنے کی شروعات کریں۔اگر آپ نے یہ سب کچھ کرنا ہے تو سو بسم اللہ کئی ایک اچھے لوگ آپ کے شانابشانہ چلنے کو تیارہیں۔انفرادی کے بجائے اجتماعی کاوشوں کو کامیابی ملتی ہے۔پریس کانفرنس میں مختلف مذاہب کے اور مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں کو ایک ساتھ بٹھا کر محض اپنی من پسند بات کرکے اٹھ کرچلے جانے سے کوئی کام نہیں ہوگا۔ذرا اپنے بیان پر غورکریں اور ٹھنڈے دل سے غور کریں ملک کے حالات کیا ہیں۔کیا آپ کا استدلال قابل قبول ہے کہ یہاں مذہب کے نام پر قتل نہیں نہوتے اور کیا یہاں قانون توہین رسالت کا غلط استعمال نہیں ہورہا؟ غیر جانبدار مبصرین اور انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ معمولی نوعیت کے اور ذاتی جھگڑوں کے معاملات بجائے پیارو محبت،افہام و تفہیم کے حل کرنے کے ان کے لئے یا تو بندوق اٹھائی جاتی ہے یا پھر قانون توہین رسالت کا پرچہ کٹوادیا جاتا ہے۔
سرکاری سطح پر اس بات کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے ہے لیکن سرکار کرکیا رہی ہے؟سرکار کے پاس وسائل ہوتے ہیں انتظامیہ ہوتی ہے۔کیا آج تک کسی کو پکڑ کر سزا دلوائی گئی ہے کہ اس نے توہین رسالت کا جھوٹاالزام کیوں عائد کیا؟ کیا حکومت نے کسی عدالت میں مؤقف اپنایا ہے کہ اگر شکایت کنندہ کیس ثابت نہیں کرسکا،شواہد پیش نہیں کرسکا اور مبینہ طورپر توہین رسالت کا ملزم باعزت بری ہوگیا ہے تو مدعی کے خلاف قذف کا،جھوٹی گواہی کا مقدمہ درج کیا جائے۔تعزیرات پاکستان میں جھوٹی ایف آئی درج کروانے یاکسی پر جھوٹاالزام لگانے کی سزا کی دفعات موجود ہیں آج تک کوئی ایک ایف آئی آر ایسے افراد کے خلاف ان دفعات کے تحت درج ہوئی ہو تو پیش کی جائے۔ریکارڈ کے مطابق اب ایسی ایف آئی آر صرف اقلیتوں کے خلاف ہی درج نہیں ہورہی ہیں بلکہ اکثریتی مسلم بھی اس کا نشانہ بن رہے ہیں۔حال ہی میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذرے سال توہین مذہب سے متعلق سب سے زیادہ ایف آئی آرزایک مخصوص مکتبہ فکر کے علماء کے خلاف درج ہوئی ہیں۔خدارااس سلسلہ کوروکیں اور اپنا چہرہ خود مسخ نہ کریں۔
ٰٗٗ

Samson

Read Previous

نادرہ ۔۔۔۔۔۔۔مذہبی انتہا پسند

Read Next

عروجِ مریم چرچ میں 23 بچوں نے ریورنڈ فادر نذر نواب سے پہلی پاک شراکت کا ساکرامنٹ حاصل کیا۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے