اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے فورس کا قیام

اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے فورس کا قیام

ملک میں بسنے والی اقلیتوں کے جان ومال اورعبادت گاہوں کے تحفظ کے لئے خصوصی فورس کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس بارے میں احکامات سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ یک رکنی کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر شعیب سڈل نے جاری کئے ہیں۔انہوں نے ایسا سپریم کورٹ کی جانب سے 2014خ س میں دیے گئے فیصلے کی روشنی میں کیا ہے۔سپریم کورٹ کے احکامات کی بجا آوری کے سلسلہ میں حکومتوں کی جانب سے مسلسل ٹال مٹول والارویہ اپنایا گیا ہے جو افسوس ناک امر ہے۔ڈاکٹر شعیب سڈل نے اس سلسلہ میں وفاق اور چاروں صوبائی حکومتوں کو مراسلہ ارسال کیا ہے کہ پولیس کے موجودہ نظام میں اقلیتوں کے اور ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے ایک خصوصی فورس بنائی جائے۔لیکن اس حساس مسئلے پر ہمیشہ کی طرح کوئی خاص توجہ نہیں دی جارہی ہے۔اپنے مراسلے میں ڈاکٹر شعیب سڈل نے یہ بھی تحریر کیا ہے کہ یہی فورس اقلیتوں کی جبری تبدیلی مذہب اورجبری شادیوں پر بھی نظر رکھے اوران کی روک تھام کے لئے کرداراداکرئے۔اطلاعات ہیں کہ وفاق اور چاروں صوبوں کے آئی جیز نے اس ضمن میں اپنی سفارشات حکومتوں کو بھیج دی ہیں لیکن ابھی تک ان پر کوئی کام نہیں ہوا ہے۔
یک رکنی کمیشن کی جانب سے ان وجوہات کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے جن کی بنیاد پر اقلیتوں کی جان و مال اور ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے ہے۔کمیشن نے اس سلسلہ میں جامع نظام یعنی رپورٹنگ،مانیٹرنگ اورٹریکنگ پر زوردیا ہے۔دیکھا جائے تو ان سب حساس معاملات پر سنجیدگی سے کام کیا جانا چاہیے ہے لیکن یہاں حکومتوں کی غفلت صاف اس بات کا عندیہ دے رہی ہے کہ شاید وہ کسی بڑے سانحے کے منتظر ہیں۔وائضح رہے کہ سپریم کورٹ کا اس بارے میں فیصلہ بھی پشاور کے آل سینٹس چرچ پر ہونے والے دو خودکش دھماکوں کے نتیجہ میں بڑے پیمانے پر مسیحیوں کے جاں بحق ہونے کے بعد کیا گیا تھا۔سپریم کورٹ نے اس واقعے کاازخودنوٹس لیا تھا اور ایک تفصیلی فیصلہ اس وقت کے چیف جسٹس جناب تصدق حسین جیلانی نے لکھا تھا۔اس کی رو سے حکومتوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اقلیتوں کے جان و مال اور عبادت گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔احکامات تھے کہ اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے اطراف میں حکومت سی سی تی وی کیمرے نصب کرئے۔اس کے لئے ٹینڈر بھی ہوئے رقوم کی بھی مختص ہوئیں لیکن عملی طور پر کچھ نہ ہوا۔
حال ہی میں رونما ہونے والے واقعات اس بات کے گواہ ہیں کہ اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر کیسے حملے کرکے ان کے تقدس کو پامال کیا جاتا ہے۔مشتعل ہجوم اور حملہ آور جتھے پل بھر میں اندرگھس کر باآسانی توڑ پھوڑ کرکے چلے جاتے ہیں۔ان کو ئی روکنے والا پوچھنے والا نہیں اور نہ ہی ان کو گرفتار کیا جاتا ہے۔اگر وہ گرفتار بھی ہوتے ہیں تو جلد ضمانت پر رہائی پالیتے ہیں۔عبادت گاہوں منظم انداز سے حملے ہوتے ہیں اور مخصوص افراد عام لوگوں کو اس بارے میں اکساتے ہیں۔اس دوران پولیس خاموش تماشائی کا کرداراداکرتی ہے جو کہ مجرمانہ فعل کے مترادف ہے۔بدقسمتی سے آج تک اس قسم کے حملوں میں کسی کو سزاء نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی کسی چھوٹے بڑے عہدے پر تعینات پولیس افسر کو کسی تادیب یا سرزنش کاسامنا کرنا پڑا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ سانحہ گوجرہ کے وقت وہاں تعینات پولیس افسر کو نااہل جان کر اس بات کی سفارش کی گئی کہ آئندہ اس کو کسی اہم عہدے پر تعینات نہ کیا جائے لیکن انتہائی افسوس کی بات یہ ہوئی کہ وہ پنجاب پولیس کے اعلیٰ ترین عہدے پر براجمان ہوا۔ایسی ہی کئی اور مثالیں موجود ہیں۔بادامی باغ لاہور کی جوزف کالونی میں جو کچھ ہوااس کے بعد پولیس افسران کا محاسبہ بنتا تھا لیکن وہ بھی اعلیٰ عہدے اورترقیاں پانے میں کامیاب رہے۔
اقلیتوں کے جان ومال اوران کی عبادت گاہوں کے تحفظ کو سنجیدگی سے لینا وقت کی ضرورت ہے۔حکومت اس کو سمجھے نہ سمجھے لیکن ڈاکٹر شعیب سڈل نے اس بات کو بخوبی محسوس کیا ہے کیوں کہ وہ خود ایک طویل عرصہ پولیس میں ملازمت کرچکے ہیں۔جہاں اب وہ خصوصی فورس کے قیام کو عملی جامہ پہنانا چاہ رہے ہیں وہیں وہ پولیس کی روایتی کاہلی ونااہلی سے بھی واقف ہیں۔پولیس کی تربیت کا معیار کیا ہے اوران میں پیشہ ورانہ مہارت کا کس قدر فقدان ہے سب کو علم ہے۔ان کا یہ خیال تو بہت اچھا ہے لیکن خصوصی فورس صرف برائے نام نہیں ہونی چاہیے بلکہ اپنے کام سے اس کو یہ بات ثابت کرنی ہوگی۔یہ بڑاحساس معاملہ ہے اوراس کے لئے چاق وچوبند دستے درکار ہونگے۔ان کو اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے اطراف چوکنا ہوکر اپنے فرائض کی سرانجام دہی کرنا ہوگی۔بدقسمتی سے پولیس کا عملہ ناکافی ہوتا ہے کہ ان کو عبادت گاہوں پر تعینات کیا جائے۔زیادہ تر نفری تو وی آئی پی موومنٹ پر لگی ہوتی ہے اوراس کے علاوہ نفری استحقاق نہ رکھنے والوں کی سیکورٹی پر بھی مامور ہوتی ہے۔ایسے میں عبادت گاہوں پر جو عملہ تعینات کیا جاتا ہے وہ کم ہوتا ہے اورزائد گھنٹے کام کرکے سیکورٹی کی فراہمی میں مدد گار ثابت نہیں ہوسکتا۔
ڈاکٹر شعیب سڈل پولیس کے موجودہ نظام کا حصہ رہے ہیں اوراس کے کام کرنے کے انداز سے خوب واقفیت رکھتے ہیں۔بعض اوقات تو نفری صرف کا غذوں اورروزنامچے کی حد تک ہوتی ہے۔تھانے کا مھرر اپنی مرضی سے اوربعض اوقات رشوت لیکر کانسٹیبلز کی تعیناتیاں کرتا ہے۔متعلقہ افسران بھی کبھی خود موقعے پر جاکر نفری چیک نہیں کرتے ہیں۔پولیس کی عین ناک کے نیچے کیا کچھ نہیں ہوتا؟اس لئے اس خصوصی فورس کو ان سب قباحتوں سے پاک ہونالازمی ہے۔ڈاکٹر سڈل کو چاہیے ہے کہ وہ حکومت کوتجویز دیں کہ اس خصوصی فورس کی تشکیل کے لئے بہتر ہوگا کہ محکمہ پولیس میں پانچ فیصداقلیتی کوٹہ پر ایسے نوجونواں کو بھرتی کیا جائے جواہل ہوں اور پولیس کے مقررکردہ معیار پر پورااترتے ہوں۔اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے کی وجہ سے وہ اپنی عبادت گاہوں پر اپنے مذہبی رہ نماؤں سے مل کر سیکورٹی کی ڈیوٹی کواچھی طرح سرانجام دیں گے۔اس طرح ان کی جو سوچ ہے کو اچھے ودرست انداز سے عملی جامہ پہنایا جاسکے گا۔توقع ہے کہ حکومتیں اور یک رکنی کمیشن اس بارے میں ضرور توجہ دے گا۔

Samson

Read Previous

ماں

Read Next

مقرب فرشتے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے