عالمی یوم خوراک منانے کا مقصد اورکرنے کے کام

عالمی یوم خوراک منانے کا مقصد اورکرنے کے کام

عالمی یوم خوراک ہرسال ایک خاص مقصد کے تحت منایا جاتا ہے اوراس حوالے سے مخصوص پیغام دیا جاتا ہے۔امسال بھی اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ برائے خوراک نے عوام الناس کی توجہ اس اہم ترین موضوع کی جانب دلوائی ہے۔اس سال کا موضوع بڑا ہی معنیٰ خیز ہے یعنی ہماراطرزعمل ہمارامستقبل۔اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد بڑاواضح ہے دنیا میں بڑھتی ہوئی بھوک اورخوراک کی قلت پر قابو پایا جائے۔بدقسمتی کی بات ہے کہ عوام کی اکثریت کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے جس سے ان کی زندگیاں شدید متاثر ہورہی ہیں کیوں کہ ان کو طرح بہ طرح کے طبی مسائل کا سامنا ہے۔اس کے برعکس معاشرے کے وہ افراد جن کو خوراک وافرمقدار میں دستیاب ہے وہ اس کو ضائع کرتے ہیں۔یہی وہ طرزعمل ہے جس کی جانب امسال ہماری توجہ دلوائی گئی ہے کہ ہم اس سے احتراز کریں۔اقوام متحدہ نے سنگین صورتحال کے پیش نظر انتباہ کیا ہے کہ اگر یہ طرز عمل یونہی جاری رہا تو ہمارا مستقبل کچھ اچھا نہ ہوگا۔دنیا اس سے اس قدر متاثر ہوگی کہ انسانی جانوں کو بچانا مشکل ہوگا اور ایک بڑاالمیہ جنم لے گا جس کو روکنا اس وقت بس سے باہر ہوچکا ہوگا۔یہی وہ وقت ہے کہ ہم اس بارے میں سنجیدگی سے سوچ کر کچھ عملی اقدامات اٹھائیں۔اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہم نے اپنے زرعی اورغذائی نظام میں بہتری نہ لائی تو تباہ کن نتائج کاسامنا ہوگا۔
اقوام متحدہ کے ایک محتاط اندازے کے مطابق اگرموجودہ حالات میں بہتری و تبدیلی نہ لائی گئی تو تین دہائیوں کے بعد خوراک کی کمی کی وجہ سے جومسائل سامنے آئیں گے اس سے انسانی المیہ جنم لے گا جس کا تصور بھیانک ہے۔موسمیاتی تبدیلیوں نے زرعی اجناس کی پیدوار میں کمی واقع کی ہے۔اس کے علاوہ پانی و کھاد کی بروقت فراہمی کے مسئلے کی وجہ سے بھی کسانوں کو شدید مشکلات ہیں اور وہ اپنی مکمل استعداد کے مطابق فصلیں نہیں اگا پارہے ہیں۔دوسری جانب کچی یا پکی پکائی خوراک کو بھی ضائع کیا جارہا ہے۔تخمینہ ہے کہ ہرسال ڈیڑھ ارب ٹن خوراک ضائع ہورہی ہے۔ضائع ہونے والی اس خوراک سے قریباًدس ارب افراد اپنی بھوک مٹاسکتے ہیں۔ماہرین نے اس بات کا بھی تخمینہ لگایا ہے کہ ترقی پزیراورترقی ممالک میں تقریباً پچاس فیصد افراد اس ضائع ہونے والی خوراک سے مستفید ہوسکتے ہیں۔یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ہم المیے سے بچنے کے لئے اس بارے میں سوچیں اورایسے اقدامات اٹھائیں کہ خوراک ضائع نہ کی جائے۔اعدادوشمار پر گہری نظر رکھنے والے صورتحال کو اس لحاظ سے سنگینی کا حامل قراردیتے ہیں کہ جس شرح سے آبادی میں اضافہ ہورہے اس تناسب سے خوراک کی فراہمی میں کمی واقع ہوگی۔اگر انسان اسی طرح خوراک ضائع کرتا رہا تو اس کو جینے میں شدید مشکلات کاسامنا ہوگا۔
اس ساری صورتحال کے پیش نظر عالمگیر کاتھولک کلیسیاء کے روحانی سربراہ پاپائے اعظم فرانسس اس موضوع کی مناسبت سے کئی بار کھل کر اظہار خیال کرچکے ہیں کہ ہمیں خوراک پھینک رویے کو ترک کرنا ہوگا۔انسان اتنی خوراک لے جتنی اس کو درکار ہے۔اس طرزعمل کو اپنانے سے سب کو مساوی خوراک مل سکے گی۔یہ ناانصافی اور غیر اخلاقی بات ہے کہ کوئی تو زیادہ مقدار میں کھانا کھائے اوراس کو ضائع کرنے میں بھی تامل نہ کرئے اور کوئی کھانے کو ترس رہا ہو۔اس سال کا موضوع بھی ہم سے یہی تقاضہ کرتا ہے کہ ہم ایسا طرزعمل اپنائیں جس سے ہرکسی کو وافرمقدار میں کھاناباآسانی مل سکے۔کئی ایک کی عادت ہے کہ وہ ضرورت سے زیادہ کھانا منگواتے یا نکال لیتے ہیں اورپھر اس میں سے چند لقمے تناول کرکے بقیہ کو چھوڑ دیتے ہیں جسے پھینک دیا جاتا ہے۔یہ انتہائی نامناسب اورناقابل قبول عمل ہے جس کی روک تھام کی جانی چاہیے ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں بھی یہ بات عام ہے کہ لوگوں ریستورانوں میں ضرورت سے زیادہ کھانا منگواتے ہیں جو ضائع جاتا ہے۔خیال کریں کہ اس ضائع ہوجانے والی خوراک سے کتنے افراد اپنا پیٹ بھرسکتے ہیں۔اسی طرح شادی بیاہ کی دعوتوں اور خوشی وغمی کے مواقعوں پر جس طرح لوگ کھانا کھاتے ہیں اس کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی زیادہ مقدار میں کھانا لے لیا جاتا ہے جسے چھوڑکر کھانے کی کوئی اور چیز بھی ضرورت سے زیادہ لے لی جاتی ہے اور کو چھوڑ کر کسی اور چیز کی جانب رخ کرلیا جاتا ہے۔یہی وہ افسوس ناک طرزعمل ہے جس سے بچنا چاہیے ہے۔حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اکثر ہوٹلوں کھانے پینے کے اسٹالوں اورشادی ہالوں کے اطراف ایسے افراد گھومتے پھرتے رہتے ہیں کہ ان کو اگر بچا ہوا کھانا مل جائے تو وہ سیر ہوسکیں۔
غذائی تحفظ اورامن وامان کا چولی دامن کا ساتھ ہے اورایک پرامن معاشرے کے لئے لازمی جزو ہے کہ سب کو ان کے حصے کی خوراک ملے۔دنیا میں دیکھا گیا ہے کہ مسلح طاقتورگروہ خوراک پر قابض ہوجاتے ہیں اور اس کی بندربانٹ کا باعث بنتے ہیں۔اس بات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ گزشتہ سال نوبیل امن انعام ورلڈ فوڈ پروگرام نامی تنظیم کو ان کی ایسی ہی کاوشوں پر دیا گیا تھا کہ انہوں نے دنیا سے بھوک مٹانے کا عزم لیکر مثبت کام کئے۔خطہ افریقا میں صورتحال اس معاملے میں بہت خراب و خطرناک ہے کہ مسلح افرادخوراک کی منتقلی کے عمل کواسلحہ کے زور پر قابو کرلیتے ہیں اور اپنے من پسندلوگوں کو خوراک پہنچادیتے ہیں اور کئی ایک مستحق لوگ منہ تکتے رھ جاتے ہیں۔خدانخواستہ یہی عمل دیگر ممالک میں بھی اختیار کیا جاتا سکتا ہے کیوں کہ بھوک اور خوراک کی کمی انسان سے بہت کچھ کرواسکتی ہے۔اس سے بچنے کا واحد حل یہی ہے کہ ایسا طرزعمل اختیار کیا جائے کہ لوگوں کا مستقبل ایسے منظر نہ دیکھ پائے۔اس میں جہاں حکومتوں کی ذمہ داری بنتی ہے وہیں معاشرے کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ سب کے لئے یکساں رویے اپنا کر خوراک کی فراہمی کو یقینی بنائے۔اگراس تناظر میں پاکستان کی بات کی جائے تو ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود بھی یہاں خوراک کی کمی کارجحان دیکھا جارہا ہے۔لوگوں کی عمومی خوراک کا اہم جزو گندم گو ملک میں وافر مقدار میں پیدا ہوتی ہے کہ ملکی ضروریات کو پورا کیا جاسکتا ہے۔لیکن زمینی حقائق یوں ہیں کہ ہمیں گندم باہر سے منگوانا پڑتی ہے۔

Samson

Read Previous

مقُدّس لوقا

Read Next

تیز رفتار دنیا میں دعا

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے