مقدس پطرس اور مقدس پولوس رسول کی عید

0
88

عمانوئیل فضل او۔پی

ہم خدا ئے غیور سے اُن عظیم اور چشم چراغ ہستیوں کا شکر ادا کرتے ہیں جن کی شہادتوں کا قیمتی خون اور جانوں سے مسیحی ایمان پروان چڑھا۔یہ ایمان ہر مسیحی مومن کی نجات کی دولت اور ظمانت ہے ۔ اُن ہستیوں میں دو معتبر اور قابل نا م مقدس پطرس اور پولوس کے ہیں جنکی آج ہم پاک ماں کیتھولک کلیسیاء کے ساتھ ملکر عید مناتے ہیں ۔ مقدس پطرس اور مقدس پولوس رسول مسیحیت کے بڑے رہنما گردانے جاتے ہیں۔ مقدس پطرس وہ نام ہے جس سے خدا وند یسوع مسیح کے رسولوں کی جماعت کے سردار کی پہچان ہو تی ہے ۔ اِ س کا نام نئے عہد نامہ میں ہر جگہ سر فہرست تحریر کیا گیا ہے ۔ تا ہم اِنہیں صرف ایک ہی نہیں بلکہ مختلف القابات سے نوازہ جاتا ہے ۔جیسا کہ شمعون بریونا ، شمعون پطرس، کیفا ، پطرس اور چٹان۔ اسی طرح مقدس پولوس کے لئے بھی جیسا کہ شائول ، شائول فریسی ، شائو ل طرسوسی، اور غیر قوموں کا رسول وغیرہ وغیرہ۔فطرتی لحاظ سے دو نوں شخصیات میں کا فی ہم آہنگی اور اختلافات بھی ملتے ہیں ۔ مقدس پطرس افتاد مزاج ، سرکش ، جلد باز ،جلد طیش میں آنے والا اور بغیر سوچے سمجھے جواب دینا اُس کی فطرت میں شامل تھا ۔ اِس کا ثبوت متی ۱۷ویں با ب میں درج ہے جب شاگردوں نے موسیٰ اور الیاس کو یسوع کے ساتھ جلا ل میں دیکھا تو وہ پطرس ہی تھا جس نے فوراً کہا کہ ’’ اے خدا وند ہمارا یہاں رہنا اچھا ہے ۔‘‘پھر جب یسوع مسیح کو گرفتا ر کرنے لگے تو یو حنا انجیل نویس لکھتا ہے کہ ’’تب شمعون پطرس نے تلوار جو اُس کے پاس تھی کھینچی اور سردار کا ہن کے غلام پر چلا ئی اور دہنا کا ن اُڑا دیا ۔‘‘یہاں مقدس پطرس کا بغیر سوچے سمجھے جو شیلاپن نظر آتا ہے ۔مگر اِن ساری کمزوریوں کے باوجود مسیح یسوع آج کی انجیلِ مقدس میں اُسے مبارک کہتا ہے ۔
آئیے ہم دنوں عظیم ہستوں کی زندگیوں کے بارے مختصراً جانتے ہیں۔
مقدس پطرس
پطرس (انگریزی: Peter) یونانی نام ’’پتروس‘‘ جس کا معنی ہے ’ ’پتھر‘‘ ۔ اس کا اصل نام ’’شمعون‘‘ تھا۔ کاتھولک کلیسیا اس کو اپنا بانی سمجھتا ہے اس سے کچھ کتب بھی منسوب ہیں۔ یہی پہلا پوپ مانا جاتا ہے۔ رومی بادشاہ نیرو کے عہد میں اس کو اس x طرح کی صلیب پر پھانسی دی گئی ۔ مقامی رہائش کے لحاظ سے پطرس بیت صیدا کا باشندہ تھا اس کے باپ کا نام’’یوحنا‘‘ تھا۔ وہ اَن پڑھ تھا۔آرامی اور یونانی زبانیں بول سکتا تھا۔ اس نے جوانی میں ماہی گیری کا پیشہ اپنایا۔

پطرس اور مسیح
اناجیل کے مطابق پطرس کی ساس کو یسوع مسیح نے اس کے کفر ناحوم نامی گھر میں شفا دی تھی یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پطرس ایک شادی شدہ شخص تھا۔ پطرس کے بھائی اندریاس نے پطرس کا تعارف مسیح سے کروایا اور اس طرح پطرس ایمان لایا، جس پر مسیح نے اس سے کہا ’’تو یوحنا کا بیٹا شمعون ہے، تو کیفا یعنی پطرس کہلائے گا۔‘‘ مسیح کو تین بار رد کرنے کے بعد پطرس غائب ہو گیا، جب واقعہ صلیب ہوا تو تب وہ وہاں نہیں تھا، لیکن اگلے دن وہ صبح مسیح کو زندہ دیکھتا ہے۔ اس کے بعد پطرس انطاکیہ چلا گیا جہاں پہلی مسیحی کلیسا قائم کی،اور اس طرح پطرس پہلا پوپ بنا، اس کے بعد روم چلا گیا اور 25 برس تک تبلیغ میں مشغول رہا، آخری عمر میں نیرو نے پطرس کو بد مذہبی پھیلانے کے الزام میں x طرح کی صلیب پر پھانسی دی، کہا جاتا ہے کہ اس طرح کی صلیب پر پھانسی کی خواہش خود پطرس نے کی تھی۔ اس طرح کی صلیب کو آج بھی پطرس کی صلیب کہا جاتا ہے۔

مقدس پطرس خُداوند یسوع مسیح کو پہچان لیتا ہے ۔ یسوع شاگر دوں سے سوال کر تا ہے کہ لو گ ابنِ انسان کو کیا۔کہتے ہیں؟تو جواب آتا ہے بعض یو حنا اصطباغی کہتے ہیں ۔بعض الیا س بعض ارمیا یا انبیا ء میں سے کو ئی ۔یسوع مسیح پھر اُن سے پوچھتے ہیں کہ ’مگر تُم مجھے کیا کہتے ہو؟‘۔اِس پر پطرس جلد ی سے جواب دیتا ہے کہ’ تو المسیح ہے زندہ خدا کا بیٹا ‘۔یسوع مسیح اُسے مبا رک قرار دیتا ہے اور اُسے کیفا بناتا ہے۔عہد نامہ جدید میں پطرس نام اس کے علاوہ کسی دوسرے کا نہیں ہے۔ جب گلیل میں تبلیغ کا عمل شروع کیا جانے لگا تو تب پہلی بار 12 افراد چنے گئے جن کو مسلمان حواری اور مسیحی شاگرد یا رسول کہتے ہیں۔ ان میں سے ایک پطرس بھی تھا۔ پطرس کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ جلد باز تھا اور رہنما بننے کی کوشش کرتا تھا جس بنا پر باقی افراد اس سے اختلاف کرتے تھے۔انجیل کے بیان کے مطابق پطرس نے آخری دنوں میں کچھ باتوں میں مسیح پر شک کیا۔ اور آخری دن تین بار مسیح کا انکار کیا۔اور اس کے بعد وہ غائب ہو جاتا ہے اور واقعہ صلیب کے بعد نظر آتا ہے۔ اس کے بعد یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ بعد وصال جب مسیح جی اٹھا تو مقدس پطرس جی اُٹھے مسیحا کو دیکھنے اُس کی قبر پر جاتا ہے۔

پطرس سے منسوب تصانیف
کیتھولک کلیسیاء مقدس پطرس کی دو کتابیں وہ ہیں جن کو مسیحی الہامی مانتے ہیں۔
پطرس کا پہلا عام خط
پطرس کا دوسرا عام خط
اس کے علاوہ کچھ کتب بعض غناسطی اور مسیحی فرقے پطرس سے منسوب کرتے ہیں۔
۔1۔پطرس کی انجیل ۔2۔پطرس کے اعمال یا اعمال پطرس۔3۔مشاہدات پطرس ۔4۔مشاہدات پطرس دوم۔5 ۔مباحثہ پطرس و ای پین۔6۔تعلیم پطرس۔ 7۔وعظ پطرس۔8 ۔آداب دعا پطرس۔ 9۔کتاب مسافرت پطرس ۔10۔کتاب قیاس پطرس ۔ 11۔کلیمنس کی جانب ایک

مقدس پولوس
(عربی: بولس، فارسی/اردو:پولوس، انگریزی:پول، Paul)، یسوع مسیح کے رسول اور مسیحی علمِ الٰہیات کے مبلغ اور مفسر، عہد نامہ جدید کے کئی اہم خطوط کے مصنف۔ پولوس کا شمار مسیحیت میں یسوع مسیح کے بعد سب سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ ان کی آخری زندگی کے متعلق اختلاف ہے کہ ان کی موت کیسے ہوئی۔پولوس نے یروشلیم میں ممتاز یہودی عالم گملی ایل سے تعلیم حاصل کی۔ وہ ابتدا میں کٹر یہودی تھا لیکن ایک خُداوند یسوع کے ظاہر ہونے پر مسیحی ہو گیا۔خداوند یسوع مسیح کے بعد مسیحی تبلیغ میں انکا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔

ابتدائی زندگی
پولوس کے بارے میں معلومات کا ماخذ بائبل میں شامل کتاب رسولوں کے اعمال اور اس کے اپنے خطوط ہیں۔ .پولس کا عبرانی نام ساؤل تھا جس کے معنی’’مانگے ہوئے‘‘ کے ہیں۔اِسی لفظ کے ایک اور معنی’’بڑے‘‘کے ہیں۔اعمال 9:13 میں اِنکا یہی نام درج ہے۔اِس کے بعد انہیں رومی نام پولس سے ہی یاد کیاجاتا ہے۔پولس لاطینی لفظ پولوس کی یونانی شکل ہے جس کے معنی پہلے نام کی ضدیعنی’’چھوٹے‘‘ کی ہے۔پولوس رومی صوبہ کلِکیہ تَرسْس میں پیدا ہوا پولوس کا عبرانی نام ’’شاول‘‘ تھا۔اپنے خطوط میں بھی وہ یہی نام استعمال کرتے ہیں۔ وہ بنیامن کے قبیلہ سے تھا اور یہودی فیقہ (فریسی) بھی تھا، شریعت موسوی اور یہودی فقہ کی تعلیم گملی ایل نامی یہودی فقہ کے اْستاد سے پائی۔

تبدیلیِ ایمان : پولوس اولاً یسوع مسیح کے حواریوں کو مسیحِ موعود کے نام کی منادی کرنے کے سبب نہ صرف ستایا کرتا تھا بلکہ یہودی فقہ کی کونسل سے ان کے خلاف فتویٰ حاصل کرکے ان کے قتل کی سازشوں میں سرگرم تھا۔ اسی طرح کا ایک فتویٰ اس نے دمشق کے عبادت خانوں کے خلاف حاصل کیا اور ان کو دمشق سے یروشلیم لانے کے لیے نکلا اور دمشق کی راہ میں مسیحی روایات کے مطابق یسوع مسیح نے اس پر ظاہر ہوکر اس کو غیر اقوام کے لیے اپنا نمائندہ مقرر کیا۔

مقدس پولس کی شہادت: یہ خدا کا خاص انتظام تھا کہ مقدس پولوس کی زندگی میں اس زمانے کے تین عناصر یونانی ثقافت، رومی شہریت اور یہودی مذہب انہیں اپنے آباؤاجداد سے ورثہء میں ملا تھا۔مقدس پولوس3ق م میں شہر طرطوس میں پیدا ہوئے۔طرطوس صوبہ کِلکیہ کا مشہور شہر تھا جہاں رومی اور یونانی تہذیب وتمدن آپس میں ملتے تھے۔اِسی وجہ سے طرطوس بڑا تجارتی اور مرکزی شہر بن گیا تھا یہ بکری کی پشم سے کپڑا بنانے کے لیے بہت مشہور تھا۔ پولوس رسول کا یہی پیشہ تھا۔ ابھی وہ بچے تھے ان کی والدہ وفات پاگئی تھیں۔وہ روفن اور سکندر کی ماں کو اپنی والدہ کہتے ہیں۔یہ خاتون شمعون کرینی کی اہلیہ تھیں۔ مقدس پولوس یہودی نسل سے تھے اور بہترین یہودی تعلیم وتربیت سے مزین تھے۔اس نے اعلیٰ تعلیم یروشلیم سے حاصل کی۔گملی ایل انکے اُستادتھے۔ پہلے وہ کلیسیا ء کوبہت ستاتے رہے مگر جب مسیح یسوع کو نجات دہندہ قبول کر لیا تو مسیحیت پھیلانے میں ہرممکن کوشش کی۔اُنہوں نے کلیسیا ؤں میں بہت دورے کیے اور یسوع کے نام سے تکالیف برداشت کیں اور قید میں بھی رہے۔عہد جدید کی 27کتب میں سے13خطوط ان کے ہیں جبکہ عبرانیوں کے خط کے بارے میں علما کا خیال ہے کہ وہ انہوں نے نہیں لکھا۔ شہادت سے پہلے مقدس پطرس اور مقدس پولوس کو ایک ہی قیدخانہ میں رکھا گیا جس کا نام’’مہارتِینی‘‘ تھا، اس زیرِزمین قیدخانہ کا ایک حصہ تو کاپتولینی پہاڑی کے نرم پتھروں کو کاٹ کربنایاگیا تھااور دوسرا حصہ انہی پتھروں کے ٹکڑوں کو جوڑ کرخالص چونے سے تعمیر کیا گیا تھا۔جن لوگوں کو اِس خوفناک جگہ پر قیدکیا جاتا تھا انہیں پتھروں میں ایک سوراخ کے ذریعے اِس قید خانہ میں اتارا جاتا تھااور داخلہ کے لیے صرف ایک یہی راستہ تھا۔یہ ایک زندہ مقبرہ کی مانندتھا جس میں سورج کی روشنی بھی نہیں پڑتی تھی اور ہوا کا گزربھی نہیں ہوتا تھا۔دونوں رسولوں کو سخت پتھرکے ستون کے ساتھ رنجیروں سے باندھ دیا گیا تھا۔ یہ قید خانہ آج کھنڈروں کی صورت میں موجود ہے اور اس میں ایک چشمہ بھی ہے۔روایت ہے کہ جب مقدس رسول اپنے ساتھی قیدیوں کوبپتسمہ دینا چاہتے تو یہ چشمہ بہنے لگتا۔اِس چشمہ سے کتناہی پانی بہہ جائے، پانی کی سطح آج بھی برقرار رہتی ہے۔ قدیم روایت ہے کہ مقدس پطرس اور مقدس پولوس کو29 جون67ء مسیح،میں ایک ہی روزشہید کیا گیا تھا۔مقدس پطرس رومی شہری نہیں تھے اُنہیں اُلٹا صلیب پر لٹکایا گیا۔مگر پولوس رسول رومی شہری تھے لہٰذا اُنہیں صلیب نہیں دی جاسکتی تھی لہٰذا اُنہیں 29 جون67ء میں 70سال کی عمر میں شہر سے باہر تلوار سے شہید کیا گیا۔جب اِنکا سر تلوار سے قلم کیا گیاتو آواز آئی! یسوع،یسوع، یسوع۔سر تین بار اُچھلا اور جس جس حصہ زمین پر لگا وہاں پانی کے چشمے نکل آئے آج وہاں تین چشموں والا گِرجہ ہے۔ روایت ہے کہ اُنہیں مقدس لوقیانہ خاتون نے بزرگوں کی مدد سے دفن کیا۔

آج جب ہم دنوں مقدسوں کی عید مناتے ہیں تو یہ عید ہمیں ایمان میں پختہ اور یسوع کے پیچھے چلنے کی دعوت دیتی ہے۔ تاکہ ہم کبھی بھی کلمہ کی گواہی دینے سے ہرگز نہ ڈریں بلکہ مسیح کے فضل سے ایمان کی گواہی جان پر کھیل کر دیتے جائیں۔



جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں