کتب کا شہنشاہ

0
103

کرسٹوفر زاہد

1947 خ س کے موسم گرما کے شروع میں ایک بدوی لڑکا کا محمد بحیرہ مردار کے کنارے اپنی بکریاں چرواہا تھا ۔ اُس کی ایک بکری کم ہوگئی ، اُسے تلاش کرتا ہوں ایک پہاڑی کی گھود کے پاس پہنچا جس کا منہ گو ل تھا ۔ اس خیال سے کہ شائد بکری اُس میں گر گئی اُس میں جھک کر دیکھا لیکن غاز میں تاریکی کے سبب اُسے مجھ نظر نہ آیا۔ تب اُس نے اندر پتھر پھینکا تو کسی چیز کے ٹوٹنے آواز آئی ۔ وہ سمجھا کہ شائد اس میں کوئی بھوت رہتا ہے لہٰذا وہاں دے ڈر کر بھاگ گیا ۔ دوسرے روز وہ ایک اور لڑکے کے ساتھ وہاں آیا ۔ اس خیال سے کہ شائد اُس میں کوئی خزانہ چھپا ہے ، وہ دونوں غار میں اتر ئے۔ انہیں وہاں چند بڑے مرتباں نظر آئے جن میں سے ایک محمد کے پتھر کی ضرب سے ٹوٹا پڑ تھا ۔ ان مرتبالو ں میں خزانہ کی بجائے انہیں ایک درجن چمڑے کے طومار انہوں نے بیت لحم میں جاکر بیچ دیا ۔اتفاق سے خریدار ایک شاہی مسیحی تھا ۔ وہ اُن کو مقدس مرقس کی خانقاہ میں شامی کلیسیاؔ کے میٹرو پا پالی ٹن ( اُسقف ۔ بشپ) کے پاس لے گیا۔ جب میٹرو پالی ٹن نے دیکھا کہ وہ عبرانی تحریر ہے تو اُس نے انہیں خرید لیا۔
1948 خ س کی عرب اور اسرائیل کی جنگ میں اس میٹرو پالی ٹن کی خانقاہ پر گولہ بارئ ہوئی۔ چنانچہ وہ اُسے ترک کرکے امریکہ چلا گیا اور اُن طوماروں کو بھی اپنے ساتھ لیتا گیا ۔ جب اُس نے اُن طوماروں کو امریکہ میں فروخت کیا اورمسیحی فضلا نے اُن کا مطالعہ کیا اور اطباروں میں مضامین لکھے تو ادبی اور مذہبی دنیا میں تہلکہ مچایادیا ، کیونکہ یہ طومار عہد عتیق کی کتب مقدسہ کے قدیم ترین عبرانی نسخے تھے جو یُسوع المسیح سے صدیوں پہلے لکھے گئے تھے ۔ بعدازاں مزید تلاش سے 11 غاروں میں سے اور بھی نسخے دستیاب ہوئے جو تقریبا پانچ سو کے قریب ہیں ۔ ان مین سے سو طوماروں میں ماسوار آستر کی کتاب عہد عتیق کی کل کتب موجود ہیں ۔ پھر 1958 خ س میں توریت شریف اشتنا کا ایک نسخہ ملاِ جو یُسوع المسیح سے تین صدیاں پیشتر کا لکھا ہوا یعنی دوہزار تین سو سال پرانا ہے۔ ایک اور طومار میں زبور شریف 121، 122، 145، 148 لکھے ملے۔
جب مسیحی معمار نے اِن طوماروں کا مروجہ عہد عتیق سے مقابلہ کیا تو بعین ویسا ہی پایا ماسوا چند ایک اختلاف کے جو نہایت شفیق ہیں ۔ ان طوماروں کی دستیابی کا سب سے اہم نتیجہ یہ نکلا کہ اب ہمارے پاس قدیم ترین نسخے ہیں، جن کی بنا پر ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے پاس جو عہد عتیق ہے وہ وہی ہے جو یُسوع المسیح سے سکیڑوں سال پیشتر موجود تھا ” درج بالا تحریر کتاب ” صداقت بائبل سے لی گئی ۔ اس نے قلم کار وکلف اے سنگھ ہیں ۔ بحیرہ مردار کے نسخہ جات عہد عتیق کے واضح طور پر الہٰی ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہیں ۔ یہ تو بات ہوئی عہد عتیق کی اگر جدید کی بات کی جائے تو عہد جدید کی تاریخ عہد عتیق کی مانند ہزاروں سالوں پر محیط نہیں ہے۔ عہد جدید چند سو سالوں کے عرصہ میں زیر تحریر لائے گئے ۔ تاہم علمِ آثارِ قدیمہ عہد جدید کے متن اور تاریخ پر بھی تھوڑی بہت روشنی ڈالتا ہے ۔ عہد جدید کی کتب پہلی صدی میں روح القدس کی تحریر کی گواہ ہیں ۔ ابتدا ہی سے مسیحی کلیسیائیں روزانہ تلاوت کے نئے کتب مقدس کی نقلیں کروائی تھیں ۔ بعض نسخے میں ان کی نقلیں کروائے رکھتے تھے ۔ ایذارسا نی کے دوران عبادت خانوں کے بیشتر نسخے تلف کردئیے جاتے تاہم مسیحیوں کے ذاتی نسخے محفو ظ رہتے تھے ۔ ان نسخوں میں پائیداری نہ تھی کہ وہ موجود دور تک محفوظ رہتے ۔ صرف وہی نسخے محفوظ رہے جہاں آب و ہوا خشک تھی ، نتیجہ انجیلی نسخوں کا زمانہ 14 سو سال کا عرصہ ہے جب یہ ہاتھوں سے نقل کئے جاتے کیونکہ پندر ہوں صدی میں چھاپہ خانہ ایجاد ہوا ۔ ابتدائی 14 صدیوں کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلا دور یہ پہلی صدی کے وسط سے لے کر چوتھی صدی کے آغاز تک ہے۔ اِس زمانہ میں کتب عام طور پر پیپرس پر لکھی جاتی تھیں۔ دوسرا دور چوتھی صدی سے نویں صدی تک کتب مقدس چمڑے یعنی رق پر بڑے اور جلی حروف میں لکھی جاتی تھیں۔ تیسرا دور نویں صدی سے پندرہوں صدی تک ہے ۔ اس زمانہ کی تحریر عموما رق چھوٹے حروف میں تحریر کی جاتی تھی۔ 1952 خ س مین مقدس یوحنا کی انجیل کا ایک قدیم نسخہ ملا جو تقریبا 200 خ س نے قریب کا تھا ۔ ایک اور نسخہ میں مقدس لوقا اور مقدس کی اناجیل اور مقدس پطرس کے خطوط اور یہوداہ کا خط محفوظ ہے ۔ چیٹرپیٹی کے نسخہ جات کے تین نسخوں میں عہد جدید کا بیشتر متن ملتا ہے ۔ یہ 220 خ س کے لگ بھگ کا ہے۔ دورِ اول کے تقریبا پچاس سے زائد نسخے موجود ہیں ۔ دو رِ روم میں مسیحی کلیسیا کو امن و آرام نصیب ہوا ۔ اور شہنشاہ کا نسٹن ٹائن کی بدولت مسیحیت شاہی مذہب کو قرار پایا تو اُس نے اپنی سلطنت کی بڑے گرجوں کے لئے کتب مقدسہ کی 50 جلد یں نقل کروائیں۔ چند قلمی نسخوں کے یوں ہے : کینسوس سینا ، نسخہ ویٹی کن ، نسخہ سکندریہ ، نسخہ واشنگٹن ، نسخہ افرائیمی ، خربت مرد کے نسخہ جات وغیرہ ۔

ہمیشہ کی عظیم ترین کتاب
بائبل ہمیشہ کے لئے دنیا کی عظیم ترین کتاب ہے ۔ یہ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے ۔ تاریخِ دنیا میں یہ سب سے زیادہ ترجمہ شدہ کتاب ہے۔ یہ بدستور فروخت ہونے والی پہلی نمبر کی کتاب ہے۔ دنیا کی تاریخ میں یہ انمول ترین کتاب ہے ۔ بائبل تاریخِ کی متاثر کن ترین کتاب ہے اور یہ اب تک کی سب سے اہم ترین کتاب ہے ۔ اس میں کوئی دو لائے نہیں کہ بائبل زندگیوں کو اولین کتاب ہے” پر ہمارے خُدا کا کلمہ ابد تک قائم رہے گا ” ( اشعیا 40: 8)۔

نعمتوں کا سر چشمہ
بائبل ادب کی سب سے بڑی کتاب ہے ۔ فنون لطیفہ کا شہکار فن تعمیر کا عظیم ترین شہکار اس لئے مزمور نویس کہتا ہے، ” لیکن میرا دل تیرے کلام سے خوف کھاتا ہے "( مزمور 119: 161)۔

ٹھوس بنیاد
بائبل ٹھوس بنیاد ہے ہم میں جس قدر بھی برائی ہے ۔ اس کی اصلاح کے بہترین کتاب ہے ” مسیح کا کلام تُم سے بہتات سے رہے اور تُم ایک دوسرے کو کمال دانائی سے تعلیم دیا اور نصیحت کیا کرو اور مزامیر اور گیت اور روحانی ترانے شکرگزاری کے ساتھ خُدا کے لئے اپنے دل میں گایا کرو ” ( کلیسوں 3: 16)۔

غلطی سے مبرا
بائبل روزمرہ کی زندگی کے واحد ناقابل یقین اور لاخطا رہنما ہے ۔ یہ تمام دانش مند قوانین کا ماخذ ہے یہ ایک حقیقی طاقت ہے جو اس کے مخالفوں پر فتح حاصل کرتی ہے” بلکہ شریعت اور شہادت سے سوال کرلو۔ جو کوئی اِس کلام کے مطابق بات نہ کرے ۔ اُس کے لئے صبح روشن نہ ہوگی ” ( اشعیا 8: 20)۔

عظیم ترین کتاب
کلام مقدس کے متعلق بہت کچھ کہا جاتاہے ۔ دشمتان ِ بائبل انواع و اقسام کی بے شروپا باتوں سے اپنی عظمت کو چار چاند لگانے کی سعی کرتے ہیں ۔ بائبل کو مختلف ادوار میں انسانوں کی نفرت باعث بہت کسی مشکلات کا سامنا رہا ہے تاہم یہ کلام خُدا جس نے اپنا وجود نہ صرف برقرار ہے بلکہ اپنے دشمنوں کی زندگیوں کو یکسر تبدیل کیا ۔ کوشش کروں گا کہ آپ کو کچھ نیا بتایا جائے جو آپ نے پہلے کبھی نہ سننا ہو ۔ یہ تاریخِ دنیا کی حیرت انگیز ترین کتاب ہے ۔ مندرجہ ذیل شواہد بائبل کی عظمت کو بیان کرتے جن کا موازنہ نہیں ہوسکتا :
1۔ آثار قدیمہ کے بائبل کے متعلق طور پر پائے جانے والی ثبوت موجود ہیں ۔
2۔ بائبل مقدس 1600 خ س سالوں میں تحریر ہوئی اس کے باوجود کے یہ تاریخ کے مختلف اوقات میں مختلف مصنففین کے تحریر کی اِس میں ادبی اسلوب منتقل موجود ہے ۔
3۔ نجات ، عدالت ، پیش گوئیاں سے عنوانات پر تمام لکھاریوں داخلی مستقل مزاجی پائی جاتی ہے۔
4۔ عہد جدید کے 5500 سے زیادہ یونانی نسخے یا تقریبا 24000 عہد جدید کے مکمل نسخے موجود ہیں ۔ اگر ہم بائبل کے قدیم ترین نسخوں کا مقابلہ دیگر قدیم نو نسخوں سے کریں تو افلاطون اور ارسطو کے تو یہ تقریبا 300 ہیں اور قدیم یونانی شاعر’ہومار’ کو بھی ساتھ شامل کرلیں تو یہ 643 ہیں جو بائبل کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں۔
5۔ اپنی آنکھوں سے دیکھنے والے مقدس متی ، مقدس مرقس ، مقدس لوقا ، مقدس یوحنا اور پانچ سو سے زیادہ گواہوں نے یُسوع مسیح کو جی اُٹھنے بعد 40 دن کے عرصہ میں دیکھا ۔
6۔ 86،000 بائبل کے اقوال تاریخ ِ کلیسیاؔ کے حوالوں میں موجود ہیں جو بائبل کو دوبارہ تحریر کرنے کے لئے کافی سے زیادہ فراہم کرتے ہیں۔
7۔ 1943 خ س میں اشعیا کی کتاب کی اصل عبرانی نقل نے الفاظ کی درستگی لفظ درست قرار دی ۔
8۔ سو فی صد درستگی کا بائبل مقدس کی بہت ساری پیشگوئیاں کا پورا ہونا ۔ ریاست اسرائیل، یُسوع مسیح کی ولادت اور قیامت ، انجیل کا دنیا کے چاروں کونوں میں پھیلاو۔
بائبل ایک نہایت حیرت انگیز کتاب ہے۔ اس میں جو تحریر ہے وہ کامل طور پر حقیقی ہے کیونکہ اس کا مصنف خود خُدا ہے۔
1۔ ریاست اسرائیل مسیح کی ولادت اور قیامت میں دانیال 2 اور 7 باب میں ملتا ہے اور بہت کچھ ہمیں کلام مقدس میں ملتی ہے۔
2۔ خُدا کی مہر جو ہمیں کلام مقدس میں ملتی ہے وہ ہماری دنیا میں بھی ہمیں نظر آتی ہے۔
3۔ کلام کی پہلی آیت خُدا کے متعلق ہے ، آخری آیت انسان کے متعلق ہے جبکہ درمیانی میں خُدا اور انسان دونوں کا ذکر ہے (مزمور 119: 8)۔

حاصل کلام
بائبل مقدس کو کتاب جس پر ہزاروں سالوں سے جتنے شدہ نوعیت کے اعتراضات کئے گئے ہیں کسی اور کتاب پر نہیں گئے اس کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی تمام کوشش ناکام رہی ہیں۔ کنین ڈائسن ہیگ اپنی کتاب ” عجوبہ کلام ” میں لکھتے ہیں ، ” تمام جہاں میں صرف یہی ایک کتاب ہے جو ہر زمانہ ظلم و ستم کے باوجود محفوظ ہے ۔ ہر صدی میں لوگوں کی انتہائی کوشش رہی ہے کہ لگاتار وحشیانہ اسے جلا کر دفن کردیں ۔ بڑے بڑے گروہوں کو اِسے نابود کرنے کی ترغیب دی گئی دنیاوی بادشاہوں اور دشمناں کلیسیاؔ کی کئی مرتبہ باہم مشورہ کیا کہ اسے تباہ و برباد کردیں کہ روئے زمین پر اس کا نام و نشان باقی نہ رہے۔ 303 خ س میں رومی دیو قلیطیان نے اِس پر ایسا خوفناک اور زبردست حملہ کیا ، جو پہلے کبھی کسی کتاب پر نہیں گیا گیا تھا ۔ بائبل مقدس کی تقریبا تمام جلدیں برباد کردی گئیں۔ بے شمار مسیحیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور ایک تباہ شدہ بائبل پر ایک ستون کھڑا کرکے اُس پر یہ کتبہ لکھ دیا : مسیحی کا چراغ زندگی بجھا دیا گیا ہے لیکن پھر جس طرح طوفان کے بعد حضرت نوح کشتی سے باہر نکلے اور زمین کو اپنی اولاد سے بھردیا اُسی طرح بائبل مقدس بھی کامیاب و کامران نکلی۔”
لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ فی زمانہ کلام مقدس جس قدر بھی تند و تیز حملے ہوئے اس کا وجود قائم و دائم ہے ، بے سمجھ اور کج فہم لوگوں کو جان لینا چاہے کہ یہ خُدا کا کلام ہے اور ابد تک قائم رہے گا۔بائبل مقدس کا مطالعہ ہر مسیحی کو کرنا چاہے اور اگر ہم بائبل مقدس کے بیانات کی اہمیت کو جانتا چاہتے تھے تو محض اِس مطالعہ کا فی نہیں بلکہ اِس پر عمل بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ کلام مقدس ہمیں مکمل طور پر تبدیل کرنے کی قدرت رکھتا ہے کیونکہ یہ زندہ خُدا کا زندہ کلام ہے۔

حرف آخر
امریکہ کے چالیس ویں صدر رولڈ رویگن کہتےہیں : بائبل کے اندر انسان کی تمام مشکلات کے جوابات موجود ہیں۔”



جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں