رحم کا بادشاہ

0
81

کرسٹوفر زاہد

رحمت نال ہے بھریا ہو یا،پاک یہووا ساڈا
غصہ تے کرن دے وِچ اوہ دھیرا پیار ات اوسدا ڈاہڈا

مزمور 103کے یہ خوب صورت الفاظ جب ہمارے پردہ سماعت سے ٹکراتے ہیں تو دل کو کس قدر تسلی، اطمینان و سکون ملتا ہے کہ ہمارا بادشاہ کس طرح رحم دل اور ہمارے گناہوں کے متعلق کس قدر صابر ہے۔

جناں اُچا الیس دھرتی تھوں ایہہ آسمان ہے سارا
رب دے ڈرن والیاں اُتے رحم ہے اوہدا بھارا

خُدا کا رحم کس قدر عظیم و مہیب اِس کا رحم کے جوبلی سال میں ہم بہت اچھے سے تجربہ کرچکے ہیں۔ آج کلیسیاء بڑے تزک و احتشام اور انتہائی جوش و خروش سے یسوع بادشاہ کی عید منارہی ہے اور جوبلی سال کے اختتامی روز ہمارے پاس ایک بار پھر موقعہ ہے کہ ہم اس بات سے آگاہی حاصل کریں کہ ہمارا بادشاہ یسوع مسیح انتہائی نرم مزاج اور رحمدل ہے۔ وہ اُن تمام تر بادشاہوں سے یکسر مختلف اور جدا ہے جو اپنی رعایا پر صرف حکمرانی کرنا چاہتے ہیں۔ اُن سے پیار کرنا نہیں بلکہ ہمارا بادشاہ تو ہم پر اِس قدر مہربان و رحیم ہے کہ اپنی جان دینے سے بھی دریغ نہ کیا۔ رحم اور کرم میں کیا فرق ہے؟
جو طلب پر مل جائے وہ رحم ہے اور جو بغیر طلب کئے مل جائے وہ کرم ہے۔
رحم: رحم خُدا کی صفت ہے۔ یہ لامحدود ہے۔ یہ الہٰی ذات کی ایک ایسی طاقت ہے جو تھکتی نہیں اور جو اُسے ہمددری کے لئے ہر وقت تیار اور مصر وف رکھتی ہے۔ پرانا عہد نامہ اور نیا عہد نامہ دونوں خُدا کی رحمت کو بیان کرتے ہیں۔خُدا کا رحم کیا ہے؟ خُدا کے رحم کے لئے مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ چند ایک پر غور کرتے ہیں۔ان میں عبرانی لفظ Kapporethبہ معنی فدیہ دینے والے، عبرانی لفظ Racham۔ اس سال کئی بار آپ نے یہ لفظ سننا ہوگا۔ اس کے معنی رحم کرنے والا، پیار کرنے والا۔ ایک اور عبرانی لفظ Chesedکا مطلب رحم دل، نرم دل۔ یہ الفاظ ہمیں عہد عتیق میں ملتے ہیں جب ہم عہد جدید کا رخ کرتے ہیں تو رحم کے بادشاہ سے متعلق درج ذیل الفاظ پاتے ہیں۔ یہ یونانی الفاظ ہیں۔ Eleemonدردمندی، ہمددرانہ، رحم دلدل اور ایک اور لفظOiktirmosترس رحم۔

عہد عتیق میں رحم کا بادشاہ: خُدا رحم کا خُدا ہے۔ جب وہ موسی پر ظاہر ہوا تو اُس نے اُسے نام سے پکارتے ہوئے کہا”خُداوند خُدائے رحیم ومہربان بڑے تحمل والا، بڑی رحمتوں اور وفاداری والا (خروج 6:34)۔ تو نے اپنے کرم سے اپنی اُمت کی ہدایت کی جسے تونے چھڑایا (خروج 13:15)۔ خُدا نے بنی اسرائیل پر نظر کی اور اپنا رحم اُن پر ظاہر کیا (خروج 25:2)۔ مزمور 136میں رحم کے موضوع کو بار بار دہرایا گیا ہے ”کہ اُس کی رحمت ابد تک قائم ہے۔“ 2۔ مکابین 24:1میں کاہن یوں دُعا کرتا ہے ”اِ ے خُداوند۔ اے خُداوند خُدا خالق کل، اے مہیب، اے حبار، اے عادل، اے رحیم۔“
رحم کے بادشاہ کے متعلق موسی کہتا ہے کہ ”خُداوند تیرا خُدا رحیم ہے وہ تجھے نہ چھوڑے گا۔ نہ تجھے فنا کرے گا اور نہ اُس عہد کو بھولے گا (تثینہ شرع 31:4)۔ نحم یاہ اپنی قوم سے مخاطب ہوکر یوں کہتا ہے ”لیکن تو نے اپنی رحمتوں کی کثرت سے انہیں جڑ سے نہ اکھاڑا اور نہ انہیں ترک کیا کیونکہ تو خُدائے مہربان و رحیم ہے (نحم یاہ 31:9)۔ طوبت اور سارہ دُعا کرتے ہیں کہ ”اپنے غضب کے بعد رحمت کرتا ہے“(طوبیاہ 13:3)۔ زبور نویس کے لبوں پر تو ہر دم اُس کے رحم کے ترانے ہیں ”پر تو اے خُداوند خُدائے کریم و رحیم، طویل الصبر، بے حد شفیق اور وفادار ہے (مزمور 15:86، 08:103)۔ خُدا ارمیا سے فرماتا ہے ”میں یقینا اُس پر رحم کروں گا“(ارمیا 20:31)۔ مگر جو رحم کے بادشاہ کی عظیم رحمت پر کامل اور مکمل یقین رکھتے ہیں اُن کے لئے رحم کا بادشاہ اپنا کرم یوں نازل فرماتا ہے اور اپنے رحم کا عملی مظاہرہ کرتا ہے جب نینوا کے لوگوں کی بدی نہایت بڑا جاتی ہے تو یونس نبی نینوا روانہ کرتا ہے (یونس 2:1)۔ تاہم وہاں راہِ فرار اختیار کرتا ہے۔ یونس نبی کی سادگی دیکھیں کہ وہ خُدا سے بھاگ رہا ہے تاہم ناکامیابی کا منہ دیکھتا ہے اور مچھلی کے پیٹ میں تین دن رات قیام کے بعد نینوا میں توبہ کی منادی کرتا ہے۔ رحم کا بادشاہ چاہتا تو نینوا کے لوگوں کی شرارت پر انہیں موقعہ عطا کئے بغیر سزا دے سکتا تھا مگر یہ سب رحم کے بادشاہ کے شایانِ شان نہ ہوتا۔ یونس نبی وعظ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ چالیس دن بعد نینوا برباد ہوجائے گا (یونس 4:3)۔ نینوا کے لوگوں نے رحم کے بادشاہ کی اس انتباہ کو بڑی سنجیدگی سے لیا اور لکھا ہے کہ ”اور نینوا کے باشندے خُدا پر ایمان لائے اور روزے کا اعلان کرکے سب کے سب کیا ادنی کیا اعلیٰ ٹاٹ سے ملبس ہوئے۔۔۔ اور بادشاہ کے حکم پر انسان تو انسان جانوروں کو بھی روزہ رکھوایا (یونس 8-5:3)۔ تو رحم کا بادشاہ نے اُن پر رحم فرمایا (یونس 10:3)۔ یہاں یونس نبی کا خُدا کے رحم پر ایمان کس قدر مضبوط اور کامل تھا کہ خُدا سے ناخوش اور غصے ہواکیونکہ وہ جانتا تھا کہ ”میں جانتا تھا کہ تو خُدائے رحیم وہ مہربان ہے۔ طویل الصبر اور نہایت شفیق“ (یونس 2:4)کیونکہ وہ حقیقی رحم کا بادشاہ ہے اُسے شہر عظیم نینوا کی فکر تھی جہاں بے شمار مواشی کے علاوہ ایک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ انسا ن ہیں جو اپنے دائیں اور بائیں ہاتھ میں بھی امتیاز نہیں کرسکتے۔
کیا رحم کا بادشاہ بے گناہ کو بھی گناہ گار کے ساتھ سزا دیتا ہے؟ بالکل نہیں! سدوم اور عمورہ کی مثال ہمارے خُدا کے رحم کی عظیم اور اعلیٰ عکاسی ہے جہاں تمام شہر میں خُدا صرف پچاس را ست بازوں کے ہونے پر تباہی کو ترک کرنے پر تیار تھا اور یہ تعداد کم ہوتے ہوئے دس تک آ گئی مگر وہاں دس افراد بھی نہ نکلے (تکوین 33-16:18)تو رحم کا بادشاہ ہر ممکن حد تک رحیم ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ بہ شرط کے سدوم اور عمورہ کے لوگوں کی مانند بے وفا نہ ہوجائیں۔

عہد جدید میں رحم کا بادشاہ: معتبر آرچ بشپ فلٹن جے شین میرے پسندیدہ ترین لکھاریوں میں سے ایک ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”عہد عتیق ریڈیو ہے جبکہ عہد جدید ٹی وی۔ عہد جدید میں رحم کے بادشاہ کو انسانی روپ میں چلتے پھرتے اور عملی طور پر عوام و الناس پر رحم کرتے دیکھتے ہیں۔ عہد جدید سے منصفین نے ان کی منظر کشی بھی نہایت خوب صورتی سے کرتے ہیں۔“ چاروں اقدس انجیلوں میں ہم یسوع کو رحم کرتے اور رحم کی درخواست پر رحم کرتے دیکھتے ہیں۔ یسوع رحم کا بادشاہ رحم سکھاتے ہیں اور دوسروں پر رحم کی تلقین کرتے ہیں۔ انجیل مقدس بمطابق مقدس مرقس رحم کا بادشاہ ایک کوڑھی پر رحم کرتا ہے ”اُس نے ترس کھا کر اپنا ہاتھ بڑھایا اور اُسے چھو کر اُس سے کہا۔ میں چاہتا ہوں تو پاک صاف ہوجا (41:1)۔ مرقس 5باب میں رحم کا بادشاہ ایک ایسے شخص پر رحم کرتا ہے جو ناپاک روحوں کے اس قدر زیر اثر ہے کہ زنجیریں اور بیڑیاں بھی اُس کو قابو میں رکھنے کے لئے بے فائدہ تھی لیکن اُس پر رحم کا بادشاہ رحم کرتا ہے ”۔۔۔خُداوند نے تیرے لئے کیسے بڑے کام کئے اور تجھ پر رحم کیا (19:5)۔ پھر پانچ ہزار لوگوں کو کھانے کے معجزے میں مقدس مرقس یوں لکھتے ہیں کہ ”اور اُسے اُن پر رحم آیا“(34:6)۔ دوسرے معجزے میں جہاں چار ہزار افراد کھانا کھاتے ہیں میں تحریر ہے کہ ”مجھے]یسوع [ہجوم پر ترس آتا ہے (انجیل مقدس بمطابق مقدس متی 32:15)۔ آسیب زدہ مصروع رحم طلب کرتا ہیں ”تو ہم پر ترس کھا“ (انجیل مقدس بمطابق مرقس 22:9)اور رحم کا بادشاہ رحم کرتا ہے۔ یریحو کا نابینا ”یسوع مجھ پر رحم کر (مقدس مرقس 47:10۔ مقدس متی27:9)۔ یسوع سے رحم کی اپیل کرتا ہے۔ رحم کرنے والوں کو رحم کا بادشاہ مبارک کہتا ہے ”مبارک ہیں وہ جو رحم دل ہیں کیونکہ اُن پر رحم کیا جائے گا“ (انجیل مقدس بمطابق مقدس متی 7:5)۔ یسوع محصل اور گناہ گاروں کے ساتھ کھاتا اور کہتا ہے کہ ”میں قربانی نہیں بلکہ رحم پسند کرتا ہوں (انجیل مقدس بمطابق مقدس متی 13-9:9)۔ رسولوں کی تقریری میں منادی کے ساتھ ساتھ یسوع مسیح کو عوام و الناس پر ترس آیا (مقدس متی 36:9)۔ غیر اقوام یعنی کنعانی عورت کے رحم طلب کرنے پر اُس پر رحم کیا (مقدس متی 22:15)۔ دس کوڑھی اپیل کرتے ہیں ”اے یسوع، اے اُستاد ہم پر رحم کر (مقدس لوقا 13:17)۔ سخت دل خادم کی تمثیل میں یسوع مسیح ہمیں رحم پانے پر (مقدس متی 27:18) رحم کرنے کی تلقین کرتے ہیں (مقدس متی 33:18)۔ خُدا کی عظیم رحمت کا ذکر مادرِ رحم اپنے نغمہ حمد میں بھی کرتی ہے (مقدس لوقا 54,50:1)۔ ولادتِ یوحنا کے دوران خُدا کی رحمت کا بیان ملتا ہے (مقدس لوقا 58:1)۔ رحم کا بادشاہ نائین کے بیوہ کے اکلوتے بیٹے کو زندہ کرکے اُس پر رحم کو عیاں کرتا ہے (مقدس لوقا 17-11:7)۔ مقدس لوقا انجیل نویس خوب صورت تمثیلوں میں رحم کے بادشاہ کے رحم کو ہم پر عیاں کرتا ہے۔ ان میں نیک سامری (مقدس لوقا 37-29:10) مسرف بیٹا (مقدس لوقا 32-11:15)، لعزر اور غنی (مقدس لوقا 31-19:16)میں اپنے رحم عیاں کرتا ہے۔

رحم کے بادشاہ کا لامحدود رحم: اگر ہم یہ یاد رکھ سکیں کہ الہٰی رحم وقتی نہیں ہے بلکہ ازلی و ابدی خُدا کی صفت ہے تو پھر ہمارے دلوں یہ خدشہ نکل جائے گا کہ اُس کی رحمت کسی نہ کسی دن ختم ہوجائے گی۔ رحم کی ابتداء ااور انتہا نہیں ہے۔ نہ تو رحم زیادہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی کم۔ نہ تو رحم تبدیل ہوسکتا ہے اور نہ تنزلی لی۔ خواہ زمین، آسمان یا دوزخ میں کچھ بھی ہوتا رہے۔ خُدا کی رحمت تبدیل نہیں ہوسکتی۔ خُدا کی رحمت لامحدود دریا ہمیشہ بہتا رہے گا۔ خُدا کا رحم اُس وقت ظاہر ہوتا ہے جب خُدا کی بھلائی کا سامنا انسانی دکھ اور تکلیف سے ہوتا ہے۔ اگر دنیا میں گناہ اور دکھ و درد نہ بھی ہوتے تو بھی خُدا لامحدود رحیم ہوتا لیکن اُس کی رحمت اِس کائنات پر ظاہر نہ ہوتی بلکہ اُس کی ذات میں ہی پوشیدہ رہتی۔ یہ گناہ اور انسانی دکھ ہی ہیں جن کے باعث یہ ظاہر ہوتا ہے۔

حرف آخر: رحم کا بادشاہ رسولہ الہٰی رحم مقدسہ فوسٹینا کو کہتا ہے کہ اس بات کا اعلان کرو ”رحم میری عظیم ترین صفت ہے اور میر ے ہاتھ کا ہر امر رحم کی بدولت ہے“(ڈائری 301)۔ رحم کے بادشاہ کے ان الفاظ سے اپنا مضمون ختم کرنا چاہوں گا کہ ”اس سے قبل کے میں عادل منصف کی مانند ظاہر ہوں میں پہلے رحم کے بادشاہ بن کر آیا ہوں“(ڈائری 83)۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں