{اے ماں ہر دل عزیز}

0
76

فادر یونس شہزاد او۔پی (لاہور)

مقدسہ مریم کی شخصیت کے بے شمار پہلو ہیں۔ جو اُسکے اوصاف کو نمایاں کرتے ہیں۔ یہ اوصاف اور خوبیاں نہ صرف اُسکی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ اُسے خوب سیرت بھی بناتی ہیں۔ مقدسہ مریم ایسی ہستی ہے جو لوگوں کے دلوں کی دھڑکن ہے۔ کیونکہ وہ ’’ہر دلعزیز ‘‘ ہے۔ اُس کی پسندیدگی کا گراف بہت بُلند ہے۔ کیونکہ وہ پاکدامن ہے۔ وہ نرم گفتار ، عاجز اور انکساری کا پیکر ہے۔
مقدسہ مریم کی لطانیہ میں ــ’’اے ماں ہر دلعزیز، ہمارے واسطے دُعا کر‘‘ ہماری توجہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ کیونکہ مقدسہ مریم ایسی ماں ہے جو ہر دل کو عزیز ہے۔ ہر شخص اُس کا گرویدہ ہے اور ہر شخص اُس سے پیار کرتا ہے۔ کیونکہ وہ حسین و جمیل ، خوبصورت اور پُروقار ہے۔ خدا ہر طرح کی خوبصورتی کا منبع ہے۔ لیکن اُس نے اپنی اِس خوبصور تی کی جھلک کائنات میں بھی رکھی ہے اور انسانوں میں بھی ، مقدسہ مریم اِس خوبصورتی کی نمایاں جھلک پیش کرتی ہے۔
پرانے عہد نامے میں یہودیت اور آستر مقدسہ مریم کی شخصیت کی عکاس اور نمونے ہیں۔ جو اپنے حسن اور خوبصورتی کی وجہ سے دوسروں کی مقبولِ نظر ہوئیں ۔
یہودیت کے پسندیدہ ہونے کی وجہ اُس کا حسن ہے۔ کلام ِمقدس میں مرقوم ہے کہ ’’اور خداوند نے اُسکی خوبصورتی زیادہ کر دی اس لیے کہ اُس کا زینت کرنا شہوت کے سبب نہیں بلکہ نیکی کے سبب سے تھا۔ اور اِسی باعث خداوند نے اُس کا حسن زیادہ کیا۔ یہاں تک کہ وہ سب کی آنکھوں میں خوبصورتی میں بے مثل معلوم ہونے لگی۔‘‘ (یہودیت 4:10)
ملکہ آستر بھی ہمیں مقدسہ مریم کی مثل نظر آتی ہے۔ ــ وہ بڑی خوش شکل اور حسین و خوبصورت تھی۔اُسے ملکہ بننے کی سعادت نصیب ہوئی۔ ’’جب مردکائی کے چچا ابی جائل کی بیٹی کی باری آئی جسے اُس نے بیٹی بنایا ہوا تھا کہ بادشاہ کے پاس جائے۔ تو اُس نے کوئی زیورات نہ مانگے مگر جو کچھ ہیجائی بادشاہ کے خواجہ َسرا ناظرمستُورات نے ٹھہرایا تھا اور وہ ہر ایک کی آنکھوں میں جو اُسے دیکھتا خوبصورت تھی۔ ‘‘ (آستر 15:2)
زبور 2-1:84 میں خدا کے مسکنوں کو دلکش کہا گیا ہے۔’’ اے رب الاافواج تیرے مساکن کیا ہی دلکش ہیں ‘‘۔ پولوس رسول فلپیوں کے نام خط میں میں بیان کرتا ہے۔ ’’غرض اے بھائیو! جو کچھ معرافت کا ۔ جو کچھ صداقت کا ، جوکچھ پسندیدہ اور جو کچھ دلکش ہے۔ الغرض جو کچھ نیک اور قابلِ تعریف ہے اُس پر غور کرو۔‘‘
ہر شخص کی فطری خواہش ہے کہ وہ دوسروں میں مقبولِ نظر اور ہر دل عزیز ٹھہرے سب اس سے پیار کریں، اس کی عزت کریںاور اسے عزیز جانیں ۔ آیئے دیکھیں کہ انسان یہ مرتبہ اور رتبہ کیسے حاصل کر سکتا ہے؟ مقدسہ مریم کو یہ شان کیسے نصیب ہوئی ؟ اے ماں ہر دل عزیز! یہ مقدسہ مریم کے خطابوں میں سے ایک خطاب ہے۔ جب ہم کسی چیز کو دیکھتے یا کسی پر نگا ہ ڈالتے ہیں ۔تو ہمارے اند ر دو قسم کی کیفیت ، رد عمل یا رحجان پیدا ہوتے ہیں۔
1۔ پسندیدگی 2۔ ناپسندیدگی
اس پسند یا ناپسند کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔بیرونی صورت یا اندرونی سیرت ۔ ممکن ہے کہ آپ کو کوئی انسان ، چیز یا منظر اس لیے اچھا لگا ہو کیونکہ وہ دلکش اور خوشنما ہے یاپھروہ ُپرکشش ہویا اُس کے نقوش ، چہرے کے خدو خال اور حسن و جمال اچھا ہو۔ بعض اوقات انسان کسی کے بیرونی حسن ، خوبصورتی ، نقش و نگار اور خدوخال کی بجائے اندرونی خوبی، صفت ، کارکردگی ،عادات اور کردار کی وجہ سے اُسے پسند کرتے یا عزیز جانتے ہیں ہمیں پتہ چلا ہے کہ کسی کو عزیز جاننے کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔
1۔ صورت ، حسن ، دلکشی 2۔ سیرت ، عادات واطوار
اے ماں ہر دل عزیز کاجو خطاب یا لقب مقدسہ مریم کو دیا گیا۔ اس کے دو حصے ہیں
1۔ اے ماں 2۔ ہردل عزیز
اے ماں :
جب ہم کسی کو’’ اے ‘‘کہہ کر پکارتے ہیں تو اس کی عزت کرتے ہیں جیسے ہم ’’جی‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔مقدسہ مریم ایک ایسی ماں ہے جو ہر دل کو عزیز ہے۔ ہر ایک کو اچھی لگتی ہے۔ وہ پر کشش ہے ۔اس میں مقناطیسی قوت ہے۔ اُس کی طلسماتی سیرت ہے اسلئے وہ سب کواپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ اِس لیے اُسے عزت افزائی دینے کے لیے ’’اے‘‘ کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ وہ ماں ہے ۔ یسوع کی جوفرشتے کے سلام پر ہاں کہتی اور نجات دہندہ کو اپنے بطن اطہر میں لے لیتی ہے۔ وہ سلامتی کے شہزادے کی ماں ہے۔ اس لیے وہ قابلِ قدر اور قابلِ عزت ہے۔ وہ دوسروں کی زندگی میں دلچسپی لیتی ہے اور اُنکی فکر کرتی ہے۔ اس لیے وہ ہر دلعزیز ہے۔
ہر دل عزیز :
ہردل عزیزسے مراد ہے جس میں محبت اور وفاہو،دلکشی ہو، دل آویزی ہو، معصومیت ہو،خلوص ہو ۔جس کے اندر قربانی کا جذبہ ہو۔جوخدمت کرنے پر آمادہ ہو۔جو حلیم اور فروتن ہو۔جو مددگار ہو۔اور سب سے بڑھ کر جو دوسروں کے لیے فکر مند ہوتی ہے۔ کیا آپ نے کبھی مقدسہ مریم کی تصویر یا مجسمہ دیکھاہے؟ جب آپ دیکھتے ہیں تو کیسا لگتاہے؟ مقدسہ مریم کو تصاویر میں کیسا دکھایا جاتا ہے؟
مقدسہ مریم ایک ایسی خوبصورت دوشیزہ ہے جو جاذب ِنظر ، دلکش ، معصو م ، ہمدرد ،شفیق ، مہربان ، آنکھوں میں چمک رکھنے والی ،گہری سوچ میں گُم نظر آتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جب وہ بچہ یسوع کو اٹھائے ہو ئے ہوتی ہے۔ اس نے یسوع کوتھاما ہوتا ہے یا یسوع نے اُسے پکڑا ہوتا ہے۔مقدسہ مریم اور یسوع دونوںایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ مقدسہ مریم کا یہ انداز انسان کو اپنی طرف متوجہ کرلیتا ہے۔انسان کا دل چاہتا ہے کہ اس کے قریب آئے اور اسے اپنی زندگی کانمونہ بنائے۔اس لیے وہ ہر دل عزیز ہے۔

کاتھولک کلیسیا مقدسہ مریم کو پیار کرتی ہے۔ مومنین کے دلوں میں اس کے لیے خاص عقیدت و احترام ہے۔ اس لیے تمام عبادت گاہوں ، گھروں اور سکولوں میں اسکی تصاویر آویزاں کی جاتی ہیں ۔اس کے مجسمے نصب کیے جاتے ہیں۔ گرجا گھروں کے نام اس کے نام پر رکھے جاتے ہیں ۔ اداروں کے نام اس کے نام پر رکھے جاتے ہیں۔بچیوں کے نام اس کے نام پر رکھے جاتے ہیں ۔مسیحی تو کیا مسلم بھی اپنی بیٹیوں کے نام مریم رکھنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں ۔کیونکہ مقدسہ مریم فضل سے معمور ہے۔ عورتوں میں مبارک ہے۔ دائماً کنواری ہے۔ نجات دہندہ کی ماں ہے۔ تاریخِ نجات میں اس کا کردار بے مثل اور لا تبدیل ہے۔وہ گناہ سے مُبرا اور بے داغ ہے۔اُس پیاری اور نیاری ماں کی تصویر ہی ہماری شناخت بن جاتی ہے۔ یعنی جس گھر میں ماں کی تصویر ہوہمیں فوراً پتہ چل جاتا ہے کہ وہ گھرانہ کاتھولک ہے۔
آج کے دور میں بھی لوگوں کی بڑی شدیدخواہش ہے کہ وہ ہر دل عزیز ہوں لیکن وہ اپنے کردار کو مضبوط کرنے کی بجائے اپنی شکل و صورت کو زیادہ خوبصورت بنانے کی کوشش میں رہتے ہیں۔آپ اس بات کا اندازہ یوں لگا سکتے ہیں کہ ہر شہر میں بیوٹی پارلرز کی تعداد میں دن بدن بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے۔ اس طرح سے حاصل ہونے والی خوبصورتی وقتی ،مصنوعی اور لمحاتی ہے۔ لوگ نئے نئے کپڑے سلوانے پر زور دیتے ہیں لیکن یہ خوبصورتی صرف وقتی ہوتی ہے۔ جبکہ مقدسہ مریم کے نمونہ پر عمل کرنے سے حاصل ہونے والی خوبصورتی پائیدار،دیر پا اور دائمی ہے۔ جو سکون مقدسہ مریم اور یسوع کے پاس ا ٓنے سے ملتاہے وہی روح میں اُتر جانے والا حقیقی امن اور سکون ہے۔
جیسے پاک صندوق بیرونی خوبصورتی سے زیادہ اندرونی اسباب کی وجہ سے جو اُسکے اند تھے زیادہ عزیز جانا جاتا تھا۔ اِسی طرح مقدسہ مریم بھی اپنی سیرت و کردار کی وجہ سے ہر دلعزیز بن گئی ۔ آئیے ہم بھی اُس کے نقش ِقدم پر چلیں تاکہ خدا اور لوگوں میں مقبولیت پاسکیں۔



جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں