نادرہ ۔۔۔۔۔۔۔مذہبی انتہا پسند

سلامت ضیاء کھوکھر

کسی بھی ملک میں ہر شہری کی بلا تفریق مذہب و نسل شخصی شناختی دستاویز شہری کا بنیاد ی حق ہوتا ہے یہ عمل حکومت کے اولین فرائض میں شامل ہوتا ہے مگر مسلمان اکثریت کے ممالک میں کسی غیر مسلم شہری کو برابر شہری تسلیم نہ کیا جاتا ہے نہ ہی انہیں کلیدی عہدے تفویض کیے جاتے ہیں انہیں کم درجہ شہری قرار دیا گیا ہے ایسے ممالک میں حکمرانی کا حق بھی مسلمان شہری کو ہی ہے بالخصوص پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی آئین و قانون میں درج امتیازی قوانین کے باعث و سعت اختیار کر چکی ہے مسلمان حکمران مذہبی انتہا پسندوں و انکے عوامل کی عملا ََسر پرستی کرتے ہیں پاکستان میں شخصی شناخت کی دستاویزات کا آغاز کیا گیا مجاذ سرکاری ادارہ یہ فرائض انجام دیتا رہا ہے ایسی دستاویزات کل مدتی و بلا قیمت جاری ہوتی تھیں مگر حالیہ برسوں سے حکومت نے ایک نجی ادارے نیشنل رجسٹریشن ڈیٹا بیس اتھارٹی ” نادرہ ” کو یہ ذمہ داری سونپ رکھی ہے نادرہ عموما پانچ سالہ مدت کے لیے معاوضہ وصو ل کر کے شہری کو شناختی دستاویزات جاری کرتا ہے یہ دستاویزات کمپیوٹر ائز ہوتی ہیں نادرہ نےمختلف شناختی دستاویزات کے اجراء پر مختلف معاوضہ طے کیا ہوا ہے گو کہ نادرہ کے فرائض میں شہری کو شناختی دستاویزات کا اجراء ہی ہے تاہم نادرہ درج بالا صورتحال کے ہمراہ شہری کی مذہبی و شہری حیثیت کی درجہ بندی کے عوامل پر گامزن ہے نادرہ مذہبی انتہا پسندی کو فروخ دے رہا ہے نادرہ کے اندراج امور میں واضع درج ہے کہ کوئی بھی غیر مسلم شہری اگر اسلام قبول کرتا ہے تو وہ ہمراہ قبول اسلام دستاویز بطور مسلمان شہری شناختی دستاویزات حاصل کر سکتا ہے لیکن اگر کوئی مسلمان شہری دیگر مذہب قبول کرتا ہے تو اسے بطور غیر مسلم شناختی دستاویزات کا اجراء نہ ہوگا اگر دوبارہ مسلمان ظاہر ہوتو بطور مسلمان شہری شناختی دستاویزت حاصل کر سکے گا نادرہ مسیحی شہری کی شناخت پر واضع حکمت عملی نہ رکھتا ہے بالخصوص مسیحی نکاح و طلاق کی دستاویزات کا اجراء غیر واضع ہے دور حاضر میں مسیحی مذہب میں خودساختہ مذہبی پیشواوْں کی بھر مار ہے ایسے نام نہاد خود کو اکثر پاسٹر متعارف کرواتے ہیں خود کو کسی مذہبی تنظیم کا سربراہ بھی ظاہر کرتے ہیں یہ بغرض درج بالا جعلی دستاویزات جاری کرتے ہیں جبکہ نادرہ بغرض عدم و اضع حکمت عملی ایسی جعلی دستاویزات پر مبنی شناختی دستاویزات کا اجراہ کر دیتا ہے ایسے خود ساختہ مذہبی پیشواعدالتوں میں بالخصوص مسیحی نکاح و طلاق کے مقدمات میں مذہبی دلائل دینے میں بھی پیش پیش ہیں نادرہ دفاتر میں حصول شناختی دستاویزات کی ہدایات تحریری آویزاں ہوتی ہیں مگر ایسی تحریروں میں غیر مسلم شہری کے لیے کوئی تحریر نہیں ہوتی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے منظور کیے گئے مسیحی مذہبی اداروں کی ایک فہرست موجود ہے جو پیدائش نکاح و طلاق اموات و دیگر شخصی دستاویزات جاری کرنے کی مجاز ہیں جنہیں نادرہ خاطر میں نہیں لاتا ہے ایسے حالات میں مبہم شناختی دستاویزات غیر مسلم شہریوں کو جاری کرنے کا عمل جاری ہے 2009 میں وفاقی حکومت نے اعلامیہ جاری کیا تھا کہ سرکاری مسیحی شہریوں کے لیے لفظ عیسائی کے بجائے مسیحی تحریر کیا جائے مگر نادرہ نے اپنی دستاویزات میں لفظ عیسائی کو ہی مروج رکھا بالفعل نادرہ نے سپریم کورٹ کے ایک حکمنامہ کے تحت ماہ جون 2021 میں اپنی دستاویزات میں لفظ مسیحی کو تحریر کیا ہے ایسی کئی مثالوں کے ہمراہ درج بالا امتیازی حکمت عملی مذہبی انہتا پسندی کے زمرے میں آتی ہے باہم نادرہ اپنے بنیادی فرائض سے رو گردانی کرتے ہوئے مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دے رہا ہے نادرہ شہریوں کو انکی بنیادی شخصی دستاویزات کے عوض مقررہ رقم وصول کر کے انہیں سرکاری شناختی دستاویزات جاری کرنے کا ادارہ ہے اس کی ازخود مروجہ امتیازی امور درست نہ ہیں نہ ہی نادرہ ایسی امتیازی حکمت عملی مروج کرنے کا مجاز ہے جس کے باعث ضروری ہے نادرہ اپنے فرائض کی درست انجام دہی کے لیے درج بالا امتیازات کاخاتمہ کرے۔

Samson

Read Previous

بالیاکاگ

Read Next

مولاناطاہراشرفی کاپیغام پاکستان اور تلخ حقائق

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے