ستون مسیحیت: مقدس پطرس اور مقدس پولوس رسول

0
88

کرسٹوفر زاہد

ایک روز اسیسی کا مقدس فرانس نے برادر لیو سے کہا ” برادر لیو، آو شہر کو چلیں اور وہاں جاکر منادی کریں۔” وہ دونوں شہر گئے اور بڑی بڑی شاہراہوں پر ادھر اُدھر گھومتے رہے ۔ وہ چلتے ہوئے خوشگوار موڈ میں باتیں کرتے جاتے اور دل کھول کر کسی کو مسکراہٹوں کا نذرانہ پیش کرتے جارتے تھے۔ کبھی کبھار وہ چتھیٹروں میں ملبوس کسی بچے کے سر پر دستِ شفقت رکھتے اور دوسروں سے خوشگوار موڈ میں باتیں کرتے جاتے” فادر!” چھوراہب نے فرانس سے سوال کیا ” فادر ہم کب مناری کرنا شروع کریں گے؟” فرانس نے جواب دیا، ” بیٹا ہم تو پہلے ہی سے منادی کررہے ہیں ۔ لوگوں نے ہماری زندگی کا مشاہدہ کیا ہے۔ انہوں نے ہمارا رویہ دیکھا ہے۔ ہمیں کسی اور جگہ جاکر منادی کرنے کی ضرورت نہیں۔ بس یہی بہت ہے کہ ہم چلتے رہے اور منادی کرتے ہیں (ہماری ثقافتی تمثلیں مصنف عمانوایلؔ نینو، صفحہ 71)
(یہاں اس امر کی آگاہی دینا انسب چاہتا ہوں کہ اسیسی کا مقدس فرانس نے کہانت کی عظمت کو دیکھتے ہوئے آپ نے آزادنہ طور پر اور حلیمی کے تحت کاہن نہ بننے کا فیصلہ کیا تاہم اپنی عظمت کے باعث آپ ہر طرح کہانت کے عہدے کے قابل تھے )۔
پاکستان کے پہلے کارڈنیل مرحوم جوزف کارڈیرو اپنی کتاب بائبل مقدس کے کلیدی الفاظ ( مترجم ، عمانوایل نینوؔ) میں راقم طراز کرتے ہیں ” آج ہم منادی کو عام طور پر اتوار یا دیگر عید کے دن و عظ سمجھتے ہیں ۔ ایسے موقعوں پر سننے والے پہلے سے بپتمسہ یافتہ مسیحی ہوتے ہیں جو اپنے ایمان کا اقرار کرتے ہیں لہٰذا منادی زیادی تر تعلیم یا گہرے طور پر تربیت کی مانند ہے۔ تاہم بائبل مقدس میں یہ منادی کا مثالی مفہوم نہیں ہے ۔ عہد عتیق اور عہد جدید دونوں میں منادی کرنا بنیادی طور پر اُن کو نجات کی خوشخبری دینا ہے جنہوں نے اس سے پہلے نہیں سنی ہے ۔ ان معنوں میں ہم یونس نبی کو دیکھتے ہیں کہ اُسے نینوا کے لوگوں کے پاس بھیجا گیا اور عہد عتیق میں بہت سے دیگر حوالہ جات ہیں جو اسی نوعیت کے ہیں ۔ اس کا شاندار حوالہ ( اشعیا 61: 1) میں پایا جاتا ہے ” مالک خُداوند کی روح مجھ پر ہے کیونکہ خُداوند نے مجھے مسح کیا تاکہ مسکینوں کو خوشخبری دُوں ۔ اُس نے مجھے اس لئے بھیجا کہ شکستہ دلوں کو دُرست کروں ۔۔۔” یہاں ہم خوشخبری کا حوالہ پاتے ہیں ۔ یہ خوشخبری بذات خود کچھ نہیں بلکہ نجات کے دن کا اعلان ہے ۔
جب ہمارا خُداوند یُسوع مسیح عبادت خانے میں پڑھنے کو کھڑا ہوا تو اُس نے پڑھنے کے لئے اشعیا نبی کے اس حوالہ کا انتخاب کیا ۔ اس لئے وہ واضح کردینا چاہتا تھا کہ وہ مسیح تھا ۔ اس میں نبوت پوری ہوئی ۔ جس بات پر وہ زور دے رہا تھا ، وہ بشارت کا مندرجہ تھا ۔ پیغام کی بات تھی ، یقینا یہاں تک مسیح کا تعلق ہے نجات اور نجات دہندہ ایک ہیں ۔ پیغام اور مبشر ہم مکان ہیں ، لیکن ہمارے ساتھ یکساں بات نہیں ہے اور حتی کہ نجات کی خوشخبری کی بشارت اور کسی قسم کی دیگر نقیب کے زریعے دی جاتی تھی ۔ آج ہمارے یہاں کاریں جن میں لاوڈ سپیکر لگے ہوئے ہیں وہ بھی خبر پھیلاتے ہیں۔ موخر الذکر انسانی بات ہے ۔ سابقہ خُدا کی طرف سے بشارت ہے جس میں بادشاہوں کے بادشاہ کا اختیار شامل ہے ۔ مسیح کی آمد کے بعد سے خوشخبری کا پیغام انجیل کہلاتا ہے ۔ جو خُدا سے بات کرنے صادر ہوتا ہے ۔”
منادی چاہے عملی ہو یا نصابی ہمارے آج دونوں مقدسین بلکہ رسول اس کے ہر معیار پر مغالعہ پورے اُترتے ہیں بلکہ انہوں نے منادی یعنی مسیحیت کی منادی ، انجیل کی منادی کو نیا اسلوب عطا کیا ۔ اور اپنی شہادت، اپنی لگن پیار و عقیدت پر دائمی مہر ثبت کردی ۔ اور اگر میرا لکھنا آرائی نہ تسلیم کیا جائے تو یہ دنیا کے آخر تک اپنی عظمت ، حشمت ، غیر فانی نشان چھوڑ گئے ہیں۔
زیادہ تر رسولوں اور بہت سارے مقدسین کے اپنے عید کے دن ہیں لیکن کاتھولک کلیسیا کے دو نہایت مقبول ترین اور عظیم ترین میں پر قدر مختلف ہے۔ کلیسیاؔ 22 فروری کو مقدس پطرس کی مسند نشینی کی عید ہے جو اس امر کی نشاندہی ہے کہ مقدس پطرس رسولوں میں اول اور خُداوند یُسوع مسیح کے آسمان پر جانے کے بعد کلیسیا کا سربراہ ، رہنما اور پہلا پاپائے اعظم ہونے ساتھ ساتھ اب تک کلیسیا کی تاریخ میں طویل ترین مدت تک پاپائے اعظم عہدے پر سرفراز اور براجمان رہنے والی شخصیت ہے لیکن مقدس پطرس کی عید ؟ مقدس پولوس اگرچہ بارہ رسولوں میں سے نہیں تھا مگر وہ ایک رسول تھا جس کو اختیار یُسوع نے خود دیا ہم 25 جنوری کو مقدس پولوس رسول کی تبدیلی کی عید مناتے ہیں جس کا مفصل بیان رسولوں کے اعمال 9: 1-30 ، 22: 3-21، 26 : 9-20 میں پاتے ہیں ۔ دمشق کی راہ پر خُداوند نے اُسے کامل طور پر تبدیل کردیا ، لیکن مقدس پولوس کی عید؟
کاتھولک کلیسیاؔ کے دوسر کردہ اہم ترین مقدسوں کی عید ایک ساتھ یعنی 29 جون کو مناتی ہے دیگر رسولوں کی مانند یہ صرف عید نہیں بلکہ اول درجہ کی عید کے طور پر منائی جاتی ہے ۔ یادرہے کہ اول درجہ کی عید شرکت ہر کاتھولک مسیحی پر لازم ہے ۔ اس دن کلیسیا اپنے دو ستوں کی شہادت کی یاد تازہ کرتی ہے جنہوں نے حق و سچ کی گواہی دینے کے لئے جان دینے سے بھی گزار نہیں کیا ۔
معلم کلیسیاؔ ہیپو کے مقدس آگسٹین ( 354-430 خ س ) اپنے خطبہ 295 میں کہتے ہیں ” ایک دن دونوں رسولوں کی شہادت کے جشن کے لئے تفویض کررہ ہے لیکن وہ دو نہیں بلکہ ایک ہیں اگرچہ اُن کی شہادت ایک دن نہیں ہوئی تاہم وہ دونوں ایک ہیں، یہ واضح ہے کہ ان کو ایام کو قدیم سے منایا جاتا ہے۔

عید کا نکتہ آغاز
آپ دونوں عظیم مقدسین کی عید 258 خ س سے 29 جون کو منائی رہی ہے ۔ یہ وہ دن ہے جو آپ دونوں کے جسمانی باقیات شاہراہ آپیا کے زمین دوز قبرستان میں لائے گئے ۔

مقدس پطرس رسول
اقدس انجیل کے مطابق مقدس پطرس پیشے کے لحاظ سے مچھیرے تھا لیکن خُداوندیُسوع مسیح نے نے یہ کہہ کر بلایا کہ وہ آپ کو آدم گیر بنائے گا ۔ آپ کا نام شمعون تھا لیکن خُداوند یُسوع مسیح نے آپ کے نام کو بدل کر ” پطرس ” رکھا جس کے معنی ” چٹان ” کے ہیں ۔ آپ ایک سادہ اور حلیم شخص تھے ۔ آپ کو خُداوند نے "رسولوں کا شہزادہ ” قرار دیااور بعد میں آپ ہی یُسوع مسیح کے بیان کردہ قول کے عین مطابق کلیسیاؔ کے پہلے پاپائے اعظم بنے ۔
جب خُداوند یُسوع مسیح پکڑوائے گئے تو آپ نے ڈر اور خوف کی وجہ سے اُن سے تعلق کا انکار کردیا ، تاہم بعد میں پچھتاکر تبدیل ہوگئے ۔ آپ نے روم میں مسیح خُداوند کی منادی کی اور بہت سارے لوگوں کو مسیحی ایمان میں لانے میں کامیاب ہوئے جب روم میں ایذارنیاں شروع ہوئی تو مسیحیوں نے آپ سے درخواست کی کہ آپ جانے بچانے کی غرض سے روم سے کسی اور جگہ چلے جائیں ۔ کہا جاتا ہے جب آپ روم شہر سے باہر جارہے تھے تو آپ کی ملاقات سرِ راہ خُداوند یُسوع مسیح سے ہوئی تو آپ نے پوچھا کہ ” اے خُداوند آپ کہاں جارہے ہیں ؟” تب یُسوع نے جواب دیا کہ ” میں جارہا ہوں تاکہ دوبارہ صلیب پر مصلوب ہوں ” اس رویا کو آپ نے ہی اصل حقیقت کے مطابق جلد سمجھ لیا اور فورا واپس روح چلے گئے ۔ جہاں آپ کو گرفتار کرکے قید خانے میں رکھا گیا اور آپ کو مصلوب کرکے ہلاک کرنے کا فرمان جاری کیا ۔ جب آپ کو صلیب پر چڑھا جارہا تھا تو آپ نے یہ کہا کہ وہ اپنے خُداوند کی طرح نہیں بلکہ اُلٹا صلیب پر ٹکنا چاہتے ہیں ۔ اس طرح تقریبا 67 خ س میں آپ نے شہادت پائی ۔

مقدس پولوس رسول
مقدس پولوس رسول وہ عظیم رسول ہے جو اپنی تبدیلی سے پہلے مسیحیوں کو اذیت دیا کرتا تھا ۔ آپ کا اصل نام تارسلیس کا شاول تھا ۔ آپ ایک کٹر فریسی تھے اور آپ کی تبدیلی کے وقت خُداوند یُسوع مسیح نے آپ سے کہا تھا کہ ” تو دیکھے گا کہ تجھے میری خاطر کتنا دکھ سہنا پڑے گا ۔” آپ مسیح مصلوب کو بہت پیار کرتے تھے اور اس طرح آپ بھی اپنی زندگی میں دکھ سہنے کے لئے تیار رہتے ۔
آپ کے بشارتی روروں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے بے شمار خطروں اور مشکلات کا سامنا کیا ۔ کوڑے کھائے ، سنگسار کئے گئے ، بھوک پیاس اور سردی کو برداشت کیا ۔ تاہم آپ نے نہ تو کبھی خُداپر بھروسہ کرنا چھوڑا اور نہ ہی خُداوند کی منادی سے باز آئے ۔
جب آپ کو یہ معلوم ہوا کہ شہنشاہ نے نیرو نے روم میں مسیحیوں کو اذیت دینا شروع کردی تو مسیحیوں کے ایمان کی مضبوطی کے لئے آپ روم چلے آئے جیسے ہی آپ آئے تو مقدس پطرس کے ساتھ آپ کو بھی قید خانے میں ڈال دیا ۔ کہاجاتا ہے کہ ہلاک کرنے کے لئے آپ دونوں کو اکٹھے لے جایا گیا ۔ آپ ایک دوسرے کو حوصلہ دینے رہے ۔ لیکن ایک مقام پر آپ دونوں کو جدا کردیا گیا، آپ کو ایک دوسری جگہ لے جاکر آپ کا سر تن سے جدا کردیا گیا ۔
ڈاکٹر یوسف مسیح یادؔ اپنے مضمون بعنوان ” مقدس پطرس کی شہادت ، اشاعت ہفت روزہ آگاہی ، اتوار 07 جولائی 2013 خ س میں لکھتے ہیں ” شہادت سے پیشتر مقدس پطرس اور مقدس پولوس کو ایک ہی قید خانے میں قید کردیا گیا جس کا نام مارٹینی تھا ۔ اس زیر زمین قید خانے کا ایک حصہ تو کاپتو لینی کے پہاڑی کے نرم پتھروں کو کاٹ کر بنایا گیا تھا ۔ سزائے موت پانے والے قیدیوں کو اس خوفناک قیدخانہ میں اتارا جاتا تھا ۔ داخلہ کا صرف ایک راستہ تھا ۔ یہ ایک زندہ مقبرہ کی مانند تھا ، جہاں سورج کی روشنی بھی بہت کم پڑتی تھی ۔
یہ قید خانہ آج بھی کھنڈرات کی صورت میں موجود ہے ، اس میں ایک چشمہ بھی ہے ۔ روایت ہے جب رسول اپنے قیدی ساتھی کو بپتمسہ دینا چاہتا تو چشمے بہنے لگتا تھا ۔ اس چشمہ سے کتنا بھی پانی بہہ جائے گا مگر پانی کی سطح ہمیشہ برابر رہتی ۔ بت پرست رومی مورخ ٹسی انس نے رومی قیصر کی سوانح حیات میں لکھا ہے کہ مسیحیوں کی طرف سے روم میں کلمینٹ ایک مدبر لیڈر تھا جو مقدس پطرس کے بعد تیسرے پاپائے اعظم بنے ۔ انہیں مقدس پولوس نے رومیوں کے خط میں سلام لکھا ہے ۔

خلاصہ بیان
طرطولین کہتا ہے ” شہیدوں کا خون مسیحیت کا بیج ہے ۔” ماسوائے مقدس یوحنا رسول نے تمام رسولوں نے جام شہادت نوش فرمایا ۔ انہوں نے مسیحیت کی بنیاد اور مضبوط تر بنانے کے لئے اپنا لہو بہایا ۔ رسولوں اور دیگر شاگردوں نے مشکل ترین زندگی گزارنے کے بعد نہایت تکلیف دہ موت سہی یوں مسیحیت ایک مضبوط ترین کلیسیا کے طور پر ابھری ۔ تمام اندرونی اختلافات ، کمزوریوں کے باوجود واحد مقدس رسولی کاتھولک کلیسیا کا وجود قائم ہے ۔ انواع و اقسام کی کوششوں کے بادجود اس کا وجود نہ صرف برقرار ہے بلکہ مستقبل میں بھی رہے گا ۔ اس کی بنیاد خُداوند یُسوع مسیح نے رکھی اور ان بنیادوں میں رسولوں ، شاگردوں اور بے شمار مسیح کے چاہنے والوں کا لہو ہے ۔ مقدس پطرس اور پولوس کی شہادت کو یاد کرکے کلیسیا اپنے ایمان کو تازہ کرتی ہے ۔ مقدس پطرس اور پولوس کے ساتھ کلیسیا اُن بے شمار مسیحیوں کو یاد کرتی اور خراج تحسین پیش کرتی ہے جو ایذارسانیوں کے مختلف ادوار میں جنگلی جانوروں کی خوارک بنے اور بعض کو راستے کی روشنی کے لے مشعلوں کے طور پر زندہ جلایا گیا ۔ آج ایک بار پھر کلیسیا کو ضرورت ہے کہ مقدس پطرس اور مقدس پولوس کے مخصوص انداز کو اپناتے ہوئے بشارتی کاموں کو انجام دینا ہے ۔ اور ان دونوں کی شفاعت کے زریعے اپنے ایمان میں مضبوط ہونا اور دوسروں کو بھی راہِ حق پر چلنے میں مدد فراہم کرنا ہے تاکہ ہم بھی رسولوں اور شاگردوں کے ساتھ روزِ قیامت کے دن سرخرو ہوسکیں گے ۔
آفتاب کی مانند مقدس پطرس اور مقدس پولوس رسول مشرق سے طلوع ہوئے لیکن مغرب میں غروب ہوئے ۔

حرف آخر
ان دونوں عظیم ترین رسولوں کے مشہور معروف اقوال سے کالم کا اختتام کرتا ہوں ، مقدس پولوس رسول کہتا ہے ” کیونکہ زندگی تو میرے لئے مسیح ہے اور موت نفع ہے ( فلیپوں 1: 21) ۔ مقدس پطرس فرماتے ہیں ” اے خُداوند تو تو سب کچھ جانتا ہے تجھے معلوم ہی ہے کہ میں تجھے پیار کرتا ہوں ( مقدس یوحنا 21: 17)



جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں