نظم (خود ہی بتانے والا ہے)

خود ہی بتانے والا ہے
بھٹکے ہوؤں کو سیدھا راستہ دکھانے والا ہے
اپنے رحم سے ہمیں گناہوں سے بچانے والا ہے ۔۔۔
تیری ہی تعریف کرتی ہے ہر اک چیز
دنیا کو مختلف نعمتوں سے تو ہی سجانے والا ہے۔۔۔
بس تجھ پہ بھروسہ ہے میرے خدا
ہر دکھ درد میں تو ہی کام آنے والا ہے ۔۔۔
نہ ڈر اور خوف نہ کھا اب
تیرا یسوع تجھے آفات سے بچانے والاہے ۔۔۔
طوفان میں کشتی ڈگمکائے گی ضرور
نہ گھبرا تیرا استا د تجھے سنھبالنے والا ہے۔۔۔
کرو جیتنا کر سکو شکر تم ادا اپنے رب کا
روزانہ ڈھیروں برکات سے نوازنے والا ہے۔۔۔
کنول کیا حیشیت تجھ نا چیز کی ؟؟؟
وہ کیا ہے؟ وہ خود ہی بتانے والا ہے ۔۔۔
نتاشہ کنول

Komal

Read Previous

شانِ مقدسہ مریم

Read Next

{ نظم}اُٹھ غافل تُوں جاگ ذرا

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے