نغمہ ء محبت

نغمہ ء محبت

محبت خدا ہے خدا ہے محبت، محبت کسی کو ستاتی نہیں
محبت اجالا محبت ہے خوشبو، خوشبو کسی کو ستاتی نہیں
گر میں جو بولوں زبانیں الہی، بے فائدہ اگر جو نبوت بھی پا لی
ہوں محبت بنا ٹوٹا پیتل یا جھانجھ جھنجھناتی
………… محبت تو ہے اک ‘سر جانفزا جو کبھی د’ کھاتی نہیں
ہٹا دے پہاڑ میرا ایمان کامل
ہر بھید اور علم میں ہو جاؤں جو کامل
کھلا دوں، جلا دوں خود کو اگر میں
محبت نہ رکھوں تو کچھ بھی نہیں میں
…… محبت ہے نور، محبت ہے خوشبو، خوشبو کسی کو جلاتی نہیں
محبت ہے صابر، محبت مہرباں
نہ ہو گا حسد ہو محبت جہاں
شیخی رہے نہ برا کام وہاں
نہ رہے خود غرضی ہو محبت جہاں
…… کرتے ہوئے بے غرض خدمت کبھی جھنجھلاتی نہیں
بدکاری نہیں خوش راستی میں رہے
خوش دوسروں کی خوشی میں رہے
ہو خوش سب سہہ کے یقین کر کے
ہو خوش، امید سب کچھ کی کر کے
…. بنے آس سب کی، یاس کسی کو دلاتی نہیں
ہو نبویتیں چاہے، موقوف ہوں گی
زبانیں بھی ہوں گی تو جاتی رہیں گی
علم، آگہی بھی ہوں تو مٹ کر رہیں گی
ایماں، امید، محبت سب دائمی رہیں گی
…… ہے سب سے افضل محبت جو جتاتی نہیں

کنیز منظور

Samson

Read Previous

کامیاب رویہ

Read Next

کاریتاس ہال، حیدرآباد میں ایک روزہ سیمینار کا انعقاد

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے