نظم

0
66

مُناجات

فلک سے رحمتوں کا سلسلہ رہے جاری مُجھ پہ
یا رب نظرِ کرم ہو سدا تمہاری مُجھ پہ
میری خطائوں کو حساب سے تُو خارج کر دے
گناہ کرنے سے ڈروں ہو خوف طاری مُجھ پہ
صحت جیسی عظیم نعمت سے میر ی جھولی بھر دے
اثر کر سکے نا کوئی مُہلک بیماری مُجھ پہ
تیری بخشش کے ترازو میں جب بھی تولا جائوں
پُورا اُتروں میں تُو کرنا کرنا بھاری مُجھ پہ
ہر حال میں تعریف تیری کرتا رہوں میں بیاں
چاہے لاکھ ستم توڑے یہ دُنیا ساری مُجھ پہ
تیری حضوری کے بنا وراث کی ہے حقیقت کیا
چاہوں دل و جاں سے ہو تیری عملداری مُجھ پہ

سیمسن وراث گل



جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں