مقدس جان پال دوئم کا سو سالہ یومِ ولادت

0
80

کرسٹوفر زاہد

میں شمالی اٹلی کے مقام برگامو میں پیدا ہوا اور وہاں پرہی پرورش پائی ، جب میں فارغ الحتصیل ہوا تو مجھے آگاہی نہیں تھی کہ مجھے کیا کرنا ہے ۔ میرے والد نے میری رہنمائی کی مجھے کیا کرنا چاہے ، مجھے اپنی زندگی کو کسی بے قالب میں ڈھالنا چاہے جس کے لئے مجھے فوج میں شامل ہوجا نا چاہے۔ کیونکہ میں اٹلی میں پیدا ہوا تھا ۔ اس میں پاس اطالوی شہریت تھی لیکن میرے والد سوئس تھے ۔ میرے پاس سوئس پاسپورٹ بھی تھا ۔ غور کرنے کے بعد سوئس موقع مجھے بہتر لگا اور مجھے حقیقت میں اطالوی پاسپورٹ رکھنے کی کوئی پرواہ بھی نہیں تھی کیونکہ اطالوی پن میرے اندر اور میری بات چیت میں تھا ۔ چنانچہ میں نے سوئس آرمی میں شمولیت اختیار کرلی ، جب میں فوج میں تھا تو کسی نے مجھے سے رابطہ کیا کہ ” روم میں وہ لوگوں کی تلاش کررہے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ آپ پروفائل اِس کے لئے مناسب ہے۔ وہ سوئس گارڈ کے متعلق بات کررہے تھے میں نے کہا ، ” مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ سوئس گارڈ کون ہے۔ ۔ میں سوئس تصویر میں بھی نہیں چاہتا کہ میں ایک جو کرکی طرح لباس میں ملبوس بغیر کسی سے بات کیے ۔ گھنٹوں کھڑا رہا ۔ اس شخص نے ہنسنا شروع کردیا اور کہا ،” ٹھیک ہے یہ کام تو تھوڑا سا تھا ۔” میں تمہیں کام کی تفصیل بتاتا ہوں ۔ سوئس گارڈ کون ہیں ؟ اِس سے قبل میں تمہیں بتاتا ہوں کہ سوئس گارڈ کا قیام 22 جنوری 1506 خ س میں پاپائے اعظم جولیس دوئم نے اس کا قیام کیا ۔ یہ ایک اعلیٰ عنوان ہے اور یہ تین لاطینی الفاظ ہیں ۔ میری انڈرگریجویٹ ڈگری کلاسیکی میں ہے تو جب اُس نے وہ الفاظ کا کہا تو میں کہا مجھے وہ لفظ بتائیں DE FENSORES ECCLESIAC LIBERTATIS
"کلیسیا کی آزادی کے محافظ” میں نے کہا ایک منٹ مجھے معلوم نہیں تھا کہ کوئی کلیسیا کی آزادی چھینتا چاہتا ہے کیوں؟ مجھے اس کے متعلق مزید جاننے کی ضرورت ہے ۔۔۔ میں نے سوئس گارڈ میں شمولیت اختیار کرلی ۔ میں پاپائی محل میں اپنی ذمہ داری نبھارہا تھا ، مجھے بتایا گیا کہ وہ پیدل چل رہے ہیں لہٰذا مجھے دروازہ بند کرتے ہوئے اس جگہ کو محفوظ بنانے کے پروٹوکول پر عمل کرنا ہے ۔ مجھے راستہ روکنا تھا تاکہ کوئی لفٹ کے ذریعے تیری منزل تک نہ آئے ( میں نہیں جانتا تھا آج میرا دل اور دماغ تبدیل ہونے والا ہے) ، وہ چل رہے تھے میں توجہ سے کھڑا تھا وہ میرے پاس آکر رک گئے وہ میری طرف دیکھ رہے تھے اور انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا جسے وہ مجھ سے ہاتھ ملانا چاہتے ہوں ، تو میں دھیان سے آگے بڑھا اور اُن کا ہاتھ تھام لیا انہوں نے مجھے سے کہا ” تُم ضرور نئے ہو۔” اور میں نے کہا ” ہاں” ۔ تقدیس ماب اور اپنا تعارف کرایا اور انہوں نے اپنا بائیں ہاتھ بھی میرے ہاتھ پر رکھ دیا ، یوں اب میرا ہاتھ اُن کے دونوں ہاتھوں کے درمیان تھا ۔ انہوں نے میری جانب دیکھا اور کہا ” خوب ۔شکریہ آپ کے اُس کی خدمت کا انتخاب کیا جو دوسروں کی خدمت پر مقرر ہے۔” اور پھر وہ چلے گئے ۔ اس دن میں جاننا شروع کیا کہ ” یہ میرے خیال سے بہت عظیم ہیں یہ شخص اُن سب سے جدا ہے جن میں اپنی زندگی میں کبھی بھی ملا ۔” اس سےکیا مطلب ہے؟ انہوں نے میرے دل کا حال نینو سیکنڈ ( ایک سیکنڈ کا ایک ارب واں حصہ ) جان لیا تھا کہ میرے سننے کے لئے انہیں کیا کہنا ” اُن کی آواز۔”
درج بالا کہانی سوئس گارڈ ‘ازی-لر، ماریو’ (1989-1993خ س ) تک ویٹی کن میں خدمت انجام دی اور اس واقعہ کا تذکرہ وہ کتاب
I SERVED A SAINT
میں کرتے ہیں آخر ماریو کس شخصیت کی سحر انگیزی کے متعلق ذکر کررہے ہیں ، چلے ایک اور اشارہ آپ کے لئے۔ انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اپنا انتخاب قبول کیا ۔ اطاعت کے ساتھ میرے خُداوند مسیح پر ایمان کے ساتھ اور مسیح اور کلیسیاؔ کی ماں اعتماد کے ساتھ بڑی مشکلات کے باوجود میں قبول کرتا ہوں۔ ” اپنے فوری پیشرو کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے جان پال دوئم کا نام لیا۔
اب مجھے مزید سوئس گارڈ کی سحر انگیز ہستی کی ملاقات متعلق کچھ کہنے کی کی ضرورت تھی۔ آپ جان چکے ہیں کہ شخصیت ” مقدس جان پال دوئم ” ہیں ۔ یہ تو صرف ایک کہانی وہ بھی نہایت الہٰی مختصر مدت کی اپنی تقریبا 27 برس کی پاپائیت آپ ان گنت انسانوں پر اپنی سحر انگیز شخصیت کے اثرات نقش کئے ہوں گے ۔ میری آج کی تحریر کا مقصد بیسویں صدی کی اِس عظیم شخصیت کو اُن کی صد سالہ یوم و پیدائش کہ موقع پر کی عظیم ہستی اپنی ادنی تحریر سے سلام پیش کرسکوں۔
18 مئی 2020 خ س جان مقدس پال دوئم عظیم کا صد سالہ یومِ ولادت ہے ۔ دنیا بھر اس دنیا کے بھرپوری تیاری کی گئی کیونکہ وہ نیک ، عظیم انسان اور رہنما کا سواں جنم دن ہے ۔ عظیم مقدس سواں یوم پیدائش پر کئی نئی کتب تحریر کی گئی ۔ یادگاری سکے ، نوٹ جاری کئے گئے ہیں ۔ دستاویزی فلمز ، کالمز اور بہت کچھ تحریر کیا گیا۔ حال ہی میں پاپائے اعظم ( ایمریطس) بیناڈکٹ سولہ نے بھی ایک خط تحریر کیاہے۔
موجودہ پاپائے اعظم فرانس کہتے ہیں ” میں نے اپنی کہانت کے ایام میں پاپائے اعظم مقدس جان پال دوئم عظیم کو اپنی نگاہ میں دکھا ہے ۔” کتاب
ST. JOHN PAUL II: 100 YEARS WORDS AND IMAGES
جس کی اشاعت ویٹی کن ‘پالن ہاوس ‘ نے مقدس جان پال کی سو ویں سالگرہ شائع کی ۔ اس کے پیش لفظ میں آپ لکھتے ہیں ” مقدس جان پال دوئم ایمان کا عظیم گواہ تھا ۔ کئی بار میری زندگی کے دوران ایک کاہن ، اُسقف میں نے اُن پر نگاہ کی ۔ اپنی دُعاوں میں انجیل سے وفاداری کا تحفہ مانگا جسے وہ ہمارے لئے گواہ تھے۔ 5 صفحوں پر مشتمل پیش لفظ آپ نے لکھا ، ” مقدس جان پال دوئم عظیم دُعائیہ شخصیت تھے جو تمام وقت پوری طرح خُدا میں ڈوبے رہتے اور خُدا سے رابطے میں رہتے ۔ وہ عظیم تبدیلی کے ایام میں عظیم رہنمائی تھے ۔ آپ نے مزید لکھا، ” وہ رحم کے ایک بہت بڑے گواہ تھے اور اپنی پوری زندگی انہوں نے ہمیں خُدا کی اِس خصوصیت کی جانب بلایا ۔ پاپائے اعظم فرانس نے لکھا کہ ” بہت سے لوگوں کو تو اندازہ بھی نہیں ہوگا کہ سینٹ جان پال نے اپنی زندگی میں کس قدر اذیت کا سامنا کیا ۔ انہوں نے 21 برس کی عمر میں اپنی والدہ ، والد ، اور بھائی کی موت کا تجربہ کیا اور پھر دوسری جنگ عظیم میں گزرے ۔ اذیت میں خُدا پر مکمل بھروسہ اذیت کی بھٹی نے انہیں مضبوط تر بنادیا ۔ مسیحی ایمان جس میں اُن کی ترتیب ہوئی” مزید لکھا ” مقدس جان پال دوئم نے بطور پاپائے اعظم تکلیف اُٹھائی ۔ 1981 خ س میں ان پر خوفناک حملہ ہوا۔ انہوں نے اپنی زندگی قدر کی کلیسیاؔ کے لئے اپنا خون بہایا۔ بیماری نے انہیں آزمایا ۔ انہوں نے ہمارے ساتھ بانٹیاکہ خُدا انسان بنا اور ہمارے مصلوب ہوا تاکہ ہم خوش رہ سکیں اور خود میں رہ سکیں ۔ پاپائے اعظم فرانس کہتے ہیں ” پاپائےا عظم جان پال دوئم نسل انسانی کے لئے بہت جذبہ رکھتے تھے اور مکالمہ کے لئے وہ کھلا دل رکھتے تھے ۔
اس سال کے آغاز میں ایک کتاب بعنوان ” مقدس جان پال عظیم” جس میں وہ شریک مصنف ہیں ” میں پاپائے اعظم فرانس نے کہا ” میں نے پولش پاپائے اعظم سے خوش اور رحم کی اہمیت سیکھی ۔” جان پال دوئم سے سیکھنے کے لئے بہت کچھ ہے ان کے پاس بھیڑوں کی خوشبو تھی ۔” فرنس نے کہا ” وہ ایک چرواہے تھے جو لوگوں سے پیار کرتے تھے اور خواب میں عوام و الناس اُن سے بے پناہ محبت کو واپس لوٹا۔”

مقدس جان پال دی ‘مینیلیم پوپ’
آپ کے متعلق بہت اچھا تحریر ہوچکا ہے جس میں میرے اس حقیر کالم کی کوئی اوقات نہیں ۔ آپ سب پاپائے اعظم جان پال کے متعلق بہت کچھ جانتے ہیں لیکن کوشش کروں گا کہ کچھ ” حیرت انگیز حقائق” آپ کو اس کالم کے توسط بے بتا سکوں۔
1۔ اپنے تھیڑ کے دنوں میں آپ نے غیر معمولی یاداشت کے ساتھ شوکر لفظی طور پر اپنے ذہن محفوظ کرلیا
ہم سب جانتے ہیں کہ جان پال میں ڈرامہ اور ادب کا جنون تھا ایک جوجوان تھے اپنی ناقابل یقین یادداشت سے ایک بار ہی بار میں شو کو اپنے ذہن میں محفوظ کرلیا۔ کاسٹ ممبروں میں سے ایک کو پروڈکشن ٹیم نے خارج کردیا ۔ پہلے شو میں تو نوجوان کردار ( جان پال) نے اضافی دول کرنے کو پیش کردی جو دوران ریہرسل انہوں نے لفظ بہ لفظ یاد کررکھا تھا ۔ یوں چو چلتا رہا ۔

2۔ نوجوانوں کے ساتھ کیمپنگ
نوجوانوں کے ساتھ وقت کیمپنگ پہ گزارتےآپ کو بہت پسند تھا ۔ جب پولینڈ میں پیرش پریسٹ تھے اور بعد میں کارڈنیل کی حیثیت حالانکہ کیمونسٹ طاقتوں نے منع کردیا ۔ آپ مختلف کھیل کے دوران اور پیدل سفر کے دوران پاک ماس ادا کرتے اور رات کو کیمپ فائر کے آس پاس ، سی ، ایس لوئس ( علم الہٰیات کے ماہر ) کے مضامین میں پڑھ کرسکتے ہیں ۔

3۔ ادنی سے ادنی کام
مقدس جان پال ادنی سے ادنی کام کرنے میں نہیں گھبرتے تھے ۔ اُن کی حلیمی تھی کہ وہ معمولی سے معمولی کام کرنے کو بھی تیاری رہتے ۔ نازیوں سے اقتدار کی منتقلی کے بعد جب جان پال اور اُن کے ساتھ سمینری واپس آئے تو نہایت خراب حالت تھی ، لیٹرین بالکل صاف نہیں تھی ، کچرے کے ڈھیر لگے تھے تو جان پال نے بیلچوں سے کچرا اُٹھا کر صفائی کی تو جب آپ تو ایساکام کرنے کرنے پڑھ کو جان پال کو بھی یاد رکھیں جو یہ خوش سب کرتا تھا ۔

4۔ آپ 73 برس کی عمر میں بھی اسکینگ کرتے تھے
8 برس کا بچہ اپنے والدین کے ساتھ اسکینگ ( ڈھلوان پر پھسلنا ) کررہا تھا ۔ پھر بچہ اور ایک شخص کررہے تھے انہوں نے دو چکر لگائے ۔ اس جوڑے کو یقین نہ آیا کہ اُن کا بچہ پاپائے اعظم کے ساتھ اسکینگ کررہا ہے جب تک کہ پاپائے اعظم نے اپنا تعارف نہ کرایا ۔ وہ 73 کی عمر تک اسکینگ کرتے رہے۔

5۔ انہوں نے اپنی زندگی دوران تین بار چاند کا سفر کیا
آپ سوچ رہے ہوں کہ ایسا کب ہوا تو آپ بالکل درست سوچ رہے ہیں انہوں نے 775000 میل کا سفر کیا ، 129 ممالک کا ۔
آپ مشن پر تھے ۔ عالم گیر کلیسیاؔ کے چرواہے کے حیثیت سے باہر نکل ہر اپنے ریوڈ سے ملنے کی ضرورت تھی انہوں نے کہا ” کیا میں پوری دنیا کا پاپائے اعظم نہیں ہوں ۔”

6۔ آپ کی زندگی کا خوشگورار ترین ان کون سا تھا ؟
اُن کے مطابق جب انہوں نے سسٹرفوسٹینا کو مقدسہ قرار دیا کہ نئی صدی کی پہلی مقدسہ تھی ۔ رحم الہٰی کی عقیدت اُن کی زندگی کا مرکزی موضوع تھا ، جو مقدس جان پال کے دل کے نہایت قریب اور عزیز تھا ” الہٰی رحم سے زیادہ کسی چیز کی ضرورت نہیں۔”

7۔ جان پال دوئم
نازی یلغار کے دوران جب جان پال دوئم کو کان کنی کے کام کے جان پڑتا ( صبح کے وقت 30 منٹ پیدل چل کر جانا ہوتا )۔ آپ نے باردو سے پھٹی اپنی ساتھ کارکن کی موت کا مشاہدہ کیا اور اس پر بات میں نظم لکھی۔

8۔ خفیہ پویس سے بچنے کے لئے جیمز نانڈ کی مانند کے لباس کو حرکت کی
کیمونسٹ دور میں جب وہ پولینڈ میں بشپ تھے تو خفیہ پویس مسلسل ان پر نگاہ رکھتی تھی اور ان کے متعلق معلوقات جمع کرتی تھی جب کہ وہ پاپائے اعظم نہ بن گئے ( آپ کے متعلق رپورٹس کے 18 کارٹن جمع کئے)۔ ایک بار جب آرچ بشپ اس سے خفیہ ملاقات کرنا چاہتے تھے تو انہوں نے انداز بدلا اور مختلف کارٹن تبدیل کرتے ، اُمن و سکون سے آرچ بشپ سے ملاقات کے پہنچ گئے ، حکومت نے بشپ کی رہائش گاہ پر سننے والے آلات نصب کررہے تھے اور جان پال یہ جانتے تھے ۔ جب وہ چاہتے تھے کہ وہ دن کی گفتگو سننے کو اونچی آواز ادھر اُدھر کی باتیں کرتے اور اپنی خفیہ رکھنے والی باتیں نہایت آہستہ سے کرتے۔

9۔ یوگوسلاویہ میں گرجا گھر
پاپائےا عظم جان پال دوئم اپنی پوری زندگی میں دینے والے رہے۔ انہوں نے خود کو تحفہ بنادیا ، وہ اپنے وقت اور قابلیت کا تحفہ دیتے ۔ اس کی ایک مثال ان کی کتاب
CROSSING THE THRESHHOLD OF HOPE
ہے جو لاکھوں میں شائع ہوئی ۔ انہوں نے اس کتاب کی پہلی لائلٹی کو یوگو سلاویہ میں گرجا گھر کی تعمیر نو کے لئے استعمال کیا جو تنازعات کے تباہ ہوگئے تھے ۔

10 ۔ پرانے کپڑے
جان پال دوئم اپنے لئے خرید گئے ۔ نئے کپڑے عطیہ کردیتے اور خود اپنے پرانے کپڑے استعمال کرتے ۔

11۔ مقدس پادرے پئیو سے اعتراف کا ساکرامنٹ
1947 خ س میں آپ مقدس پادرے پئیو سے ملاقات کی اور اعتراف کا ساکرامنٹ حاصل کیا اور 55 برس کے بعد آپ نے انہیں مقدس قرار دیا ۔

12۔ پیشرو پاپائے اعظم جان پال اول
میرا نانام جان پال ہے ، اول ہوں ۔ میں صرف مختصر وقت کے لئے یہاں آیا ہوں ۔ دوسرا آنے والا ہے۔

13۔ ملٹی ٹاسکنگ
جان پال دوئم ناقابل یقین حد تک کام کی الہٰیت رکھتے تھے ۔ ان کے ایک سیکرٹری نے انہیں ” توانانی کا آتش فشاں” کے طور پر بیان کیا ۔ دن میں 12 سے 16 گھنٹے کام کرنا معمولی بات نہیں تھی ۔ ان کے پاس کام کوتعظیم کرنے کا تحفہ تھا ۔ لوگ حیران ہوتے تھے کہ کس طرح بات چیت کرتے ہوئے وہ پڑھ رہے ہوتے تھے ، اگر وہ بیک وقت کسی اور کام کو کررہے ہوتے تو وہ کبھی کبھی ملاقاتوں سے ٹھیک جاتے ۔ ویٹی کن دوئم کے وہ ہر طرح کتب کا مطالعہ کرتے اور لکھتے ۔ شاعری پڑھتے اور لکھ رہے ہوتے ۔

14 ۔ پاپائی ‘کون-کلے’ میں کارل ماکس کو پڑھتے
آپ میں اتنی توانائی تھی کہ منتقل طور پر ملٹی ٹاسکنگ کرتے وہ اپنی دائش کو کھلاتے رہتے ۔ اپنے انتخاب سے قبل پاپائی ‘کل-کلے’ پڑھنے کے لئے مواد کتابوں کی شکل میں لائے ۔ ان میں وہ کارل مارکس کا ادب پڑھ رہے تھے جیسا کہ آپ نے اپنے دوست سے کہا ” اگر آپ دشمن کو سمجھنا چاہتے ہیں تو آپ کو معلوم ہونا چاہے کہ اس نے کیا لکھا ہے۔”

15۔ 300000 کے سامعین مسلسل 14 منٹ تالیاں بجاتے رہے
جون 1979 خ س پاپائے اعظم کی حیثیت سے پولینڈ واپس گئے ۔ وکٹوری انکوائر کی پاس ماس میں 300000 عید پنتیکوسست کی پاس ماس میں شریک تھا ۔ 14 منٹ کی مسلسل تالیاں بختی رہیں۔ ایک لمحہ کے لئے تصویر کریں ایسے لوگوں ، ایک ثقافت کو کمیونزم کے دبایا اور اب ایک پولش لڑکا آزادی اور اُمید کا پیغام پاپائے اعظم کی حیثیت سے کر آیا اپنے وطن میں ” اپنا روح نازل فرما ، اپنا روح نازل فرما۔ اس سرزمین کی زمین کو نیا کر۔”

16۔ اُن کی تحریر ہرچیز کو ساتھ رکھیں
صرف اپنی پاپائیت میں انہوں نے اوسط 3000 صفحات سالانہ تحریرکئے۔

17۔ مسجد میں قدم رکھنے والے پہلے پاپائے اعظم
آپ کی محبت کاتھولک کلیسیا کی حدود سے باہر تمام مذاہب ، تمام نسلوں اور تمام زبانوں پر پھیلی ہوئی ہے۔

18۔ سوئس گارڈز
تصویر کریں ۔ ویٹی کن کے پچھلے دووازے ایک کالے لباس میں ملبوس نکال جاتی ہے ۔ جان پال دوئم ان رہنماوں میں سے ایک تھے جو خاموشی سے اپنے سیکوڑٹی گارڈز خبر نہ ملے بغیر پہاڑوں میں تھوڑا سا گھومنے پھرنے یا سیکنگ کے لئے نکل جاتے ۔ آدھی جنتا مصروف ہو وہ توتفریح اورکام میں توازن کو سمجھتا ہے۔

19۔ بشپوں کے نام
آپ نے ایک نقشہ رکھا جس پر تمام دنیا کے ڈایوسیس کو نشان زد کررکھا تھا ۔ وہ ہر بشپ کو دل سے جانتے تھے ۔ ان کو یادداشت قیادت تک محدود نہیں تھی ۔ سوئس گارڈ ، سمنیری کے طالب علم اور کبھی ملنے والے ترتیب اور تفصیلات سے حیرت زدہ ہونے کے برسوں بعد بھی آپ کو ان کے بارے میں یارفقا۔

20۔ زیادہ لوگوں نے دیکھا
دیڑھ ارب افراد نے آپ کو دیکھا کیا وہاں تک کوئی دوسرا دعواید موجود ہے؟

حاصل کلام
اب سب حقائق میں مشترک کیا ہے ، ہم یہ ہی کہہ سکتے ہیں کہ مقدس جان پال دوئم عظیم ہیں۔

حرف آخر
مقدس جان پال دوئم کے الفاظ خراج عقیدت کا اختتام کرنا ہوں : ڈرو مت ۔”



جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں