دعا : خدا سے مکالمہ / رفاقت

0
79

تحریر : برادر ثالث مورس ( او۔ ایف۔ایم کیپ) کیپوچن ہاؤس ، کراچی

دعا : خدا سے مکالمہ / رفاقت
(آج کی ضرورت)

تعارف:
مسیحی ایمان میں بہت سی دعا ئیں شامل ہیں۔ جیسے کہ روزمرہ کی دعائوں کی کتاب میں صبح کی دعائیں اور شام کی دعائیں؛ مقدس گھنٹہ کی عبادت ؛ پاک یوخرست کی قربانی ؛ اقدس روزری؛ مقدسین کے نووینہ سے اُن کی سفارش طلب کرنا ؛ روزہ و ریاضت کرنا؛ گناہوں کی معافی مانگنا وغیرہ وغیرہ۔ یہ دعائیں ہمیں خُدا کی محبت اور قُربت میں بڑھنا سکھاتی ہیں۔ دعا کے لغوی معنی ” خُدا سے مانگنا، التجا کرنا، مناجات اور کسی کیلئے برکت اور بھلائی چاہنا” ہیں۔ عام معنوں میں ہر وہ چیز ، لفظ، کام، یا عمل جوہمیں خداکی طرف لے کر جائے یا اُس کی قربت کا احساس دلائے، اُس کے بارے میں ہمیں اُبھارے یا اُس سے ملنے کی لگن اور جستجو پیدا کرے ـ’ دعا’ ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ انسانی فطرت میں یہ رُحجان پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے سے بالاتر حقیقتوں کی تلاش کرتا ہے۔ مگر کہا جاتا کہ خُداہر جگہ موجود ہے لہٰذا ماضی میں انسان کبھی چانداور کبھی سورج کی پوجا کرنے لگ جاتا اور ان سے دعا مانگتا ؛ تو کبھی آسمان کی بجلی سے ڈر کر اسے خُدا مان لیتا اور دعا کرتا۔ حقیقت میں دعا ‘ خُدا کی حضوری میں آنا ہے اور خود کو اس کے سپرد کرنا ہے’۔ بائبل مقدس کے آغاز میں (تکوین ۳:۹) آدم اور حّوا خُدا کی حضوری میں رہتے تھے، اس سے ملتے ، ہم کلام ہوتے اس کا دیدار کرتے تھے ۔ یہی ان کی دعا ، بندگی اور پرستش تھی۔
دنیا بھر میں جتنے بھی مذاہب ہیں سب میں دعا/ نماز، بندگی ، پرستش ، عقیدت اور عبادت کا عنصریا پہلو پایا جاتا ہے، چاہے وہ گرجا گھر (چرچ) میں پاک ما س یا دعائوں کی صورت میں ہو، مسجد میں نماز کی صورت میں، مندر میں کسی دیوی /دیوتا کی پوجا ہو، ہیکل میں دعا یا قربانی کی صورت میں ، وہارا (بدھ مت کی عبادت گاہ/ٹمپل) میں مقدس کتاب کا وِرد ہو یا گرودرارہ میں بانی یا اردا س کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو سب کے سب اپنی عبادت گاہوں میں اپنے ایمان و عقیدت سے دعا کرتے ہیں۔
چند دیگر زبانوں میں لفظ دعا اور معنی :
سادہ الفاظ میں دعا’ خُدا یا کسی الٰہی ذات ، پاک ہستی یا اپنے سے بالاتر سے مانگنا، التجا کرنا،فریاد کرنا، اسے اپنی فکریں، ضرورتیں بتانااور اس کی عطا کردابرکات وفضائل کا شکریہ ادا کرناہے ‘۔ دعا خُدا سے ہمکلام ہونا اور اُس سے بات چیت کرنا ہے۔
دراصل ‘دعا ‘ اروو زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی التجا ، مناجات ، منت یا درخواست کرنا اور خُدا سے مانگنے کے ہیں۔ انگریزی میں دعا کو ‘ ‘ پرئیر(Prayer) ‘ ‘ کہتے ہیں جو کہ لاطینی کے لفظ ”پِریکاری(Precari)” سے ماخذ کیا گیا ہے جس کے معانی ‘ مانگنا ( To Beg)’ ہے ۔ مقدس اگسٹین دعا کے بارے میں لکھتے ہیںکہ ” آدمی خُدا کے سامنے بھکاری ہے is a begger before God) Man "( ۔ عبرانی میںدعا کیلئے ” تفِلّہ (Tefillah)” لفظ استعمال ہوتا ہے جس کے معانی ‘ سوچنا، استغفار کرنا اور شفاعت کرنا’ ہے ۔ یونانی میں دعا کیلئے’ ‘Proseuchomai’ یا ”Prosefchi’ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ جبکہ عربی میں ‘ ‘ صلاۃ ” ، فارسی میں ” نماز’ ‘ اور پنجابی میں ‘ ‘ ارداس” لفظ استعمال ہوتا ہے۔
دعا کی روحانیت :
خُدا کے لئے عقیدت کی درخواست، خُدا کے ساتھ ایک روحانی رفاقت یا کسی عبادت کی چیز اور لفظ کو ‘دعا’ کہتے ہیں۔ درحقیقت دعا/ بندگی اور عبادت خُداتعالیٰ سے رفاقت اور ربط کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ دعا بالکل ایسے ہی ہے جیسے خُدا کے ساتھ مہوِگفتگو ہو نا یا بات چیت کرنا ہے (روحانی گفتگو)۔ یہ خُدا سے مکالمے کا ذریعہ ہے جو ہمیں خُدا سے ہمکلام ہونے میں مدد کرتی ہے اور انسانی روح کا اپنے مالک کے ساتھ تعلق کا سبب بنتی ہے۔ دعا خُدائے قادر کے دل کو چھونے کا موثر ، کامیاب اور اہم موقع ہوتا ہے۔ یہ اُمید اور ایمان کی روحانی مشق ہے جو ہماری ذاتی اور روحانی نشونما میں مدد کرتی ہے۔ جیسے خوراک جسم کو تقویت بخشتی ہے اور اُس کی غذا ہے، ویسے ہی دعا روح کی غذا ہے اور ہمیں روحانی طور پر قوت دیتی ہے۔ یہ خُدا اور انسان کے درمیان پُل کی حیثیت رکھتی ہے جو ہمیں خُدا تک لے کر جاتا ہے اور اس تک ہماری رسائی بآسانی کرواتاہے۔ دعا ایک مسیحی کیلئے نہایت ضروری ہے جس میں اسے مشغول رہنا ہے۔ مقدس پولوس رسول اپنے بہت سے خطوط میں دعا پر ضرور دیتے ہیں: ” امید میں خوش ۔ تکلیف میں صابر اور دعا میں مستقل رہو” (رومیوں ۱۲:۱۲) ۔ "بلاناغہ دعا کرو۔۔۔” (۱۔تسالونیکیوں ۵:۱۶)۔ ” اور ہر وقت اور ہر طرح سے روح میں دعا اور منت کرتے رہو” (افسیوں ۶:۱۸)۔
دعا سے متعلق چند خوبصورت اقوال:
٭ دعا / بندگی مٹی کے انسان کو سونا بنا دیتی ہے۔
٭ رات کے آخری پہر میں اٹھ کر رب کو راضی کرنا ‘عشق ‘ہے۔
٭ خاموشی میں کی گئی دعا بہت طاقت رکھتی ہے۔
٭ کبھی سچے دل سے دوسروں کے لئے دعا مانگ کر دیکھو، تمہیں اپنے لئے مانگنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
؎ یا ربّ ! رکھ فقر فقط اپنی ذات کا
دُنیا کے خُدائوں کا تجھے خوب پتا ہے
مسیحیت میں دعا:
کتابِ مقدس میں ‘دعا’ ایک عبادت ہے جس میں ہر وہ طریقہ شامل ہے جو انسانی روح خُدا تک رسائی کے لئے استعمال کرتی ہے۔ خُدا کی تمجید کرنا، حمد و ثنا گانا، اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا، التجا کرنا، اُس سے مدد مانگنا اور اُسکی شکر گزاری کرنا ‘مسیحی عبادت ‘ ہے۔ خُدا سے رفاقت انسان کی روح کا عظیم ترین ممکن عمل ہے۔ دعا کے متعلق کلامِ مقدس ‘ خُدا کی ذات ‘ پر زور دیتا ہے۔ پرانے عہد نامہ میں ‘ خُداکا نام’ لینا ہی اُن کی دعا تھی۔ ” ا برام نے خُد ا وند کے لئے ایک قربان گا ہ بنائی اور خُداوند کا نام لیا ” (تکوین ۴: ۱۲) ۔ ” ابراہیم نے بیر شابع میں جھائو کے درخت لگائے اور وہاں خُداوند خُدائے قیوم کا نام لیا ” (تکوین ۳۳: ۲۱)۔ یعنی صرف خُدا کا پاک نام لینا ہی ایک دعا اور خُدا سے مدد کی درخواست سمجھا جاتا تھا۔ دعا وہ عمل ہے جب انسان اپنی خودی کو چھوڑ کر خُدا کے سامنے سرِتسلیم خم کرتا ہے۔دعا نبیوں کی خدمت میں اہم مقام رکھتی ہے جو انہوں خُدا سے ہمکلام ہونے میں مدد کرتی تھی ۔ جب ہم خُدا سے اپنا رشتہ ، تعلق و ناتا مضبوط اور ثابت رکھتے ہیں، تو ہم اس کی قربت میں بھرتے ہیں ، اس سے برکات حاصل کرتے ہیں اور اس کے بیٹے بیٹیاں بن کر اسکی بادشاہی کے وارث بن جاتے ہیں۔
دعا کی اقسام:
رومن کاتھولک کلیسیاء کی روایت ‘دعا ‘کی پانچ بنیادی عناصر پر روشنی ڈالتی ہے (کاتھولک کلیسیاء کی کیٹی کیزم ۲۶۲۶ – ۲۶۴۳)
۱) برکت اور مقدس گھنٹے / سجدے کی دعا (Prayer of Blessing and Adoration)
۲) درخواستی دعا (Prayer of Petition)
۳) شفاعت کی دعا (Prayer of Intercession)
۴) شکر گزاری کی دعا (Prayer of Thanksgiving)
۵) حمد وثنا کی دعا (Prayer of Praise)
مزامیر کی کتاب میں بے ساختگی اور باقاعدگی کا شیریں امتزاج ہے۔ ہیکل کی با ترتیب دعائوں کے ساتھ ساتھ معافی کے لئے بہت سے مزامیر جیسا کہ شخصی دعائیں (زبور ۲۳، ۵۱)؛ خُداوند کی حفاظت(۹۱)؛ شفا(۶، ۴۱)؛ شفاعت(۲۰)؛ غم زدہ کی دعا(۱۳)؛ الٰہی مدد(۵، ۳۵،۴۰)؛ ہدایت کے لئے دعا(۲۵)؛ گناہوں کی معافی (۳۲)؛ ایذارسانی کے وقت(۱۷)؛ رہائی (۳۰،۴۸،۵۷،۶۶، ۱۰۹)؛ مُصیبت کے وقت(۶،۳۱،۹۳،۸۸،۱۰۲،۱۴۳)؛ خطرے کے وقت(۳، ۵۴)؛ خدائے خالِق کی تمجید(۱۹، ۳۳) ؛ عر ض و شکر گزاری (۲۸، ۴۱،۶۵،۱۰۷،۱۱۲) کی دعائوں کے ساتھ حمدوثنا (۳۴،۱۰۳،۱۱۳،۱۱۷،۱۴۷،۱۵۰) کی دعائیں شامل ہیں۔ مقد س پولوس رسول فیلپیوں کے نا م خط میں لکھتے ہیں: ـ”کسی بات کی فکر نہ کرو ۔ بلکہ ہر ایک کام میں دعا او ر منت سے شکر گزاری کے ساتھ تمہاری درخواستیں خُداکے حضور کی جایا کریںـ ” ( فیلپیوں ۴:۶)۔
علمی لحاظ سے با ت کی جائے تو دعا کی دو اقسام دیکھنے کو ملتی ہیں : اوّل: لفظی یا زبانی دعا (Vocal Prayer) ~جس میں الفاظ کا استعمال ہوتا ہے۔ دوئم: دلی دعا یا اسے ذ ہنی دعا بھی کہہ سکتے (Mental Prayer) ~ جس میں کسی قسم کے الفاظ استعمال نہیں ہوتے مگر انسان اپنے دل (مَن) میں خُدا سے فریاد کرتا ہے۔ اسے دھیان وگیان کی دعا (Meditation) بھی کہا جا سکتا۔
دعا کرنے کا طریقہ :
اس موضوع پر بات کرنا تھوڑا مشکل ہے کیونکہ ہر شخص اپنے طور طریقہ ، ایمان اور اپنی عقل،سوچ اور سمجھ کے مطابق دعا کرتا ہے یا یہ کہہ سکتے ہیں کہ جیسے اسے پسند ہو اور جیسا اسے دعا کرنی سکھائی گئی ہو۔ لیکن اگر کلام کی رو سے دیکھا جائے تو ہمیں بہت سے حوالہ جات ملتے جو ہماری مدد اور رہنمائی کر سکتے ہیں۔ مقدس متی کے مطابق اِنجیل اس کے چھٹے باب میں خُداوند یسوع مسیح دعا کے بارے بتاتے اور اس متعلق ہدایات بھی دیتے ہیں: ” اورجب تم دعا کرو تو ریاکاروں کی مانند نہ ہونا۔ کیونکہ وہ عبادت خانوں میں اور بازاروں کے موڑوں پر کھڑے ہو کر دعا کرنا پسند کرتے ہیں تاکہ لوگ انہیں دیکھیں۔۔۔ "(متی ۶:۵)۔ یہاں یسوع مسیح ہمیں یہ تلقین کر رہے ہیں کہ ہم دعا میں سادگی اپنائیں اور کہ ہما ری دعا ہر طرح کی ریاکاری سے پاک ہونی چاہئے، خلوص دلی اور نیک نیتی دعا کامحرّک ہونی چاہئیں۔ اِس کے بعد ساتویں آیت میں یسوع مسیح فرماتے ہیں : ” اور جب تم دعا کرتے ہو ، تو غیر قوموں کے مانند بک بک نہ کرو ۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہماری زیادہ گوئی سے ہماری سنی جائے گی” (متی ۶:۷)۔ یہ آیت میں ہم جان سکتے ہیں کہ دعامیں سادہ الفاظ کا چناؤ کرنا چاہئے ۔ اِس کی بہترین مثال ہمیں فریسی اور محصل کی تمثیل میں ملتی ہے: ”دو شخص ہیکل میں دُعا کرنے گئے۔۔۔ مگر اُس محصل نے دور کھڑے ہو کر اتنا بھی نہ چاہا کہ آسمان کی طرف آنکھ اُٹھائے بلکہ چھاتی پِیٹ پِیٹ کر کہتا تھا کہ اَے خُدا مجھ گنہگار پر رحم کر” (لوقا ۱۸: ۱۰، ۱۳)۔ امثال کی کتاب میں لکھا ہے: ” شریروں کا ذبیحہ خُداوند کے سامنے مکروہ ہے مگر راستکاروں کی دعا اس کی خوشنودی ہے” (امثال ۱۵:۸)۔ یسوع مسیح بتاتے ہیں کہ ہمیں کیسے دعا کرنی چاہئے، "لیکن جب تم دعا کرو تو اپنی کوٹھری میں جا اور دروازہ بند کر کے اپنے باپ سے پوشیدگی میں دعا کر اور تیرا باپ جو پوشیدگی میں دیکھتا ہے۔ تجھے بدلہ دے گا "( متی ۶:۶ میں)۔
دعا میں کیا مانگنا ضرروی:
بہت دفعہ ہم سوچتے ہیں کہ کیا دعا کریں ، خُدا سے کیا مانگیں یا دعا کیسے اور کس انداز سے کی جائے؟ پاک کلام میں یسوع کے شاگرد بھی اس سے یہی درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں دعا کرنا سکھا ” اور وہ ایک جگہ دعا کر رہا تھا ۔ جب کر چکا تو اس کے شاگردوں میں سے ایک نے اس سے کہا ۔ اے خُداوند ہم کو دعا کرنا سکھا۔۔۔” (لوقا ۱۱:۱)۔ اور شاگرد کی اِس درخواست پر خُداوندیسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کے ساتھ ساتھ کلیسیاء کے ایمانداروں کیلئے ــ”دعائے ربانی ” بطور نمونہ سکھائی (لوقا ۱۱:۲- ۴)۔ خُدا وند کی دعا (دعائے ربانی) ایک کامل اور مکمل دعا ہے جس میں انسان کی تمام ضروریات اور روحانی ترقی سموئی ہوئی ہے۔ خُدا باپ کی حیثیت رکھتا ہے اور ہمارے مانگنے سے پہلے ہی جانتا ہے کہ ہمیں کیا درکا ر ہے۔ مقدس پولوس رسول رومیوں کے نام خط میںدعا کے بارے بہت خوبصورتی سے لکھتے ہیں : "اسی طرح روح بھی ہماری کمزوری میں مدد کرتا ہے ۔ کیونکہ ہم جانتے بھی نہیں کہ کیا دعا کریں؟ مگر روح خود ناقابلِ بیان آہیں بھر بھر کر ہمارے لئے سفارش کرتا ہے” (رومیوں ۸: ۲۶)۔ سلیمان بادشاہ اپنی دعا میں خُدا سے اپنے لئے عزت ، شہرت ، کامیابی یا سرفراضی نہیں مانگتا بلکہ عاجزی و انکساری سے خُدا سے حکمت ، فہیم دل،نیکی اور بدی میں امتیاز کرنا، اور عقلمندی مانگتا ہے اور خُدا اُسکی اِس فریاد کے عوض باقی سب کچھ بھی بخش دیتا ہے (۱۔ملوک ۳:۵-۱۳)۔
دعا کیلئے کوئی خاص جسمانی وضع مقر ر نہیں اور نہ ہی کسی قسم کی پابندی عائد ہے(صرف مسیحیت میں )۔ کلامِ پاک میں ہمیں مختلف طریقوں اور اندازوں میں دعا کرنے کے نمونے ملتے ہیں۔ جیسا کہ ہاتھ اٹھانا (زبور ۲۷:۲)، کھڑے ہو کے دعا کرنا (۱۔ سموئیل۱:۲۶ ) ؛ گھٹنے ٹیک کر ہاتھ اٹھانا(۱۔ ملوک۸: ۵۴) ؛ سر نگوں ہو کر سر گھٹنوں کے بیچ کرنا(۱۔ملوک ۱۸:۴۲) ؛ منہ کے بل گر کر ہاتھ پھیلانا(عزرا ۹:۵) ؛ ہا تھ آسما ن کی طرف اٹھانا(مرثیے۳:۴۱) ؛ راکھ پر بیٹھ کر یروشلیم کی طرف منہ کرنا(دانیال۹: ۳،۲۰)۔ اسی طرح اوقات ِدعا پر بھی کوئی پابندی نہیں۔ دعا مقررہ وقت کے علاوہ ہر وقت قبول ہوتی ہے (مزمور ۵۵:۱۸)۔
؎ سجدوں کے عوض فردو س ملے یہ با ت مجھے منظو ر نہیں
بے لوث عبادت کرتا ہوں، بندہ ہوں تیر ا مزدور نہیں
دعا کا مقصد:
ہر شخص اپنی ضرورت کے تحت خُدا سے دعا کرتا ہے۔ خُدا کو اپنے اور پنے خاندان کے بارے ، گھریلو زندگی کی مشکلات ، کاروبا ر کے متعلق بتانا یا ہمیں کن کن چیزوں کی ضرورت ہے یہ دعا نہیں کہلاتی۔ بلکہ دُعا ہمارے ایمان کو تقویت پہنچاتی ہے، خُدا کے قریب لاتی ہے، اس سے ہمکلام ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اُس پر اپنا مکمل بھروسہ دکھانا، اپنی دعائیہ زندگی کو اور زیادہ مضبوط بنانا، خُدا کی حمدوستائش اور شکر گزاری کرنا، اپنے اور خُدا کے رشتہ کو قائم کرنااور اُس سے برکات ، شفا اور قوت مانگنا ہے ۔ اور سب سے بڑھ کر ہم اِس لئے دعا کرتے ہیںکہ اپنی مُحبت اُس کودکھا سکھیںاور اسے پیا ر کریں جس نے خود پہلے انپے بیٹے کے وسلیہ سے ہم سے مُحبت رکھی۔ یشوع بِن سراخ کی کتاب میں لکھا:” اپنی دعا میں چھوٹے دل والا نہ ہو۔ ”(سراخ ۷:۹(
یسوع مسیح ہر کام سے پہلے دعا کرتے اور زیادہ وقت دعا میں ہی گزارتے تھے۔ اگر اناجیل کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ دعا یسوع مسیح کی زندگی کا بنیادی حصہ تھی ۔ وہ پہاڑوں پر، ویرانوں، سنسان جگہوں پر سار ی ساری رات دعا کرتے تھے اور اپنی دعاؤں میں شکرگزاری کرتے(لوقا ۱۰:۲۱ ؛ یوحنا ۶:۱۱) ؛ خُداسے ہدایت مانگتے(لوقا ۶:۱۲ ) ؛ اوروں کی شفاعت کرتے ( یوحنا۱۷: ۶- ۱۹ ؛ مرقس ۱۰:۱۶ ؛ لوقا ۲۳:۴۳ ) ؛ روحانی کشمکش میں دعا کرتے (یوحنا۱۲: ۲۷- ۲۸) اور یہاں تک کے صلیب پر اپنے دشمنوں کے لئے دعا مانگی اور انہیں معاف کیا (لوقا ۲۳:۳۴ ؛ متی ۲۷:۴۲)۔
بائبل مقدس میں بے شمار حوالہ جات درج ہیں جو دعا کے بارے بات کرتے اور بہت سی ایسی شخصیات کا ذکر بھی ملتا ہے جو دعا کرتے ہیں: ابراہیم خُدا سے سدوم شہر کے لئے سفارش و التجا کرتا ہے(تکوین ۱۸: ۱۶-۳۳) ۔ موسیٰ خداوند خُدا سے ہمکلام ہوتا ہے اور اس سے احکامات حاصل کرتا ہے(خروج ۱۹)۔ حَنہ کی خُدا سے بیٹے کی فریاد ” تب اُس نے خُداوند سے دعا مانگی اور روئی” (۱۔سمُوئیل ۱: ۱۰)۔ داؤد کا اپنے بیٹے کی زندگی کے لئے خُدا سے سفارش کرتا(۲۔ سموئیل ۱۲:۱۶-۱۷)۔ سُلیمان کی دعا اور خُداوند کا ظہور(۲۔اخبار ۶:۱۲-۷:۱- ۴)۔ مردکائی کی دعا(استیر ۱۳: ۸- ۱۸)۔ استیرکی دعا(استیر۱۴:۱- ۱۹)۔ خُدا اور نبی میں مکالمہ (حبقوق ۱)۔اور سب سے بڑھ کر مقدسہ مریم کا نمونہ ہم سب کے لئے بہت اعلیٰ ہے وہ اپنی پوری زندگی میں خُدا کے کلام کو حفظ کرتی رہی۔ مقدسہ ماں مریم وہ ہستی ہے جس کے وسیلہ سے کلمہ (یسوع مسیح) اِس دینا میں آیا۔ اُس کا رُتبہ بلند و بالا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ خُدا اور یسوع کو مریم سے بہترکوئی نہیں جانتا اور یہ ایسا ذریعہ ہے جو یقینا ہماری دعائیں خدا کے حضور پہنچاتی ہے۔
پرو فیسر مشتاق اسد لکھتے ہیں:
دلوں کودیکھنا ہو تو دعا کی آنکھ سے دیکھو
مقدر کودیکھنا ہو تو التجاکی آنکھ سے دیکھو
خُدا کودیکھنا ہو تو مریم کی آنکھ سے دیکھو
مریم کودیکھنا ہو تو خُدا کی آنکھ سے دیکھو
پھر ایک جگہ اپنے واعظ میں مشتاق اسدصاحب کہتے ہیں کہ’ جتنا راج اُس کے ہاں خُدا کا ہے ۔ ہم وہاں پہنچ نہیں پاتے: لیکن یہ بات ہے کہ اُس کا ذکر کرو گے تو آپکا فکر بلند ہو جائے گا’۔
کوئی شخص دعا کے بغیر نہیں رہ سکتا کیونکہ ایمان اسے دعا کی طرف راغب کرتا ہے۔ کلام پاک میں لکھا ہے کہ "مانگو تو تمہیں دیا جائے گا ۔ ۔۔۔”(متی ۷:۷)۔ یشوع بِن سراخ کی کتاب میں لکھا:” بیٹا ! جب تُو بیمار ہو تو غفلت نہ کر بلکہ خُدا وند سے دعا کر تو وہ تجھے شِفا دے گا”(سراخ ۳۸:۹)۔ بہت سے لوگ شک کرتے ہیں کہ اُن کی دعا قبول نہیں ہوتی مگر حقیقت میں با ت یہ ہے کہ ہمیں دعا ہی نہیں کرنی آتی اور مانگنا ہی نہیں آتایا ایمانی کمزوری کی وجہ سے ہم ٹھیک سے دعا نہیں کرتے۔ یہاں ایک بات وضع کرتا چلوں کہ دعا کے جواب میں تاخیر کے پیچھے خُدا کی بے تعلقی نہیں بلکہ اس کی مُحبت ہے کہ ہمارا ایمان بڑھے اور گہرا ہو اور بالآخر پھل لائے۔ ” اے خُداوند میں نے تیری شہرت سنی ہے۔۔۔برسو ں کے دوران میں اسے بحال کر، برسوں کے دوران میں اسے مشہور کر” (حبقوق ۳:۲)۔ اشعیا نبی اپنے صحیفے میں لکھتا ہیں ” یقینا خُداوند کا ہاتھ چھوٹا نہیں کہ بچا نہ سکے او ر نہ اس کاکان بھاری ہے کہ سن نہ سکے ” (اشعیا ۵۹:۱)۔ کسی شخص کا قول ہے کہ "دعائیں رد نہیں ہوتیں، بس بہترین وقت پر قبول ہوتی ہیں۔”
انسان کی زندگی کا ایک مقصد خُدا کو پیا ر کرنا اور اس کی بندگی ، پرستش اور حمد و ثنا کرنا بھی ہے۔ عموماًدیکھا جاتا ہے کہ جب انسان بے حد خوش ہوتا ہے یا تو وہ خُدا کو بھول جاتا ہے یا دعا نہیں کرتا مگر جب وہی شخص کس مصیبت میں ، مشکل کی گھڑی ، غم یا رنج کے عالم میں ہو تو سب سے زیادہ خُدا کو یاد کرتا ہے اور اس سے دعا مانگتا ہے ۔ "تب طوبت نے رو رو کر دعا کرنی شروع کی۔۔۔”(طوبیاہ ۳:۱)۔ دعا ہمیں خُداسے ملاتی ہے نہ کہ ہمیں لالچ کرنا سکھاتی کہ ہم دعا کے دوران جو کچھ دل میں آئے خُدا سے مانگ لیںاورضروریات کی لمبی لمبی فہرستیں اس کے سامنے رکھ دیں۔ خُدا پر ہمارا ایمان مضبوط ہونا چاہئے جو شفیق اور رحیم باپ ہے اور ہمارے مانگنے سے پہلے ہی ہماری ضرورتوں کو جانتا ہے اور اپنے فضل سے عطا کرتا ہے (متی ۶:۸)۔ ” کیونکہ وہ اپنے پیاروں پر سوتے وقت بھی عنایت فرما ہے”(مزمور ۱۲۷: ۲)۔
دعا کی اہمیت کو اُجاگر کرنے کیلئے چند مقدسین ،فلاسفرز، مفکرین اور لیڈرز کے اقوال پیش نذر ہیں۔
٭ اگر دعا کرنا سیکھنا ہے، تو دعا کرو۔ (مڈر ٹریضہ آف کلکتہ )
٭ دعا دو دوستوں کے درمیان باہمی گفتگو کے علاوہ کچھ نہیں۔ (مقدسہ ٹریضہ آف اویلا)
٭ خُداکے حضور کسی کے ذہن اور دل کو اُجاگر یا خُدا سے اچھی چیزوں کی درخواست کرنا دعا ہے۔ (مقدس جان دماسیسن)
٭ دعا دل کا چہرہ یا آئینہ ہے اور جنت کی طرف متوجہ کراتی ہے۔ (مقدسہ ٹریضہ)
٭ خُدا کی مرضی اور سوچ کا انکشاف کرنے کے علاوہ دعا کچھ نہیں۔ (جان سالت مارش)
٭ دعا مذہب کا مرکزی مظہر ہے۔ (ایف۔ ہیلر)
٭ ایمان اور دعا دونوں پوشیدہ ہیں ۔ لیکن وہ نا ممکن چیزوں کو ممکن بنا دیتیں ہیں۔ (گوتم بدھا)
٭ دعا صرف مانگنا ہی نہیں بلکہ یہ روح کی آرزو بھی ہے۔ ( مہاتما گاندھی)
٭ دعا ئیں کروائی نہیں جا تی ، دعائیں لی جاتی ہیں۔
٭ دو چیزیں ہیں جن کو دینے سے کسی کا کچھ نہیں جاتا: دعا اور مسکراہٹ۔
حرف ِآخر:
دعا خُدا کے ساتھ ہمارے بندھن کو قائم اورمضبوط بناتی ہے اور اس کے ساتھ ہمکلام ہو نے کا فراہم کرتی ہے۔ آج جب پوری دنیا پریشانی کے عالم میں ہے اور کرونا کے با عث تمام گرجا ، مساجد اور عباد ت گاہیں بند ہو چکی تھی تو لوگ گھروں میں دعا کے ذریعہ خُدا سے بخشش مانگتے اور بہت سی عبادات آن لائن ہونے لگ پڑی تھیں۔ خُدا ہمیشہ اپنے بندوں پر مہربان ہوتا ہے اورجو نیک ، راست اور صاف دل ہوتے خُدا ان پر اپنا آپ ظاہر کرتا ہے اورخود ان سے ہمکلام ہوتا ہے ۔ بائبل مقدس ایک اہم ذریعہ جس سے ہمکلام ہو سکتے ہیں۔ شروع سے خُدا اپنے نبیوں، پیغمروں سے ابراہیم ، یعقوب ، موسیٰ اور ہارون سے ہمکلام ہوتا آیا ہے اور آج ہمیں بھی یہ موقع مل رہا کہ دعا کے ذریعہ خُدا کو چھو سکیں ، اس کا دیدار کر سکیںاور اس کے ساتھ ہمکلام ہو سکیں ۔ یہ سب اس کے پیا ر کو محسوس کر سکیں اور اس سے بر کات حاصل کر سکیں ۔ یہ سب اس وقت ممکن ہو گا جب ہم عاجزی ، انکساری ، حلیمی ، پورے سچے دل سے خُدا سے دعا مانگیں اور پورے یقین سے وعدہ کریں کہ اس کے احکام پر عمل کر ونگا ۔ ـ”تواگر میرے لوگ جن پر میرا نا م پکارا جاتا ہے ، فروتنی کریں اور دعا مانگیں۔۔۔تو میں آسمان پر سے سنوں گا۔۔۔”(۲۔اخبار ۷:۱۴)۔ یشوع بِن سراخ کی کتاب میں لکھا:”جو خُدا کی خوشنودی کے مطابق عبادت کرتا ہے وہ قبول کیا جائے گا اور اُس کی دعا بادلوں تک پہنچے گی۔ فروتنی کرنے والے کی دعا بادلوں سے گزر جائے گی۔ اور قرار نہ پکڑے گی جب تک کہ خُدا کے نزدیک نہ پہنچے اور اُس وقت تک نہ پلٹے گی جب تک حق تعالیٰ مہربانی نہ کرے۔۔۔”(سراخ ۳۵:۲۰-۲۱)۔ اگر دعا مانگتے وقت شک کیا جائے تو دعا بے اثر ہو جاتی ہے ۔ ایمان سے مانگی ہوئی دعا قبول ہوتی ہے (یعقوب ۴:۱- ۳) ۔ مقدس متی کے مطابق اِنجیل میں ہم پڑھتے ہیں کہ: ” اور جو کچھ تم ایمان کے ساتھ دعا میں مانگو گے وہ سب تمہیں ملے گا” (متی ۱۲:۲۲) ۔ بائبل کے عالم وسٹ کوٹ (Westcott)دعا کے متعلق لکھتے ہیں: ’سچی دعا، جو ضرور قبول ہوتی ہے ،وہ دعا ہے جس میں ہم شخصی طور پر خُدا کی مرضی کو جانتے اور اسے قبول کر لیتے ہیں۔‘

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں