مقدس الفانس مریادی لگوری :معلمِ کلیسیا

کرسٹوفر زاہد

صبح کی پاک ماس ادا کرنے کے بعد آپ نے خود کو بازووں والی کرسی پر لاپھینکا جیسے کہ وہ ایسا نہیں کرنا چاہتے ہوں ۔ وہ سجدے میں گئے اور جیسے کہیں کھو گئے۔ آپ نے کسی قسم کی کوئی حرکت نہ کی، نہ کوئی لفظ بولا نہ ہی کسی کچھ مانگا۔ وہ اسی حالت میں رہے سارا دن گزار گیا اور پھر رات بھی۔ آپ نے کچھ نہ کہا اور نہ کچھ کھایا یا پیا ۔ خادم جو آپ کو اس حالت میں اس مقام پر دیکھ رہے حیران تھے کہ ان کو کیا ہوا ہے؟ ملازم آپ کے کمرہ کے دروازے پر کھڑے تھے اور اندر جانا نہیں چاہتے تھے ۔ یہ سلسلہ 21 ستمبر 1774 خ س کو شروع ہوا اور اب 22 ستمبر ہوچلی تھی ۔ آپ کا رویہ جوں کا توں تھا گھر والے نہیں جانتے تھے کہ اب کیا کرنا ہے ۔ حقیقت یہ تھی کہ وہ ایک طویل وجد کی حالت تھے۔ بعد میں صبح کی پاک ماس کی گھنٹی بجائی گئی ۔ گھنٹی کے بجائے جانے پر صرف بردار ‘رومیٹو’ ہی نہیں آیا جو معمول کے مطابق آتا تھا ۔ اس کے علاوہ گھر کا ہر فرد بشپ کے کمرہ کی جانب بھاگا۔ بہت سارے لوگوں کو دیکھ کر مقدس جو بے سود پڑے تھے حیرت زدہ لہجے میں بولے ” کیا ہوا ، کیا معاملہ ہے ؟” انہوں نے جواب دیا ” یہ دوسرا دن ہے کہ آپ نے کچھ نہ کھایا ، نہ کچھ کہا اور نہ ہی زندگی کی کوئی علامت ظاہر کی ۔ ” “تم ٹھیک کہتے ہو”؟ مقدس نے جواب دیا ۔ لیکن آپ نہیں جانتے کہ میں پاپائے اعظم کی مدد کر رہا تھاجن کی موت ابھی ابھی ہوئی ہے۔ اس کے فوراً بعد یہ معلوم ہوا کہ پاپائے اعظم کلیمنٹ چودہویں 22 ستمبر صبح 7 بجے خُداوند میں سو گئے ۔ بالکل اُسی وقت مقدس کا وجد بھی اختتام کو پہنچا تھا ۔ آپ کے ساتھی خُدا کے بندے فادر ‘انتھونو –تونویا’ نے امر کے گواہ ہیں اور پاپائے اعظم کلیمنٹ چودہویں کے حیات مبارکہ میں بھی اس واقعہ کا تذکرہ پایا جاتا ہے ۔ آپ بھی ضرور اس عظیم مقد س کا نام جاننا چاہتے ہوں گے تو یہ ہمارے معلم کلیسیاؔ ، مصنف ، موسیقار ، شاعر ، عالم ِ دین ، ماہر الہٰیات و فلسفہ ، اعتراف سننے کے لئے مشہور ، ماہر علمِ اخلاقیات ، بشپ اور دی ریمیسٹورسٹ کے بانی ” مقدس الفانس مریادی لگوری ” ہیں ۔ خُدا نے آپ ایک ہی وقت میں دو مختلف جگہوں پر ہونے کافضل عطا کیا تھا اور درج بالا واقعہ میں پائے جانے والی شخصیت مقدس الفانس ہی ہیں ۔ ایک وقت میں ایک سے زیادہ مقامات پر خُدا کی نعمت ہے ، اس کو انگریزی میں ‘بائی-لوکیشن’ کہتے ہیں ۔ مقدس الفانس کی اس نعمت کی متعدد مواقع پر قابل اعتماد گواہان نے اس حقیقت کی تصدیق کی کہ وہ ایک ہی وقت میں دو مختلف مقامات پر دیکھے گئے ۔ ایک بار دیکھا گیا کہ وہ منبر پر وعظ کررہے ہین تو ساتھ ہی اُسی وقت اور اعتراف گاہ میں اعتراف سنتے پائے گئے ۔ ایک وقت جب وہ ‘نیپلز’ کی یونیورسٹی میں طالبات کو لیکچر دے رہے تھے تو ‘پاگینا’ (موڈینا) کے مقام پر ایک عورت نے آواز دی کہ مقدس الفانس کو بلادیں ( وہ اس خاتون کو کچھ رقم دیا کرتے تھے ) دروازے پر موجود برادر نے خاتون یہ کہہ کر رخصت کردیا کہ مقدس دوسرے شہر میں ہے ۔ اچانک مقدس الفانس حاضر ہوئے اور اسے معمول کی رقم دے دی ۔ آئیں اس عظیم مقدس کی زندگی کے متعلق مزید جانتے ہیں ۔

ابتدائی زندگی
آپ 27 ستمبر 1696 خ س کو اٹلی کی شہر نیپلز میں ماریہ نیلی کے علاقے میں پیدا ہوئے ۔ آپ سات بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے ۔ آپ کے والد کا نام جوزف اور والدہ کا نام ‘اینا ماریہ ‘ تھا ۔ پیدائش کے دو روز بعد آپ کو مقدسہ مریم کنواری کے گرجا گھر میں بپتمسہ دیا گیا اور آپ کا نام Alphonsus Mary Anthony John Cosmas Damian Micheal Gaspard de Liguri تھا ۔ لگوری خاندان اعلیٰ گھرانہ تھا تاہم جس سے ان خاندان کی شاخ سے آپ کا تعلق تھا وہ کچھ غریب ہوچکا تھا وہ کچھ غریب ہوچکا تھا ، مگر یہ حقیقی مذہبی گھرانہ تھا جس کا ثبوت یہ ہے کہ ان کے چار بھائیوں میں سے تین کاہن بنے اور تین بہنوں میں دو نے راہبانہ زندگی اختیار کی ۔ آپ نے گھوڑ سواری اور نشانہ بازی سکھ لی تھی تاہم نظر کی کمزوری کے باعث آپ کبھی اچھا نشانہ نہ لگاسکے ۔ نظر کی کمزوری اور دائمی دمہ نے آپ کو فوج میں بھی جانے نہ دیا ۔ شروع ہی آپ کی تعلیم و تربیت کا زمہ ایک انتہائی نیک اور قابل کاہن کو سونپا گیا ۔ آپ کی تعلیمی لیاقت نہایت قابل احسن تھی ۔ صرف 16 برس کی عمر میں ہی آپ نے سماجی و کلیسیائی قوانین میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرلی ۔ عام طور طالب علم تقریبا 20 برس کی عمر یہ ڈگری حاصل کر پاتے ہیں ۔

تبدیلی
21 برس کی عمر میں آپ کی وکالت کا چرچا ہر خاص و عام پر زبان پر تھا ۔ آپ کے بارے میں یہ بات مشہور تھی کہ آپ کبھی بھی پاک ماس میں حصہ لئے بغیر عدالت نہیں جاتے تھے ۔ آپ کو نہ صرف موسیقی سے لگاو تھا بلکہ آپ خود مختلف سازوں سے بھی طبع آزمائی کرتے تھے۔ 1717 خ س میں آپ کے والد نے آپ کی شادی کرنا چاہی تاہم کامیابی نہ ملی ۔ آٹھ برس کی وکالت میں وہ ایک بھی کیس نہ ہارے تھے اور پھر آپ کیس ہار گئے ۔ کچھ یوں تھا کہ ایک بار ایک نہایت امیر آدمی کا مقدمہ آپ کو ملا۔ آپ نے اس کا بھرپور مطالعہ کیا اور آپ کو ہر طرح سے یقین تھا کہ آپ یہ کیس جیت لیں گے ۔ تاہم ایک معمولی سی وجہ کی بدولت آپ کیس ہار گئے اور یہی آپ کی زندگی کا ایک اہم موڑ تھا۔ اب دنیاوی چیزیں اور اُس کا علم آپ کے لئے کوئی مطلب نہیں رکھتا تھا ۔ آپ کو احساس ہوا کہ خُدا آپ کو کسی مخصوص کام کے لئے بلا رہا ہے ۔ آپ کے گھروالے آپ کی شادی کرنا چاہتے تھے مگر آپ نے اس سے انکار کردیا ۔ بزرگوں کا خیال تھا کہ ایک دو سالوں میں ان مذہبی جوش ختم ہوجائے گا ، اگرچہ وہ عظیم گنہگار نہیں تھا تاہم ان کو فیشن ، تھیڑ اور موسیقی سے لگاو تھا ۔ 1722 خ س نے روزوں کے ایام میں آپ نے ‘ ونسیٹرز( مقدس ونسیٹ کے جماعت کے اراکین ) کے ساتھ اعتکاف میں وقت بسرکیا ۔ 1723 خ س میں ذاتی پر عہد کیا کہ وہ شادی نہیں کریں گے ۔ یہ آواز ان کے اندر سے آئی تھی اور آپ نے بطور خُدا کی آواز سنائی دی ” دنیا کو چھوڑو اور اپنا آپ مجھے دے دو ” ۔ آپ مادرِ رحم کے گرجاگھر میں گئے ۔ اپنی تلوار الطار پر رکھی کہا اور کہ وہ مقدس فلپ نیری کی جماعت میں کاہن بننے کے لئے شامل ہونا چاہتے ہیں۔ تاہم اپنے والد جوزف کی جانب سے مخالف کا سامنا کرنا پڑا ، تاہم دو ماہ بعد اس شرط پر کہ وہ گھر رہ کر کہانت کی تعلیم حاصل کریں گے ، وہ مان گئے۔
کاہن
23 اکتوبر 1723 خ س میں آپ نے اپنے کارڈنیل صاحب سے کاہن بننے کی تربیت حاصل کرنا شروع کی اور 21 دسمبر 1726 خ س کو آپ کاہن بن گئے ۔ آپ کے دل میں مشنری بننے کا جذبہ موجود تھا ۔ آپ نے دو برس نیپلز کے مختلف علاقوں میں جاکر خُداوند کا پیغام سناتے رہے ۔ جلد ہی لوگوں نے دیکھ لیا کہ آپ نے پیغامات نہایت سادہ ، عام فہم ، پُراثر اور براہ راست لوگوں کی زندگی سے تعلق رکھتے تھے ۔

اعتراف سنتے
اعتراف کے ساکرامنٹ کے دوران بھی آپ لوگوں کے ساتھ نہایت شقفت کے ساتھ پیش آتے تھے ۔ شائد اسی وجہ سے آپ کےہم عصر آپ پر یہ الزام لگاتے تھے کہ آپ اعتراف کے لئے آنے والے لوگوں کے ساتھ حسد سے زیادہ نرمی برتتے ہیں ۔ آپ روحوں کو بچانا چاہتے تھے ۔ آپ نےسست اور بے روزگار لوگوں کے لئے بھی مذہبی تعلیم کا انتظام کیا اور وہ آپ تعلیم حاصل کرنے آتے تھے ۔ ایک بار آپ نے ایک ممبر کو روزہ میں ضرورت سے زیادہ جوش دکھانے پر اس کی اصلا ح کی ، ایک کاہن نے اضافہ کیا ” خُدا چاہتا ہے کہ ہم زندہ رہنے کے لئے کھائیں اگر آپ کو کھانا مل چکا ہے تو اُس کو کھائیں اور خُداوند کا شکریہ ادا کریں تو ایسا کرکے تم اچھا کرو گے “۔ یہ کہانی گردش کرنے لگی اور مخالفوں نے الفانس کو بدنام کرنے کے لئے اس کا سہارا لیا کچھ افراد کو گرفتار بھی کرلیا تھا جس کی وضاحت الفانس کر کرنی پڑی ۔ آرچ بشپ نے آپ کو طلب کیا اور محتاط رہنے اور غیر جانبدار رہنے کا کہا ، بعد میں یہ ‘ چیلیس کی ایسوسی ایشن’ میں تبدیل ہوگیا اور بیسوی صدی میں اس کے ہزاروں کارکن تھے جو روزانہ ملتے تھے اور دُعا کرتے تھے ۔ 1729 خ س آپ نے اپنا گھر چھوڑ دیا اور چین کے لئے مشنری تیار کرنے والے کالج میں رہنے لگے ۔ آپ غریب ترین لوگوں اور سڑک پر رہنے والے کا خیال رکھتے ۔ اُن کی مدد کرتے ۔

مستند لکھاری
آپ ایک مستند لکھاری تھے ۔ آپ نے دوریشانہ زندگی علمِ الہٰیات اور تورایخ پر بہت لکھا ۔ آپ کی اخلاقی علمِ الہٰیات پر 1748 خ س میں چھپنے والی کتاب اس مضمون ہونے والی پہلی مستند کتاب مانی جاتی ہے ، جس کے تراجم مختلف زبانوں میں ہوئے ۔ اپنی اسی قسم کی تحریروں سے آپ نہ صرف معلم ِ کلیسیاؔ بلکہ ماہرین علمِ اخلاقیات کے مربی قرار دئیے گئے ۔ 72 زبانوں میں ان کا ترجمہ ہوا ۔

بشپ الفانس
1762 خ س میں آپ بشپ مختلف کیا گیا تو آپ کی عمر 66 برس تھی ۔ اپنی عمر کو بہانا بناتے ہوئے آپ نے بشپ بننے سے انکار کرنا چاہا تاہم پاپائے اعظم کلمینٹ ترہویں نے ان کی ایک نہ سنی ۔ اب آپ نے اپنی ساری توجہ ڈایوسیس کے اندر پائی جانے والی برائیوں کو ختم کرنے اور کاہنوں کی تبدیلی و تجدید پر مرکوز گی ۔ آپ بڑے منفرد انداز سے اُن کاہنوں کی مدد کرتے تھے ، جوسراسر زنیادی زندگی میں دھنسے ہوتے تھے۔ ایک بار اپنی باتوں کی وجہ سے آُ نے ایک نوجوان کاہن کو اپنے ہاں بلوایا۔ جب کاہن نے آپ کے دفتر میں آنا چاہا تو دیکھا کہ دہلیز ایک بڑی صلیب رکھی ہوئی ہے ۔ اب اُس نے اندر سے ہچکچاہٹ محسوس کیا ۔ اس پر آپ نے بڑے دھیمے لہجے سے کہا ” آجاو، آجاو ، اندر آجاو۔ صلیب کو اپنے پاوں تلے روندتے ہوئے آجاو کیونکہ یہ کوئی پہلی بار نہیں کہ تم اپنے خُداوند کو اپنے تلے روندہ گے۔” آپ نے ان کاہنوں کا معطل کردیا تو پندرہ منٹ یا اس سے کم میں پاک ماس ختم دیتے تھے ۔ اور اُس وقت وہ کاہن پاک قربانی ادا نہیں کرسکتا جب تک وہ خود کو تبدیل نہ کرتا ۔ ” واقعی اس طرح پاک ماس ادا کرنا ایمان کو کھونے کے لئے کافی ہے ” کے موضوع پر آپ مضمون بھی لکھا ۔ دوسالوں سے مقدس الفانس طاعون اور قحط کی پیش گوئی کررہے تھے لیکن سے نے کچھ نہ کیا ۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ ہزاروں افراد بھوک سے مررہے ہیں ۔ آپ نے سب کچھ فروخت کردیا تاکہ بھوکے لوگوں کے لئے کھانا خریدیں اور امر کے لئے انہوں بہت کا قرض بھی لیا ۔ اسی اثنا میں لوگوں نے مئیر کو قتل کرنے کی کوشش کی کہ اُس نے کھانا چھپا رکھا ہے تو اپنے مئیر کے بدلے خود کو پیش کیا کہ مجھے قتل کردو اور پھر راشن دے کر آپ نے لوگوں کو پرسکون کیا ۔ آپ کو عوامی اخلاقیات کی بہت فکر اس میں آپ نے بہت سے دشمن بھی کمائے ۔ اکثر اعلیٰ عہدے داروں سے آپ کی زندگی کا خطرہ رہتا اور آپ کو عدالتوں میں کاروائی کے لئے لے جایا گیا۔ جون 1767 خ س میں آپ کو شدید بخار ہوا تو (گٹھیابخار ) مستقل رہنے والے بخار سے انہیں موت کا خدشہ ہوا تو انہوں نے بیماروں کی مالش کا ساکرامنٹ حاصل کیا اور اپنی آخرت رسومات کی تیاری شروع کردی ، لیکن بارہ ماہ آپ کی زندگی خطرے سے باہر آگئی ، لیکن ان کی گردن میں مستقل طور پر جھکاو آگیا جو تصاویر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے ۔ سرجن کوشش کے باوجود سیدھا کرنے میں ناکام رہے ۔ تھوڈی دباو کے باعث سہنے پر زخم آگیا تھا ۔ جس کے باعث وہ پاک ماس ادا نہیں کرپارہے تھے تاہم بعد میں تبدل کے وقت کرسی کا استعمال کرکے پاک ماس ادا کرنے لگے۔ 79 برس کی عمر میں آپ بے بشپ کے عہدہ سے استعفی دے دیا اور ایک الگ بھلگ جگہ قیام کرلیا۔ اس عرصہ کے دوران بھی آپ کو کافی روحانی اور جسمانی دکھ اُٹھانے پڑے ۔

دی ڈیمسٹورسٹ
1730 خ س میں آپ نے ” خُداوند یُسوع مسیح نجات دہندہ” کے نام سے خواتین کے لئے ایک مذہبی جماعت تشکیل دی ۔ اس کے دو سال کے بعد آپ نے اسی جماعت کا آغاز مرد و حضرات کے لئے کیا ۔ جس کے نام ‘دی ڈیمسٹورسٹ” ہے ۔ اپنی پاسبانی خدمت کے ساتھ آپ اپنی مذہبی جماعت کی سرپرستی بھی جاری رکھی ۔ یہاں تک کہ جب حکومتِ وقت نے 1777 خ س میں آپ کی جماعت کو کالعدم قرار دینا چاہا ، تو آپ نے علمِ قانون کا سہارا لیتے ہوئے ایسا موثر دفاع کیا کہ شہنشاہ نے اپنا واپس لے لیا ۔

وفات
31 جولائی اور یکم اگست کی درمیانی شب سال 1787 خ س 91 برس کی عمر میں آپ خُداوند میں سو گئے ۔ 15 ستمبر 1816 خ س کو پاپائے اعظم پائس ساتویں نے آپ کو مبارک قرار دیا جبکہ 26 مئی 1839 خ س پاپائے اعظم گریگوری سولہویں نے مقدس قرار دیا ۔ پاپائے اعظم پائس بارہویں نے ‘انسائیکل (پاپائی دستاویز) HARITIS AQUAS کے زریعے آپ کو اعتراف کا روں اور ماہرین علمِ اخلاقیات کا مربّی مقدس قرار دیا ۔ مقدس الفانس فرماتے ہیں ” جو خود پر بھروسہ رکھتا ہے ۔ وہ کھوجاتا ہے جو خُداوند پر بھروسہ رکھتا وہ سب کچھ کرسکتا ہے۔”

Samson

Read Previous

حیدری گوٹھ کے چرچ مریم مگدلینی کی عید

Read Next

اَرواح کا طبیب: مقدس جان میری ویانی

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے