’’خود اعتمادی کا فقدان ‘‘

0
73

(ایازمورس)

Self Doubtہماری ترقی کاسب سے بڑا دشمن ہے ۔یہ بظاہر اتنا خطرناک اور مہلک نہیں لگتا لیکن یہ پائوں میں لگے چھوٹے سے کانٹے اور ٹائر میں چھوٹے سے کیل کی وجہ سے ہونے والے سوراخ کی مانند ہے ،جو ایک دم نہیں لیکن آہستہ آہستہ ٹائر کو نقصان پہنچائے بغیر ٹیوب سے ہوا نکال دیتا ہے بلکہ ایسے ہی جیسے ہم رات کو اپنی گاڑی کھڑی کریں اور صبح جب کام پر جانے لگیں تو ٹائر میں ہوا کم ہوتی ہے ۔
سیلف ڈائوٹ ہماری صلاحیتوں،اعتماد اور یقین کو بڑی آسانی اور خاموشی کے ساتھ تباہ کردیتا ہے ۔بدقسمتی یہ بھی ہے کہ سیلف ڈائوٹ باہر سے نہیں بلکہ ہمارے اندر سے ہی ہمارے اندیشوں اور انجانے خوف کے باعث پیدا ہوتا ہے ۔جو ہمارے ماحول اور معاشرے کی دین ہوتا ہے ۔میں نے زندگی میں اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ صلاحیتوں،خوبیوں ،اسکلز اور مثبت رویے کے باوجود اپنے کیرئیر میں زیادہ آگے نہیں بڑھ پاتے ۔ خود اعتمادی کا فقدان ان کے پائوں کی سب سے بڑی زنجیر ہوتا ہے جو اپنی زندگی کا آغاز تو بڑے جوش وخروش اور گرم جوشی سے کرتے ہیں لیکن کچھ ہی عرصے بعد جب حالات کے طوفانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اپنی ذات پر بھروسہ نہ ہونے کی وجہ سے ہمت
ہا ردیتے ہیں اور حالات کے ہاتھوں بازی ہارجاتے ہیں ۔خود اعتمادی کافقدان ہمیں اکثر آگے بڑھنے سے روکنے والی سب سے طاقتور آواز ہوتی ہے ۔یہ آپ کی قدرتی صلاحیتوں کے بہترین اظہار کرنے سے آپ کو روکتی ہے ۔ کسی کا کیا خوب کہنا ہے کہ If you have 0% Doubt, you are outہم اپنی ذات کے متعلق بے شمار خدشات اور وہم کا شکارہوتے ہیں ۔اپنی ذات پر اعتماد کی کمی کی بے شمار مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں چند درجہ ذیل ہیں :
رب کی ذات پر یقین نہ ہو نا ۔
والدین کی جانب سے بہتر تعلیم وتربیت کا نہ ملنا۔
بہتراسکولنگ اور اساتذہ کا نہ ملنا۔
مثبت اور سازگارماحول کا میسر نہ ہو نا ۔
منفی لوگوں اور سوچوں میں زیادہ تر وقت گزار نا۔
دوسروں کے ساتھ موازنہ کرنا۔
اپنی صلاحیتوں کا ادراک نہ ہو نا۔
ناکامی اور کامیابی کا خوف۔
نئے چیلنجز کا سامنا کرنے کا خوف۔
جدید ریسرچ کے مطابق بے شمار ایسے ٹولز اور طریقے کار ہیں جن کی بدولت آپ خود اعتمادی کے فقدان پر قابو پا کر زندگی میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔
شک کی آواز کو روکیں:جب بھی آپ کے اندرسے ایسی آواز آئے کہ تم نہیں کرسکتے ۔اس آواز کو روکیں ۔
ماضی کی کھڑکی میں جھانکیں: جب بھی منفی سوچیں اور انجان خوف آپ پر حاوی ہونے لگے تو ماضی کے ان واقعات کی خوش گوار یادوں کو یاد کریں ۔میں آج بھی جب کسی مشکل وقت میں پریشان ہو تا ہوں تو اپنی میٹرک کی مارک شیٹ نکال کر دیکھتا ہوں اور خود کو یہ یاد دلاتا ہوں کہ اگر میں نے میٹرک کا مشکل ترین امتحان پاس کرلیا تھا تو یہ مشکل میرے لئے کچھ نہیں۔
دوسروں کی مدد حا صل کریں: اس ضمن میں کسی بھی انسان سے مدد لینے سے گھبرائیں نہیں ،دوسروں سے مدد لینے سے ہم دوسروں سے اپنے تعلقات مضبوط کرتے ہیں۔اپنی ذات کی پہچان :اپنی ذات کا SWOT تجزیہ کریں۔
دوسروں سے موازنے سے اجتناب:آپ کا ٹائم آئے گا دوسروں سے موازنہ ہماری مثبت توانائی کو برـی طرح متاثر کرتا ہے ۔بس اپنے حصے کا کام کرتے جائیں۔آپ کے وقت پر قدرت آپ کو ضرور صلہ عطا کر ے گی۔ولیم شیکسپیئر نے کیا خوب کہا ہے۔’’ہمارے خوف ہمارے غدار ہیں، اور ہمیں محروم کردیتے ہیں ، اُس اچھائی سے جو ہم جیت سکتے ہیں ۔
صرف کوشش نہ کرنے کے خوف سے ـ۔ـ‘‘



جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں