آم کے آم…….

کنیز منظور

2020 سے کرونا کی وجہ سے ماسک پہننا لباس کی طرح ضروری سا ہو گیا ہے، بندہ خوامخواہ منہ چھپائے پھرتا ہے، کیوں کہ یہ کرونا سے منہ اور ناک کی حفاظت جو کرتا ہے دھوئیں، گرد و غبار سے بچاتا ہے. لیکن حفاظت کے علاوہ بھی اس کے کئی فوائد ہیں مثلاً لپ اسٹک کا خرچہ کم ہو گیا ہے، ساتھ ہی اسے لگانے پہ صرف ہونے والا وقت بھی بچ جاتا ہے،کیوں کہ اب لپ اسٹک کے بغیر بھی باھر جایا جا سکتا ہے. خریداری کے وقت کوئی چیز پسند نہ آئے یا دکاندار پسند نہ آئے میرا مطلب ہے دکاندار کا رویہ پسند نہ آئے تو مزے سے جیسا چاہے برا منہ بنالیں کسی کو پتہ نہیں چلے گا. کسی کے ھاں آ پ مہمان ہیں تو میزبان کی کسی بری لگنے والی بات پہ بھی بلا تردد منہ بنا سکتے ہیں اس کے علاوہ ایک اور فائدہ کہ جب چاہیں کھل کی مسکرا بھی سکتے ہیں. پہلے پاکستان میں اس طرح مسکرانے کی آزادی کسی کو نہیں تھی. کیونکہ خاتون تو جتنا پکا منہ بنا کے رکھتی اسے اتنا ہی شریف سمجھا جاتا. کہ ایویں ای ہر کسی سے ہنس ہنس کے بات نہیں کرتی. کوئی بندہ چاہے خوش اخلاقی اور ادب کے چکر میں ہی مسکرا دیتا تو عموماً کچھ خاص اچھا نہیں سمجھا جاتا..لیکن اب آپ بے فکری سے جب چاہے جہاں چاہیں مسکرا سکتے ہیں. ہے نا آم کے آم گٹھلیوں کے دام.

Samson

Read Previous

راہبانہ زندگی کی گولڈن جُوبلی

Read Next

معذوری

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے