کائنات کی عظیم ترین کتاب

0
118
Bible on a wooden background

کرسٹوفر زاہد

کارڈنیل جوزف کارڈیرولکھتے ہیں، "کتابیں نہ صرف ساتھی ہوتی ہیں بلکہ یہ ہدایات کا منبع بھی ہوتی ہیں جو ذہنوں کو خوب سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔” یوں تو اس دنیا میں بے شمار کتب ہیں تاہم کائنات کی عظیم ترین کتاب صرف ایک ہے یعنی بائبل مقدس ۔ 1989 خ س پاکستان میں ہفتہ مسیحی تعلیم اور یومِ کلام مقدس منایا جاتا ہے ۔ تاریخِ کلیسیا اور تاریخِ انسانیت اس امر کی شاہد ہے کہ کلام مقدس کو ہر دور میں صفحہ ہستی سے مٹانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی اور ہنوز یہ عمل جاری ہے ، اس کے باوجود بھی بائبل مقدس دنیا میں سب سے چھپنے والی اور سب سے زیادہ پڑھنی جانے والی کتاب ہونے کے ساتھ ساتھ سب موثر ، پراثر اور طاقت وار کتاب ہے ۔ صرف یہ ایک کتاب مکمل ضابطہ حیات ہے جس دنیا کی 3223 زبانوں میں اس کے مختلف حصص کا ترجمہ ہوچکا ہے ۔
بائبل مقدس سے ناواقف ہونا مسیح سے ناواقف ہونا ہے : مقدس جیروم ، معلم کلیسیا نے کلام کی خوب خدمت کی آپ نے اپنا زیادہ تروقت عبرانی زبان کے کلام مقدس کا لاطینی زبان میں ترجمہ میں بسر کی ۔ آپ نے تقریبا 30 برس کے عرصے میں کلام مقدس کا لاطینی زبان میں ترجمہ مکمل کیا جس کو صرف عام زبان میں ویلگٹ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں ،” میں تمہیں (یوستوخیوم اور پاما خیوس ) کو جو کچھ مجھ پر واجب تھا واپس لوٹار ہا ہوں ۔ میں مسیح کے حکموں کو مانتا ہوں ، ہوں جو فرماتا ہے ” تم نوشتوں میں ڈھونڈو” (انجیل مقدس بمطابق مقدس یوحنا 5: 39) اور "ڈھونڈو تم پاو گے ” (انجیل مقدس بمطابق مقدس متی 7:7)۔ میں نہیں چاہتا تاکہ میں بھی یہودیوں کے ساتھ یہ سنوں کہ "تم نوشتوں اور خُدا کی قدرت کو نہ جانتے ہوئے غلطی پر ہو” (انجیل مقدس بمطابق مقدس متی 22: 29)۔ اگر پولوس رسول کے مطابق مسیح خُدا کی قدرت ہے اور خُدا کی دانش ہے تو پھر جو شخص کلامِ مقدس سے ناواقف ہے، وہ خُدا کی قدرت اور عقل سے ناواقف ہے ۔ کلامِ مقدس سے ناواقف ہونا مسیح سے ناواقف ہونا ہے ۔
کیا بائبل مقدس تبدیل ہوگئی ہے ؟ : اکثر و بیشتر یہ سوال کرے مسیحیوں اور خاص طور پر کاتھولک مسیحیوں کو گمراہ کرنے کی سعی کی جاتی ہے ، یہ نہایت قدیم سوال ہے شائد آپ کی سوچ سے بھی زیادہ قدیم اس کا جواب مشہور عمانوایل نینو اپنی کتاب اپنی کتاب ” ہمارا ایمان ہے” میں یوں دیتے ہیں "بائبل مقدس کے تبدیل کئے جانے کا سوال چھٹی صدی سے منظر عام پر آیا ہے، لیکن ہمارے پاس بائبل مقدس کے نسخہ جات اس سے بھی پرانے ہیں جو اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ آ ج کی بائبل مقدس اُن نسخوں کو دیکھنا چاہے تو وہ گریٹ رسل اسٹریٹ پر لندن میں واقع برٹش میوزیم جاکر دیکھ سکتا ہے ، جہاں بائبل مقدس کے دو قدیم یونانی نسخے عوام کے لئے رکھے گئے ہیں ۔ عوام سارا سال ان کا دیدار کرسکتے ہیں ۔ ان میں ایک کو ڈیکس اسکند روی اور دوسرا کوڈیکس سہنائی کہلاتا ہے ۔ برٹش میوزیم میں بائبل مقدس کے قدیم نسخہ جات موجود ہیں جو تاریخی طور پر بائبل مقدس کے لاتبدیل ہونے کی گواہی دیتے ہیں ۔”

بائبل ہم تک کیسے پہنچی ؟: بائبل گیارہ سو برسوں کے دوران قلمبند ہوئی دیگر مقامات پر یہ عرصہ 1600 برس بھی ہے ۔ یہ کاتھولک کلیسیا ہی ہے جس نے بائبل مقدس کی حدبند ی کی ۔ نئے عہد نامہ میں موجود کتب کو منتخب کیا اور کلامِ خُدا کو غلطیوں سےپاک رکھا ، جب پوری بائبل کو ہاتھ سے نقل کرنا پڑتا تھا تو یہ بڑا طویل مشکل عمل تھا ، لیکن کاتھولک راہبان نے یہ عظیم کام کیا۔ آج جب بحیرہ مردار کے طوماروں کاجدید بائبلی تراجم سے موازنہ کیاجاتا تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ہاتھ سے تحریر کی ہوئی ، نقول ہو بہو یکساں ہیں ۔ خانقاہوں میں بائبل مقدس کی نقول راہبان اپنے ہاتھوں سے کرتے تھے ۔ راہبان کے ہاتھوں سے رقم بائبل مقدس کی یہ نقول کاہنوں اور عالموں کے استعمال کے لئے خانقاہوں ، راہب خانوں، کیتھڈریوں اور جامعات میں رکھی جاتی تھیں ۔ ان پر بے پناہ اخراجات آتے اور ان کی قیمت اتنی زیادہ ہوتی کہ عام مومن کے لئے بائبل مقدس کو حصول ناممکن تھا ۔ اس وقت یہ الزام لگایا گیا کہ کاتھولک نے بائبل مقدس کا حصول ناممکن تھا ۔ اس وقت یہ الزام لگایا گیا کہ کاتھولک نے بائبل مقدس کو پابند سلاسل کردیا ہے ۔ یہ حقیقت ہے کئی جگہوں پر بائبل مقدس کو چوروں سے بچانے کے لئے ایسا کیا تاہم اس کا مقصد یہ ہرگز نہ تھا کہ لوگ اس کے مطالعہ سے محروم ہوجائیں تاہم یہ سب کچھ 1440 خ س میں اُس وقت تبدیل ہوگیا جب گٹن برگ نے چھاپہ خانہ ایجاد گیا اور بڑی تعداد میں چائبل چھاپی گئیں۔ "دلیل کاتھولک ایمان” کے منصف ابرٹ جے نیونیز لکھتے ہیں ” پرانا عہدنامہ جس شکل میں ہمارے پاس موجود ہے ۔ اس کی ترتیب و تنظیم کی کہانی بڑی پیچیدہ ہے ۔ اس کے قانون (الہامی کتابوں کی فہرست ) کی تشکیل میں صدیاں لگیں ۔ ترہویں سے گیارہوں صدی قبل از مسیح کے دوران یہودیوں نے خصوصی طور پر اپنی روایات کو اکٹھا کیا جنہیں وہ حضرت موسی سے منسوب کرتے تھے ۔اِس عرصہ میں یہودی شریعت اور ابتدائی شاعری کو بھی اکٹھا کرلیا گیا ۔ دسویں صدی قبل از مسیح میں ان روایتوں کو تحریر کرلیا گیا ۔ حضرت داود کے بارے میں کہا نیوں کو جمع کیاگیا اور ہیکل کی عبادت میں مزامیر استعمال کئے جانے لگے ۔ پانچویں صدی قبل از مسیح میں اسفار خمسہ (شریعت) کی کتابیں حتمی شکل پاسکیں ۔ اسفارخمسہ میں پرانے عہد نامے کی پہلی پانچ کتابیں شامل ہیں ۔ ان سالوں کے دوران کئی اور تحریر یں بھی اکٹھی کی گئیں۔ بارہویں صدی قبل از مسیح میں اُن روایتوں کی قلمبند کیا گیا جن کی تحت قضات اور سیموئیل اور دوسری صدی میں استیر اور دانیال کی کتانیں لکھی گئیں تاہم پرانے عہد نامہ کا یہودی قانون(پرانے عہد نامہ کی کتابوں کی فہرست )مسیحی دور کے شروع ہونے تک پایہ تکمیل کو نہ پہنچا ۔
200 قبل از مسیح میں یہودی بائبل مقدس کا یونانی زبان میں ترجمہ کرنے کا آغاز ہوا۔ اس کام کو مصر کے اسکندریہ میں ربیوں اور علما نے مکمل کیا جسے سپواجنیٹ یا ہقاری ترجمہ (یونایی میں سپواجنیٹ ستر کے عدد کے لئے استعمال ہوتا ہے) کہتے ہیں ۔ یہ وہ نام ہے جس کی وجہ سے اس پر اسرار حرف سمجھا جاتا ہے "کیونکہ یہ ستر دنوں میں ستر علما نے پایہ تکمیل تک پہنچایا تھا ۔” اس مجموعہ ترجمہ کو اسکندری قانون کہا جاتا ہے ۔ یہی ترجمہ یونانی ، یہودیوں ، مقدس پولوس اور رسولی کلیسیا میں کئی شخصیات نے استعمال کیا ۔دررِ حاضر ہ میں محقیقین کے نزدیک یہ بڑا اہم ترجمہ ہے کیونکہ اس ترجمہ کے اصلی متن کئی عرصہ تک گم رہے ۔ مسیحی بائبل مقدس کو ترتیب دینے میں کاتھولک کلیسیا نے یہی متن استعمال کیا۔ مشرقی کلیسیا آج بھی اسے استعمال کرتی ہے ۔ مقدس جیروم نے ترجمہ عام (مستند لاطینی ترجمہ ) کے لئے عبرانی اور اُن ارامی متنوں سے استفارہ کیا جو یہودیوں کے درمیان اس وقت محفوظ تھے کاتھولک بائبل جب حتمی طور پر مکمل ہوگئی ، تو اس نے پرانے عہدنامہ کی چھیالیس کتابوں کو مستند مان کر تسلیم کرلیا ۔ الہامی کتابوں کی یہی فہرست ابتدائی کلیسیا کی متعدد کونسلوں میں تسلیم کی گئی اور بالا آخر ٹرنیٹ کی کونسل میں ایمان کا معیار قرار دے دی گئی ۔ یُسوع کی موت کے بعد زبانی روایت کے زریعے یُسوع کی زندگی اور بشارت کے بارے میں مسیحیوں نے جان کا زی حاصل کی ، جوں جوں یُسوع کی زمینی زندگی سے فاصلہ طویل ہوگیا تو یہ ضروری سمجھا گیا کہ ان زبانی روایات کو قلمبند کرکے محفوظ کیا جائے تاکہ نووار مسیحی جو یُسوع کو نہیں جانتے ،اُن کے ایمان کو مستحکم کیا جائے اور یُسوع کے پیغام کو آنے والی نسلوں تک پہنچایا جاسکے ۔ علما کی رائے میں مقدس مرقس کی انجیل سب سے پہلے 65 خ س میں (گو کہ کچھ کے مطابق یہ اس سے بھی پہلے ) تحریر ہوئی ، پھر مقدس متی اور مقدس لوقا کی اناجیل قریبا 65 خ س میں اور 95 خ س کی مقدس یوحنا کی انجیل لکھی گئی ۔ ان اناجیل کے علاوہ مقدس پولوس اور دیگر رسولوں کے خطوط بھی موجود ہیں جن میں کلیسیا کی تعلیمات پائی جاتی ہیں ۔ مقدس لوقا نے کلیسیا کی ابتدائی تاریخ بھی سپرد قلم کی ہے جسے ہم رسولوں کے اعمال سے منسوب کرتے ہیں ۔ یہ سارا مواد کلیسیا کے پرانے اراکین کی ہدایت و راہنمائی اور نئے ممبران کو کلیسیا میں شامل کرنے کے لئے مشتر کیا جاتاتھا ، جب کلیسیا رسولی دور سے آبائے کلیسیا کے دور میں داخل ہوئی تو آبائے کلیسیا نے تعلیم اور مسیحی نظم و ضبط کو قائم کرنے کے لئے اور اس مواد سے حوالے دینا شروع کئے اور اس مواد کو مقدس قرار دیا ۔ مقد س پولی کارپ (65- 155 خ س) جو مقدس یوحنا کا شاگرد تھا ، اس قسم کی اٹھارہ کتابوں کا ذکر کرتا ہے جو اس وقت الہامی تسلیم کی جاتی تھیں ۔ انطاکیہ کے مقدس اگنیشس (179 سالِ وفات) جس کے بارے میں مشہور ہے کہ اُسے مقدس پطرس نے بحیثیت بشپ مخصوص کیا تھا اپنے سات خطوط میں چوبیس ایسی کتابوں کا تذکرہ کرتا ہے جو ہنور موجود ہیں ۔ دوسری صدی کے لگ بھگ (200 بعد از مسیح ) چاروں تک اناجیل ، مقدس پولوس کے خطوط ، رسولوں کے اعمال ، مقدس پطرس کا پہلے خط اور مقدس یوحنا کا پہلے خط کو عمومی سطح پر قبولیت حاصل ہوچکی تھی ۔ چھوتھی صدی کے آخر میں لاطینی اور یونانی کلیسیا وں میں اُن ستایئس کتابوں پر مشتمل قانون قبول کرلیا گیا ، جواب بھی رائج ہے ۔ کاتھولک ایمانداروں کے لئے اس مسئلہ کی 1536 خ س میں ٹرینٹ مجلس عامہ میں نہایت سنجیدگی سے جز و ایمان کے طور پر تعریف کردی گئی ۔ ابتدائی کتابوں کی فہرست مقامی کلیسیائی مجلسوں میں منظوری کی گئی ، ہیپو کی مجلس ( 393 خ س ) اور کارتھیج کی تیسری مجلس (397 خ س ) نے جن الہامی کتابوں کی فہرست کی منظوری دی گئی جسے ٹرنیٹ کی مجلس نے قبول کیا تھا ۔ حتمی مہر جبکہ مارٹن لوتھر نے اپنے ترجمہ میں نئے عہد نامہ کی کتابوں کی ددجہ بند ی کردی ۔

اور اور زوایہ سے : پادری نوید ملک لکھتے ہیں "جب میں قرآن حکیم کا مطالعہ کرتا ہوں تو مجھے کوئی ایسی آیت نہیں ملتی جس میں یہ ہو کہ بائبل تبدیل ہوگئی یا منسوخ ہوگئی ہے بلکہ قرآن حکیم میں آیا ہے کہ ” اُس نے تجھ پر یہ کتاب حق پر مشتمل اتاری جو اُس کو اس سے پہلے تھی پورا کرنے والی ہے اور اُس نے لوگوں کو ہدایات دینے کے لئے اس سے پہلے تورات اور انجیل کو نازل کیا تھا اور اُس نے فیصلہ کن نشان نازل کیا ہے ” (آل عمران 4، 5)، "اور جو تجھ پر نازل کیا گیا یا جو تجھ سے پہلے نازل کیا گیا تھا اُس پر ایمان لاتے ہیں اور آیندہ ہونے والی پر یقین رکھتے ہیں ۔ یہ لوگ اس ہدایت پر ہیں جو اُس کے رب کی طرف سے ہے یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں ” (ابقرہ 4، 5)۔
"تم کہو کہ ہم اللہ پر اور جو کچھ ہماری طرف اتارا گیا ہے اور جو کچھ ابراہیم ، اسماعیل اور اضحاق اور یعقوب کی اولاد پر اتارا گیا تھا اور جو کچھ موسی اور عیسی کو دیا گیا تھا اور جو کچھ باقی انبیا کو اُن کے رب کی طرف سے دیا گیا تھا ایمان رکھتے ہیں اور ہم ان میں سے ایک کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اس کے فرمانبردار ہیں ” (بقرہ 136)۔
"حالانکہ اس سے پہلے موسی کی کتاب گزر چکی ہے جو رہنمائی کرنے والی تھی اور رحمت بھی تھی اور یہ ایک ایسی کتاب ہے جو اپنے سے پہلے کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اورعربی زبان میں ہے ” (الاحقاف 13، 31)۔ "اہل کتاب کے ساتھ کبھی بحث نہ کرو۔۔۔کہو کہ جو تم پر نازل ہوا ہم اس پر ایمان لاتے ہیں ” (الضبکوت 47)۔

حرف آخر : خُدا لاتبدیل اور اُس کا کلام بھی لاتبدیل ہے۔ خُدا اور اُس کے کلام کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے دھیان رکھیں ۔ آپ کو اس کا حساب بھی دینا ہوگا ، بقول مائیکل کنبی بائبل جو پروٹسنٹ استعمال کرتے ہیں اور جس سے کاتھولک کو الگ کرنے کی سعی کرتے ہیں وہ انہیں کاتھولک کلیسیا نے ہی نے دی ہے ۔” مقدس جیروم کے ان الفاظ سے کالم کا اختتام کروں گا کہ”خُدا کے کلام کو رد کرنا دراصل خُدا کو رد کرنا ہے۔”



جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں