یوحنا بن زکریا

0
84

کرسٹوفر زاہد

کیا آپ جانتے ہیں کاتھولک کلیسیاؔ اپنے لطوریائی سال میں کتنی شخصیات کا جنم دن مناتی ہے ؟ جی صرف تین شخصیات ایسی ہیں جن کا لطوریائی سال میں جنم دن مناتے ہیں ۔ اول، ہمارے خُداوند یُسوع مسیح (25 دسمبر )، دوئم ، مادرِ خُدا مقدسہ مریم (8ستمبر ) اور سوئم، مسیح کے پیشرو یوحنا اصطباغی (24 جون )۔ عمومی طور پر کاتھولک کلیسیا تمام مقدسین اور اہم مذہبی شخصیات کا یوم یادگار اُن کے یوم وفات کے دن مناتی ہے مگر مقدس یوحنا اصطباغی وہ عظیم اور قومی مقدس ہیں جن کا ہم یومِ شہادت ہم 29 اگست کو مناتے ہیں تاہم ان کا جنم دن 24 جون کو بھی بڑی عید کے طور پر مناتی ہے۔ 24 جون کو ہم ان کا جنم دن مناتے ہیں تو آئیں ان کی زندگی پر غور کرتے ہیں ۔
زکریا: یوحنا اصطباغی کے والد کا نام زکریا تھا ۔ وہ لاوی کے قبیلہ سے تعلق تھا اور ابی یاہ کے فریق سے کاہن تھے ۔ یہ ہارون کا خاندان میں سے تھے ، خُداوند خُدا نے ہارون کے خاندان کو برکت دی کہ اس خاندان میں سے ہر نربے عیب بچہ کہانت کے عہدہ تک پہنچا ۔ دادو بادشاہ نے نبی ہارون کے 24 فریق مقرر کئے اور یوں آٹھویں نمبر پر ابی یاہ کا نام آتا ہے (1۔ اخبار 24: 10)۔ خیمہ اجتماع اور ہیکل میں کاہن اعظم کی خدمت کے بعد مقدس میں بخور جلانے کی خدمت بہت اہم تھی ، کسی کاہن کے لئے یہ بڑے اعزاز کی بات ہوتی تھی کہ اس کا نام کا قرعہ نکلے اور یہ مواقع تو ایک کاہن کی زندگی میں چند ہی بارآتا تھا ۔
الیصابات : یوحنا اصطباغی کی والدہ کا نام الیصابات تھا ۔ الیصابات کا عبرانی ترجمہ "خُدا کی عبادت کرنے والی ” ہے۔ آپ کا تعلق ہارون کا کاہنانہ قبیلے سے تھا ۔ آپ اپنے شوہر کی راست باز بیوی تھیں۔
معجزانہ ولادت: آپ کے والدین خُدا کے حضور راست باز اور خُداوند کے احکام و قوانین پر چلنے ہوئے ، آپ کی پیدائش اُس وقت ہوئی جب آپ کے والدین پسن یاس کی وجہ سے تقریبا مایوس ہوچکے تھے ، پھر بھی خُداوند نے اپنے نام کے جلال کے لئے خاص طور پر آپ کو سلسلہِ نجات کی تکمیل کی خوشخبری کے لئے دنیا میں بھیجا ۔ جب زکریا خُداوند کی ہیکل میں جاکر لوبان جلا رہے تھے تو جبرائیل فرشتہ قربان گاہ کی دہنی طرف کھڑا دکھائی دیا اور بیٹے کی خوشخبری دی ۔ زکریا چونکہ بوڑھا تھا اور اُس کی بیوی نانجھ تھی ، اس لئے اُس نے فرشتے کی بات کا یقین نہ کیا اور اپنی اس کم ایمانی کے باعث وہ گونگا ہوگیا اور جب آٹھویں دن بچہ کا نام رکھنے کی بات ہوئی تو الیصابات اُس کا نام یوحنا رکھنا چاہتی تھی ، تاہم رشتے دار نہ مانے تو زکریا سے پوچھا گیا جو ابھی گونگا تھا کہ اُس کا نام کیا رکھنا چاہتا ہے ۔ اُس نے تختی منگوائی اور لکھا "اُس کا نام یوحنا ” ہے اور اُسی دم اُس کا منہ اور زبان کھل گئی اور وہ بولنے اور خُدا کی حمد کرنے لگا (انجیل مقدس بمطابق مقدس لوقا 1: 5-79)۔ الیصابات یہودیہ کے ایک پہاڑی علاقے میں رہتی تھی ۔ بڑھاپے میں بھی اولاد کی شدید خواہش تھی ۔ تمام عمر دُعا اور خُدا کی بندگی میں بسر کی تاہم اولاد نہ ملی پھر زکریا کو ہیکل میں جبرائیل فرشتہ نے بڑھاپے میں بیٹے کی خوشخبری دی اور جب مقدسہ مریم اور الیصابات کی ملاقات ہوئی تو الیصابات اور یوحنا دونوں نے متجسد کلمہ کو اپنے درمیان پاکر خوشی کا اظہار کیا ۔
یوحنا کی جائے والات: کلام مقدس میں مقدس اصطباغی کی جائے والات کا واضح بیان موجود نہیں ہے ۔ تاریخ بیان کرتی ہے کہ کاہنوں کی رہائش گاہ عموما یروشلیم یا مصافاتی آبادی جو یروشلیم سے قریبی گاوں میں ہوتی جہاں وہ اپنی باری پر آسانی سے صبح و شام ہیکل میں آجاسکتے اور فرائض کہانت ادا کرتے ۔ فادر آرتھر چارلس لازوال شخصیات میں لکھتے ہیں ، "آپ کی پیدائش یروشلیم کے قریب عینکرم کے گاوں میں ہوئی ۔”
خوراک ، لباس اور رہائش: یوحنا بہت بڑا اور عظیم نبی تھا ۔ آپ کی زندگی نہایت ہی سادہ اور درویشانہ تھی ۔ خوراک : کلام مقدس بتاتا ہے ، اُن کی خوراک ٹڈیاں اور جنگلی شہد تھی (انجیل مقدس بمطابق مقدس متی 3: 4)۔ لباس : یوحنا کا لباس اونٹ کے بالوں کا لباس پہننا اور چمڑے کا کمر بند اپنی کمرہ میں باندھتا تھا (انجیل مقدس بمطابق مقدس متی 3: 4)۔ رہائش: آپ کی رہائش غاروں اور ویرانوں میں تھی ۔
یوحنا اصطباغی کا دھرتی پر مشن : یوحنا کو خُدا نے ایک نہایت عظیم اور خاص مشن کے ساتھ زمین پر بھیجا ۔ ان کے مشن کا مفصل بیان دومنیکن فرائر فادر یونس شہزاد (لکھاری ، محقق ، مقرر اور شاعر )اپنی کتاب ‘کرسمس اور بشارت’ میں یوں رقم طراز کرتےہیں: "یوحنا اصطباغی کے مشن کا احاطہ ایک لفظ میں کیا جاسکتا ہے جوکہ پیشر و یا تیاری کروانے والا ہے ۔ مسیحا کی آمد کے لئے لوگوں کو تیار کرنا ، اُس کا فراخدانہ عمل تھا ۔ جبرائیل فرشتے نے زکریا کو بشارت دی تھی کہ اُس کا بیٹا بہتروں کو خُداوند کی طرف راغب کروانے کے لئے ایک آلہ کار ثابت ہوگا ۔ زکریا نے خود پیشگوئی کی تھی کہ یوحنا حق تعالیٰ کا نبی کہلائے گا ، وہ نور کی شہادت اور گواہی دینے کے لئے آیا ۔
یوحنا اصطباغی کی تعلیم اور تبلیغ تین نکات پر مشتمل تھی ،
1۔ یُسوع سے متعلق پیغام
2۔ خُدا کی بادشاہی پر زور
3۔ روزِ محشر کا انتباہ
یوحنا اصطباغی کی شخصیت ایک ایسے کردار پر مبنی ہے جو تھوڑے عرصہ کے لئے نمودار ہوا لیکن اپنے پیچھے ایک تاریخ چھوڑ گیا ۔ یوحنا اصطباغی صاف گو اور سچائی پسند تھا اور یہی بات اس کی شہادت کا باعث بنی، جب یوحنا سے پوچھا جاتا ہے کہ تو کون ہے تو وہ اقرار کرتا ہے کہ "میں نور نہیں ہوں ، میں مسیح نہیں ہوں اور میں الیاس نہیں ہوں،” بلکہ میں نور کی گواہی دینے آیا ہوں۔ یوحنا اصطباغی کو حق اور سچ پر ڈٹے رہنے والوں کا مربی کہا جاتا ہے ۔ اُس کی شخصیت بڑی پرکشش اور حیران کن ہے ۔ اُس کی سادگی اور حلیمی سب کے لئے اعلیٰ مثال ہے ۔ یوحنا اصطباغی جوکہ یُسوع کا پیشرو ہے وہ زکریا اور الیصابات کے راست باز اور دُعاگو ہونے کا نتیجہ ہے ۔ یوحنا کی صاف گوئی اور سچائی زکریا اور الیصابات کی بہترین تربیت کا نتیجہ ہے ۔”
راہ تیار کرنے والا : قدیم وقتوں میں بادشاہ کی آمد سے قبل ایک شخص با آواز بادشاہ کی آمد کا اعلان کرتا تھا ۔ اشعیا نبی بھی یوحنا کے اس کردار کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے کہ "دیکھ میں اپنا پیامبر تیرے آگے بھیجتا ہوں جو تیرے آگے تیری راہ تیار کرے گا ” (انجیل مقدس بمطابق مقدس مرقس 1: 2)، جب یوحنا سے اُس کے خود کے متعلق سوال کیا گیا تو اُس نے اشعیا نبی کے الفاظ دھرائے ، اُس نے کہا کہ جیسا اشعیا نبی نے کہا ہے میں ہوں ، پکارنے والے کی آواز بیابان میں خُداوند کی راہ کو سیدھا بناو (انجیل مقدس بمطابق مقدس یوحنا 1: 23)۔
عہد جدید کا الیاس : فریسیوں نے اُس سے سوال کیا تو اُس نے اقرار کیا کہ میں المسیح نہیں ہوں ، تب انہوں نے پھر پوچھا ، پھر کیا تو الیاس ہے ؟ تو اس کا جواب بھی اُس نے نفی میں دیا مگر ملاکی نبی اُس کے حق میں کہتا ہے کہ ” دیکھ اس سے پیشتر کہ خُداوند کا وہ یومِ عظیم و مہیب آئے میں الیاس نبی کو تمہارے پاس بھیجوں گا ” (ملاکی 3: 24: انجیل مقدس بمطابق 9: 11؛ انجیل مقدس بمطابق مقدس لوقا 1: 17)۔ ایک حلیم اور درویش صفت ہونے کے ناطے یوحنا اپنی بڑائی نہیں چاہتا تھا تاہم خُداوند یُسوع مسیح واضح طور پر کہا ” اور اگر تُم قبول کرنا چاہوں تو وہ الیا س جو آنے والا تھا یہی ہے ” (انجیل مقدس بمطابق مقدس متی 11: 14)۔
جلتا اور چمکتا چراغ: خُداوند یسوع مسیح ،یوحنا کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے گناہ کے اندھیروں میں انہیں چراغ کہتے ہیں "وہ جلتا اور چمکتا ہوا چراغ تھا ” (انجیل مقدس بمطابق مقدس یوحنا 5: 35)۔
عظیم رتبہ اور مرتبہ والا : خُداوند یُسوع مسیح ، یوحنا اصطباغی کا رتبہ بتانے کے لئے ان الفاظ کا چناو کرتے ہیں ” میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو عورتوں سے پیدا ہوئے ہیں اُن میں یوحنا اصطباغی سے بڑا کوئی ظاہر نہیں ہوا ” (انجیل مقدس بمطابق مقدس متی 11:11)۔
شہادت : یوحنا اصطباغی کی زمینی زندگی صرف 32 برس کی تھی ۔ آپ کی شہادت حق اور سچائی کی گواہی دیتی ہے ۔ حاکمِ وقت جسے ہمارے خُداوند نے لومڑی کہا اور جس نے انہیں پلاطوس کے پاس بھیجا تھا ، اُسی نے اپنے بھائی کی بیوی کا ناجائز طور پر اپنے پاس رکھا ہوا تھا ، چونکہ یہ بات غیر شرعی اور غیر اخلاقی تھی ، اس لئے یوحنا نے حاکمِ وقت کو منع کیا تو اس پر انہیں قید خانے میں ڈال دیا گیا ، لیکن ہیرودیاس کی بیوی ابھی بھی خوش نہ تھی ۔ وہ اپنی رسوائی کا اس سے بڑا انتقام لینا چاہتی تھی ۔ بادشاہ کی سالگرہ کے موقع پر جب ایک بڑی دعوت کا اہتمام کیاگیا تو "سلومی” نامی ہیرودیاس کے بیٹی نے خوب صورت رقص پیش کرکے سب کے دل جیت لئے۔ بادشاہ نے انعام دینے کا اعلان کیا اور منہ مانگی ، خواہش پوری کرنے کا اعلان کیا ۔ سلومی نے فورا اپنی ماں سے صلاح مشورہ کیا اور سب کے سامنے یوحنا کا سر مانگ لیا۔ پس سپاہیوں کو قید خانہ میں بھیجا گیا اور صرف ایک عورت کی خواہش کی تکمیل کے یوحنا کو سر قلم کرکے شہید کردیا گیا ۔
حرف آخر: یوحنا اصطباغی عظیم انسان تھا ، ایسا انسان جس نے ہمیشہ حق اور سچ کی خاطر آواز بلند کی اور حاکم وقت کے روبرو کھڑا ہوگیا مگر سچ سے ، پیچھے نہ ہٹا اور کمال جرات اور بہادری سے حق سچ کی گواہی دی وہ ہم سب مسیحیوں کے لئے جرات و بہادری اور سچائی کی اعلیٰ مثال ہیں کہ آج بھی مسیحیوں کو مسیحی ہونے کے ناطے بہت کسی مشکلات و مصائب کا سامنا ہے مگر فتح ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے۔
یوحنا نہایت حلیم انسان تھا ، اُن کی حلیمی اور عاجزی ان کے اعمال اور امور میں جھلتی ہے اور اسی کا درس وہ دیتے ہیں ۔ ان کے الفاظ سے اپنی کالم کو بند کروں "ضرور ہے کہ وہ بڑھے لیکن میں گھٹوں ” (انجیل مقدس بمطابق مقدس یوحنا 3: 30)۔



جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں