مسیحی نوجوان خُدا کا نوجوان چہرہ

0
121

برادر عمانوئیل فضل او۔پی (دومینکن ہاؤس سٹیڈیز کراچی)

عزیز قارئین۔!
پُرانے عہد نامہ میں نوجوانوں کے لئے ’’ بیچوریم یا بیچوروتھ‘‘ (Bechurim یا Bechuroth ) کا لفظ استعمال ہوا ہے جسے عبرانی ترجمہ میں ’’Near and Baat‘‘کہتے ہیں۔ جس کے لغوی معنی ایسے نوجوان لڑکے اور لڑکی سے ہیں جوبلوغت کے دورانیہ میں فیصلہ کرنے ۔ انتخاب کرنے اور دیگر صحت مند سرگرمیاں کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جبکہ اُردو لغت کے مطابق ایسا نو عمر جس کی جوانی کا آغاز ہوا ہو ۔ اور وہ بھرپور جوش و ولولے سے سرشار ہو۔جہاں کلیسیا ء شروع ہی سے ایمان فروز اور جوش بھرے مستقبل کو خوش آمدید کہتی اور نیز اُن کی مذہبی، اخلاقی اورتعلیمی تربیت پر خاص توجہ دیتی رہی ہے وہیں آج ساتھ ساتھ دعوت دیتی اور یادبھی دلاتی ہے کہ نوجوان کلیسیاء کے محض مستقبل ہی نہیں بلکہ حال بھی ہیں۔ وہ یسوع کی طرح اپنے ہمیشہ سے نوجوان ہونے کا ثبوت دیں تاکہ انجیلی قدریں فروغ پائیں۔ پوپ بینڈکٹ XVI نے 1985 نے بین الاقوامی نوجوانوں کی 25 سالہ سالگرہ کے موقع پر کہا کہ ’یوتھ خُدا کا نوجوان چہرہ ہیں ‘‘۔ اور اِن کے بغیر کلیسیاء نامکمل ہے۔ مسیحیت کے علاوہ دیگر مذاہب میں نوجوانوں کے حوالہ سے مختلف نظریات ہیں لیکن ایک مسیحی نوجوان اپنی فطرت اور اعمال میں دیگر عام نوجوانوں سے قدرِ مختلف ہے۔کیونکہ کہ اُس کی زندگی کا محور و مرکز خُداوند یسوع مسیح ہے۔ مسیحی نوجوان خُدا کا چہرہ اُس وقت ہی بن سکتے ہیں جب اُن کے کاموں میں انجیلی اقدار کا پھل اور نمونہ واضع ہو گا۔

نوجوان یسوع کی مانند ہمیشہ نوجوان
پوپ فرانسیس اپنے مراسلہ (Christus Vivit) میں فرماتے ہیں کہ یسوع ہمیشہ سے نوجوان ہے (Christ is Forever Young) ۔ جو ایمانداروں اور بالخصوص نوجوانوں کے لئے عملی نمونہ ہے۔ میں اِس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ کلیسیاء میں ہر بپتسمہ یافتہ اپنے بلاوئے کے تحت بشارت کے کام میں نوجوان ہے۔ ہر ایک میںخوبیوں کے لحاظ سے روح کے پھل فرق تو سکتے ہیں لیکن اِن کا جوہر منادی اور گواہی ہی ہے۔ ہر ایک میں خُدا کا زندہ و جاوید کلام جواں ہے۔ اِسی تناظر میں جب ہم کلیسیاء میں یوتھ گروہ کی بات کرتے ہیں تو پاک ماں کاتھولک کلیسیاء اپنے نوجوانوں پر فخر محسوس کرتی ہے جو کلیسیاء کی ایمانی اور روحانی سرگرمیوں میں ہمتہ تن گوش پیش پیش ہیں ۔ کلیسیاء میں ایسے متحرک نوجوانوں سے ملکر یوں گمان ہوتا ہے کہ مسیحت اپنے آسمانی سفر کی جانب رواں دواں ہے۔ آج اگر نوجوان نہ ہوتے تو شاید کلیسیاء مذہبی اور روحانی علم کے لحاظ سے بانجھ ہوتی۔کیونکہ آج بھی نوجوانوں کے خون میں ایمان کی لہر کا عمیق سمندر ہے جو نام ہے بنجر سے زرخیزی کا ، ارادے میں پہاڑ کا، بدتر میں ہوش کا، گمراہی میں راستے کا، غلامی میں آزادی کا اور سانسوں میں گرمی کا۔ اگر نوجوان ماند پڑھ جائیں تو کلیسیاء کے نوجوان جوانی ہی میں بیساکھیوں کا سہارا ڈھونڈئیں گے۔ تاہم کلیسیاء کو یہ فضل حاصل رہا ہے کہ خُدا نے ہمیشہ نوجوانوں کو اپنے مشن کے لئے بلایا ہے۔جس کی چند مثالیں پرانے اور نئے عہد نامہ سے ہمیں ملتی ہیں ۔ خُدا نے جوانی میں موسیٰ، اسحاق، دانیال، یوسف، داؤد، جوشع، اشعیاء، سموئیل ، راعوت ۔ شاگردوں ۔ مقدس متی ۔ مقدس لوقا ۔ مقدس پولوس اور تیموتاؤس کو بلایا۔ وغیرہ وغیرہ ۔نوجوان پاک ماں کیتھولک کلیسیاء کے وہ عظیم سرمایہ ء حیات ہیں جن کی پروازیوسفِ کعنان جیسی ہے۔ جو چشمِ بینا کی معراج ، پست حوصلوں کی اُڑان اور ایمان کے تحفظ کا شاہکار ہیں۔جن کے وسیلہ سے آج بھی کلیسیاء کا سفر جاری و ساری ہے۔

نوجوان کوئی عجائب گھر یا کمرہ گاہ نہیں بلکہ دانشمند اور تند ارجمند ہیں ۔
پوپ فرانسس اپنے مراسلہ میں فرماتے ہیں کہ ’’نوجوان کوئی عجائب گھر یا پھر سٹور کمرہ نہیں‘‘ بلکہ وہ نوجوان دانشمند ہیں اور اُن کے پاس پوری توانائی ہے کہ وہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے دُنیا میں مضحکہ خیز تبدیلی لا سکتے ہیں ۔ نوجوان دکھوں کو خوشی میں بدلنے کی یکسر طاقت اور جذبہ رکھتے ہیں۔ اور ایسے نوجوان راتوں میں نور پھیلانے والے ستاروں کی مِثل ، اَندھیروں میں اُجالا کرنے والے چراغ اور ایسے گلاب کی مانند ہیں ۔جو اپنی مہک سے ساری محفل کو فرحت اور تازگی بخشتے ہیں۔نوجوان اِتحاد اور یگانگت کی روشن مثال ہیں۔سالمیت کی دلیل ہیں ۔نیک جذبات ،اچھے خیالات ، مثبت سوچ اور پختہ عزم کے دائی ہیں۔ سمندر کی طرح گہرے اور شاہین کی مانند اپنی پرواز بُلند رکھتے ہیں۔ موسم ِ خزاں میں بہار کا سندیسہ ہیں۔ ملک و قوم کی ترقی کا داروامداد نوجوانوں کی مرہونِ منت ہے۔نوجوان اپنی خدا داد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایسے حیرت انگیز کرشمے کر جاتے ہیں کہ اِنسانی آنکھ دنگ رہ جاتی ہے۔ نوجوان بیساکھیوں کے سہارے چلنے والی قوم کو اُس کے اپنے پائوں پر کھڑاکرنے کا فریضہ بڑی خوش اسلوبی سے سرا نجام دیتے ہیں۔ یہی نوجوان ملک و قوم کے روشن مستقبل کی ضمانت ہوتے ہیں۔ نوجوان کے خواب اُسی وقت شرمندۂ تعبیر ہو سکتے ہیں ۔جب اُن کو ایک دوسرے کا تعاون حاصِل ہو گا۔پاکستا ن میں نوجوانوں کا سال منا نے کا مقصد نوجوانوں کی صلاحیتوں کا اُجاگر کرنا ۔ اُن کی سننا اور اُنہیں متحرک کرنا ہے۔ کیونکہ وہ محض برائے نام کے مسیحی نوجوان نہیں بلکہ وہ ایسے تند ارجمند ہیں جن میں انجیلی اقدار موجود ہیں ۔ جوترقی کی راہ میں کسی بھی سنگِ میل کا کردار اَدا بھی کرتے ہیں۔ نوجوان کسی بھی پیرش میںنوجوان ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ نوجوان اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مسلسل ترقی کی منازل طے کرتے جاتے ہیںآنے والی نوجوان نسلیں رہنما، نیک نمونہ اور قوموں کی مثالی قیادت ہیں۔ نِت نئی دُھنیںمرتب کرنے والے موسیقار بھی ہیں ۔ایسے بہادر تیراکو ہیں جو طلاطم خیز موجوں کا سامنا سینہ تان کر کرتے ہیں ۔کہتے ہیں کہ جس قوم کے نوجوان بے دِل ہو جائیں وہ قومیں کبھی بھی ترقی کی طرف اپنا قدم نہیں بڑھا سکتیں۔ایسی قوموں کا مستقبل بھی تاریک ہوتا ہے۔ زندہ دِل قوموں کے نوجوان اُمید کے نقیب بھی کہلاتے ہیں۔ نوجوان ایسے کوہِ پیماں ہیں جودُنیا کی سب سے بڑی مائونٹ ایورسٹ کی چوٹی پر فتح کا عَلم لہراتے ہیں۔ ایسے بُلند اُفکار رکھنے والے روشن خیال ہیں جو چاند، سیاروں ،ستاروں پر کمندیں ڈال چکے ہیں ۔ نوجوان اپنے بُلند خیالات اور اعلیٰ عزائم کی بدولت قوم اور ملک کی قسمت بدل سکتے ہیں۔اور مذہبی اور روحانی سر گرمیوں کے وسیلہ سے یسوع کے عظیم مشنری بن سکتے ہیں۔

نوجوان دُنیاوی فیشن نہیں بلکہ بائبل کا فیشن اپنائیں۔
آج کا نوجوان دُنیاوی نمودو نمائش اور آسائشات میں سکون تلاش کر رہاہے۔ نت نئے فیشن اور ماڈل کو اپنا کر اپنا حقیقی فیشن اور ماڈل ہی کھو دیا ہے۔ ایسے نوجوان جنہیں نئی کرن بن کر معاشرے میں احساسِ محرومی کے اندھیروں کو مٹانا تھا۔ وہ خود اِس اندھیرئے کے ساتھ بن گئے ہیں۔ایسے نوجوانون جنہیں دوسروں کے لئے مثال بننا تھا وہ دوسروں کے لئے زوال بن گئے ہیں۔ بہت سارے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے فلمی دُنیا کو اپنا ماڈل بنا لیا ہے۔ ایسی صورتحال میں پوپ فرانسس کا نوجوانوں سے متعلقہ مراسلہ ،دعوت دیتا ہے کہ ’’Do not be a photocopy of somebody elese be more of yourself‘‘ ۔ ضرورت اِس امرکی ہے کہ فیشن پرستی ، نشہ بازی اور دیگر غیر اخلاقی سرگرمیاں چھوڑ کر بائبل کا فیشن اپنائیں۔ جو خدمت کروانے نہیں بلکہ خدمت کرنے کا ہے۔ جو سامری کی طرح نفرت کا نہیں بلکہ محبت ہے۔ جو پتھر مارنے کا نہیں بلکہ معاف کرنے کا ہے۔ جو بھوکوں سے روٹی چھیننے کا نہیں بلکہ روٹی بانٹنے اور توڑنے کا ہے۔جو طوفان میں ڈبونے کا نہیں بلکہ بچانے کا ہے۔ جو اسیری اور غلامی کا نہیں بلکہ آزادی کا ہے۔ جو دکھوں سے بچنے کا نہیں بلکہ دکھوں میں کامل رہنے کا ہے۔ جو موت کا نہیں بلکہ زندگی دینے اور بانٹے کا ہے۔ نوجوانوں کو اِس رنگ میں ڈھالنے کے لئے مذہبی راہنما۔ والدین ۔ اُساتذہ۔ مناد صاحبان۔ چرچ کے مختلف گروہ اپنا کلیدی کردار ادا کریں تاکہ نوجوان بائبل کی ثقافت اور بائبل کے فیش کی طرف راغب ہوں اور 21ویں صدی کے اِس جدید دور میں نوجوانوں کے لئے مذہبی ۔ ثقافتی۔ معاشرتی اور اخلاقی تربیت کا بہترین بدوبست ہو سکے۔ ضروری ہے کہ آج کا مسیحی خُداکا چہرہ اور روپ ہوتے ہوئے بائبل کی ثقافت کو اپنائیں، انجیلی اقدار کے فروغ کے لئے اپنے بپتسمائی بلاوئے کا جواب دیں اور اپنی پہچان آپ بنیں۔

مقدس پال جان پال دوم فرماتے ہیں کہ ’’نوجوان اِسی لئے بلائے گئے ہیں تاکہ وہ اپنے کاتھولک مسیحی ایمان کی گواہی دیں‘‘۔جس طرح خُدا کو نجات کے کام کی تکمیل کے لئے مقدسہ مریم کی ہاں کی ضرورت تھی بالکل کلیسیاء کو بشارتی و رسالتی کا موں کے لئے نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ اِسی لئے پوپ فرانسس اپنے مراسلہ(Christus Vivit) میں فرماتے ہیں کہ ’’ نوجوانوں کو چاہیے کہ اب وہ اپنے جال مچھلیاں پکڑنے کے لئے ڈال دیں ‘‘۔ ایسے نوجوان جو اب تک ایمان کی تشہیر اور گواہی کے لئے خالی جال لیئے بیٹھے ہیں دورِ حاضر میں اب وقت ہے کہ وہ انجیل کی بشارت اور خوشخبری کے لئے اپنے بپتسمائی وعدوں کا جواب دیں۔ جس کاسب ذیادہ موثر اور بہتر طریقہ اپنے اپنے مقامی گرجاگھروں کی خدمت کرنا ہے۔ یہ خدمت صرف گرجہ گھر میں صفائی ستھرائی تک ہی محدود نہیں بلکہ گرجہ گھر کی مکمل سرگرمیوں میں حصہ لینے سے پائے تکمیل کو پہنچتی ہے۔ نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ قاری۔ الطار کے خادم۔ یوخرستی خادم۔ پیرش کونسل۔ پیرش انتظامیہ۔ پیرش سکیورٹی ۔ پیرش یوتھ گروپ۔ کوائر۔ سنڈے سکول۔ دُعائیہ شفائیہ گروپ اور انجیل کی تبلیغ اور بشارت میں بھی اپنے کاہنوں کے معاون ہوں۔ یہ عمل محض وقتی یا فرضی نہ ہو بلکہ اِس میں تسلسل اور شراکت ہو۔ تاکہ زندہ خُدا کے چہرے کی ہمیشگی ظاہر ہوتی رہے۔ آمین۔



جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں